Khawaja Sag Parast

خواجہ سگ پرست

پیر ستمبر

Khawaja Sag Parast


پیپلز پارٹی کے خواجہ نصر الدین یعنی شیخ رفیق کو ہم نے جب بھی دیکھا ‘کھاتے دیکھا یا بولتے ہوئے۔ان کی باتیں باسر وپا ہوتی ہیں یعنی ان میں بھی سری پایوں کی لذت ہے ۔اسی لیے دیر سے ہضم ہوتی ہیں ۔جیسے ان کایہ بیان کہ اگر میرے کتے کاووٹ ہوتا تو مجھے ہی ووٹ ڈالتا ۔اگر چہ یہ جملہ شیخ صاحب سے کہیں زیادہ کتے کی تعریف میں ہے ۔ہاں اگر کتا خود کہتا کہ میں شیخ صاحب کو ووٹ دوں گا تب شیخ صاحب اس پر فخر کرسکتے تھے ‘جیسے سلمان رشدی نے اپنی کتاب Imaginary Homelandمیں لکھا ہے :”اگر مجھے ووٹ دینا ہوتا میں بے نظیر بھٹو کے حق میں ووٹ دیتا ۔

“شیخ رفیق صاحب سگ رفیق ہیں ۔ویسے بھی انسان کتے کا بہترین ساتھی ہے ۔شیخ صاحب کا کتابڑا ذہین ہے جس کی ذہانت کے ہم اسی دن قائل ہو گئے تھے جس روز اس نے شیخ رفیق کو کاٹ لیا تھا ۔

(جاری ہے)

بقول شخصے کتے نے ان کا اخبار میں ایک بیان پڑھ لیا تھا۔ بہرحال شیخ صاحب فرماتے ہیں کہ ان کا کتا اس قدر ذہین ہے کہ ان کے گھر پجارو والے آئیں تو ان کا بڑا احترام کرتا ہے ۔

کوئی عام گاڑی میں آئے تو اسے ایک نظردیکھ کر سر جھکا لیتا ہے ۔کوئی موٹر سائیکل والا آئے تو اس پر خوب بھونکتا ہے ۔اگر کوئی پیدل آجاتے تو اسے کاٹنے کو دوڑتا ہے ۔اگر چہ اس سے تو یہی لگتا ہے کہ سگ رفیق پہلے ٹریفک پولیس میں رہا ہے ۔اس حساب سے تو شیخ صاحب کا اپنے گھر میں پید ل پھر نا مشکل ہو گیا ہو گا۔ویسے تو وہ گاڑی میں بیٹھے ہوئے بھی ”پیدل “ہی لگتے ہیں ۔

سیاست دان اور اداکار کتوں کے بڑے فیورٹ ہوتے ہیں ۔بعض سیاستدانوں کے گھر جاؤتو ان کے ہاں آپ کو کتے نظر آتے ‘لیکن ان کے روےئے سے لگتا ہے کہ ان کے ہاں ہیں ضرور۔سابق صدر بش کا کتا تو ان کے بقول کلنٹن سے زیادہ خارجہ پالیسی پر بول رہے ہوں تو دوسرے سمجھتے ہیں بیمہ پالیسی پر بات کر رہے ہیں ۔سپارماڈل سینڈی کر افورڈ تو وال کلیمر کے ساتھ اپنی ”عبور شادی “میں اس شرط پر رہ رہی ہے کہ اگر اس کے تین کتے ‘ایک بلی اور ایک گھوڑا اول کے کتوں ارسور کے ساتھ مفاہمت کر لیں تو وہ شادی کرلیں گے۔

ہم بھی اس حق میں ہیں کہ حیوانات کے ساتھ انسانی سلوک نہیں ہونا چاہیے ۔سیاست دانوں کو انہیں اپنی تقریر نہیں سنانا چاہئیں ۔ایک زمانے میں کتا گیتوں والے ریکارڈ پر بیٹھا گیت سنا کرتا تھا ‘جس پر لکھا ہوتا تھا :”ہنرماسٹر زوائس “پھر ایسے ایسے گانے والے آئے کہ کتا ریکارڈوں سے غائب ہو گیا ۔اسی وجہ سے کئی کتے سیاست دانوں کے گھروں سے بھی غائب ہوئے ‘لیکن شیخ رفیق کا کتا بڑاکتا نکلا۔

