Khawateen Ki Haq Talfi

خواتین کی حق تلفی

جمعرات اپریل

Khawateen Ki Haq Talfi

تحریک ِآزادی ٔ نسواں کی علمبردارخواتین سے امریکہ میں تو میری مڈبھیڑ ہوتی رہتی تھی اور ان سے علمی مباحثے بھی ہوتے تھے مگرپاکستان میں کبھی ان سے دوبدُو ملاقات نہیں ہوئی۔ اگرکبھی کسی کے بارے میں بتایا بھی گیا کہ یہ محترمہ عورتوں اور مردوں کےمساوی حقوق کی مبلغ ہیں تو صرف دو تین بارشرف ملاقات حاصل ہونے پر یہکھلا کہ موصوفہ مردوں سے برابری کے حقوق کی طلبگار تو ہیں مگر وہ توقع رکھتی ہیں کہ مرد اُن سے اٹھ کر ملیں ،ان کے لئے نشست خالی کریں، ان کے لئے کار کا دروازہ کھولیں، ان کی کسی درشت بات کا جواب درشت لہجے میں نہ دیں حتیٰ کہ گالیاں کھا کے بھی بے مزا نہ ہوں۔

یہ ساراشاخسانہ مردوں اورعورتوں کی برابری کا ہے مگر مردوں کی ’’شوہری‘‘نے دیکھتے دیکھتے انہیں’’شوفر‘‘ کے مرتبے پر فائز کردیا اور ظاہر ہے:
یہ رتبہ بلند ملا جس کو مل گیا
بھلا میرے اور آپ کے حسد کرنے سے کیا ہوتا ہے اوراب اگر سچ پوچھیں تو یہ سب باتیں جو میں نےکی ہیں محض اپنے باتونی ہونے کی وجہ سے کی ہیں کیونکہ کہنا میں صرف یہ چاہتا ہوں کہ عورتوں کے حقوق کے لئے لڑنے والی خواتین عورتوں کے ساتھ ہونے والی کیسی کیسی ناانصافیوں کے خلاف احتجاج کرتی رہتی ہیں مگر ایک ناانصافی کی طرف ان کا دھیان کبھی نہیں گیا اور یہ ناانصافی خواتین کو مخاطب کرنے کےضمن میں ہے۔

(جاری ہے)

اس کی وضاحت کچھ یوں کی جاسکتی ہے کہ کسی مرد کو اگر خط میں مخاطب کرنا ہو تو اس کے لئے کتنے ہی لفظ ہیں مثلاً مکرمی محترمی، عزیز دوست، قبلہ و کعبہ، حضور والا، برادرم اور پیرومرشد وغیرہ۔ اگریہ لفظ کم پڑ جائیں تو محمد طفیل کے خاکوں کی کتابوں سے بھی مدد لی جاسکتی ہے۔ جن کے نام غالباً اس مشکل کو آسان کرنے ہی کے لئے رکھے گئے ہیں جبکہ عورتوں کو مخاطب کرنے کےلئے ایسے لفظوں کا سخت قحط ہے۔

مثلاً اگر انہیں مکرمی کے مقابلے میں مکرمہ کہنے کی کوشش کی جائے تو دھیان مقدس مقامات کی طرف چلا جاتا ہے۔ محترمی کے جواب میں انہیں محترمہ کہا جائے تو ہماری فلموں میں ہیرو کی زبان سے ’’محترمہ‘‘ کے لفظ کا استعمال جس طرح ہوتا ہے اس کے پیش نظر محترمہ کہنے کے بعد باقاعدہ ڈائیلاگ بولنے کو بھی جی چاہتا ہے۔ اسی طرح ایک عزیز دوست کے جواب میں ’’عزیز سہیلی‘‘ کےالفاظ خواتین تو اپنی سہیلی کو لکھ سکتی ہیں مگر وہ جو اس ذیل میں نہیں آتے یہ لفظ لکھنے سے ان کی سیکس خطرے میں پڑ جاتی ہے۔