وہ سیاست بھی سمجھتا ہے ۔شیخ صاحب کو سیاست اپنے کتے سے بھی زیادہ عزیز ہے ۔ خود فرماتے ہیں سہاگ رات کو کمرہ عروسی میں جاکر اپنی اہلیہ فردوس رفیق سے پوچھا :”نواب ممدوٹ کو جانتی ہو؟“اس نے کہا:”ہاں ۔“تو شادی چلی۔جب پنجاب میں نظامی مصطفی کے بجائے نظام مصطفی کھر تھا ‘ان دنوں شیخ رفیق کے ایک اور درکرنے سہاگ رات کو کمرہ عروسی میں جا کر بیوی سے پوچھا:”کھر کو جانتی ہو”تو محترمہ لے موصوف کو حجلہ عروسی سے باہر نکال دیا اور صبح ہوتے ہی طلاق لے لی کہ تم نے آخر مجھے سمجھا کیا ہے ؟شیخ رفیق صاحب گھریوں چلاتے ہیں جیسے پارٹی چلا رہے ہوں ۔

کھانا خود پکاتے ہیں ۔روزانہ صبح اٹھ کر دس فٹ کی بلندی سے چھلانگ لگاتے ہیں ۔ہم نے جب بھی ان کا بیان پڑھا‘ہمیں یہی لگا وہ روزانہ کافی بلندی سے نیچے گرتے ہیں ۔معصوم آدمی ہیں ‘سنا ہے ایک بار کسی عرب ملک گئے تو آکر بتانے لگے ہیں وہاں اتنا مشہور ہوں کہ ابھی اےئر پورٹ سے باہر ہی نکلا تھا کہ ٹیکسی ڈرائیور نے دور سے مجھے پہچان کر میرا نام لے کر بلانا شروع کردیا۔

“رفیق ! یا رفیق !“بازار گیا تو بیشتر دکاندار مجھے پہچان کر میرا نام لے کر مجھے بلاتے رہے ۔شیخ صاحب فرماتے ہیں :”میری فٹنس کا راز یہ ہے کہ میں نے اڑھائی سال تک والدہ کا دودھ پیا۔اس دوران میں چلااور نہ ہی بولا۔میری والدہ کہتیں کہ ا س کی پیدائش کا کوئی فائدہ نہیں ۔والدہ مجھے ایک پیر کے پاس لے گئیں جس کی دعا سے میں نے بولنا شروع کر دیا اور یہ سلسلہ آج تک نہیں رکا۔

آج میں اس پیر کو ڈھونڈ رہا ہوں کہ میرا بولنا بند ہو۔“وہ ہی کیا ہم بھی اس پیر کو ڈھونڈ رہے ہیں ۔شیخ صاحب کی ناک بھی ایسی ہے کہ اتنی دکھائی نہیں دیتی جتنی سنائی دیتی ہے ۔وہ کاغذی مقرر نہیں ‘اصلی مقرر ہیں ۔کاغذی مقرر وہ ہوتا ہے جس کے پاس جب کا غذ ختم ہوجاتے ہیں ‘تو پتہ چل جاتا ہے کہ اس کی تقریر ختم ہو گئی ہے اور اصلی مقرر وہ ہوتے ہیں جن کے بارے میں خود یا خداہی جانتا ہے وہ کب بات ختم کریں گے۔ہو سکتا ہے شیخ صاحب کتوں کے ووٹ بنوانے کی کوشش کریں لیکن ڈرہے مصطفی کھر اور شیخ صاحب ان کی نمائندگی سے محروم رہ جائیں گے کیونکہ سیاست بڑا کتاکام ہے ۔اس میں تو لوگ یہ جاننے کی کو شش بھی نہیں کرتے کہ کوئی کیوں بھونک رہا ہے ۔ بس وہ اسے کتے کانام دے دیتے ہیں ۔

Your Thoughts and Comments