اب قبلہ و کعبہ نہیں کہہ سکتے، ’’قبلی و کعبی‘‘ ہی کہہ سکتے ہیں البتہ برادرم کے جواب میں ’’بہن جی‘‘ لکھا جا سکتا ہے مگراس تخاطب سے یوں لگتا ہے کہ جیسے بانو بازار میں کسی پراندے بیچنے والے نے آواز لگائی ہو، باقی رہا پیرومرشد کہنے کا مسئلہ تو اسے اگرکوئی ’’پیری و مرشدی‘‘بنا کر سمجھے کہ اس نے زبان اور اپنے مخاطب کے ساتھ انصاف کیا ہے تو اس کی سز ا وہ خود پائے گا کیونکہ کسی خاتون کو پیری کا طعنہ اپنے رسک ہی پر دیاجاسکتا ہے۔

ہاں ایک لفظ آنجنابہ بھی ہے مگر نہ جانے کیوںمجھے اس کی سائونڈ طنزیہ سی لگی ہے اور یوں محسوس ہوتا ہے کہ کسی کو مخاطب کرنے کی بجائے طعنے مارے جارہے ہوں۔ بلکہ یہ آنجنابہ تو مجھے کوئی آنجہانی قسم کی چیز لگتی ہے سو اب یہ گیند حقوق نسواں کی علمبردارخواتین کی کورٹ میں ہے۔ اگر وہ جذبہ ٔ صادق رکھتی ہیں تو انہیں چاہئے کہ وہ اولین فرصت میں لفظوں پرمردوں کی اس اجارہ داری کے خلاف آواز اٹھائیں۔


حقوق نسواں کی علمبردار خواتین کو اس اہم مسئلے کی طرف متوجہ کرنے کی وجہ یہ ہے کہ دراصل اس کے پس منظر میں مرد کی استعماری فطرت جھلک رہی ہے اوروہ استعماری فطرت یہ ہے کہ وہ عورت کو صرف ایک مقام دینے کے لئے تیار ہیں اور یہ مقام وہ ہے جو تصویر میں رنگ کا ہوتا ہے چنانچہ اس خیال کی تشریح و تفسیر سے دیوان بھرے ہوئے ہیں۔ آپ دیکھ لیں کہ تمام شاعر غزل کا موضوع صرف محبوب کو بناتے ہیں بیوی کو یعنی اپنی بیوی کو کبھی نہیں بناتے۔

چنانچہ آج تک مولانا حالیؔ اور عارف عبدالمتین کے علاوہ کسی کو توفیق نہیں ہوئی کہ وہ اپنی شاعری میں بھی بیویوں کے حقوق پورے کرتے۔ یہ بات درمیان میں دراصل ایک اور بات کہنے کے لئے آگئی ہے اوروہ بات یہ ہے کہ انہی شاعروں اور ان کے بھائی بندوں نے اپنے جذبوں کی تکمیل کے لئے تو کتنے ہی کومل الفاظ برائے مخاطب اختراع کئے ہیں مثلاً جان من،جان جانا ں اور ایسے ہی بیسیوں دوسرے الفاظ جن میں سے ہر ایک پر شرفا کے منہ سے لاحول ولاقوۃ نکلتا ہے مگر جونہی یہ رشتہ درمیان سے غائب ہوا یہ فصیح البیان گونگے بن کر رہ گئے اور ہمارے آپ کے لئے مکرمہ آنجنابہ ایسے طرز ِ تخاطب چھوڑ گئے۔

اس پر میں نے تو خیر کیا احتجاج کرنا ہے البتہ حقوق نسواں کی علمبردار بیبیوں سے ضرور گزارش ہے کہ وہ مردوں کی اس استعماری فطرت کے خلاف آواز اٹھائیں کہ اصلی خواتین تو یہی ہیں باقی بیچاری تو گائیں بھینسیں ہیں اورمیں انہیں یقین دلاتا ہوں کہ ان کی اس آواز میں میرے ایسے کتنے ہی نیک نفس مردوں کی آواز شامل ہوگی۔ یہ آواز میں براہ راست خود اٹھاتا مگر دانائوں نے کہا ہے کہ؎
جس کا کام اسی کو ساجھے
اور کرے تو ٹھینگا باجے

Your Thoughts and Comments