Khay

خ

سہیل عباس خان ہفتہ جولائی

Khay
پیارے بچو!! جی! شابش شابش!! ”خ“ سے خرگوش ہوتا ہے چونکہ اس کے گوش خر کی طرح ہوتے ہیں، لیکن یہ کیا بات ہوئی کہ آج تک اہل زبان نے اس کا اصل نام تلاش کرنے کی کوشش ہی نہیں کی۔ زبان کے اسی چسکے نے اب خرگوشت پیدا کر دیا ہے، سنا ہے اس کا ذائقہ میٹھا ہوتا ہے، ظاہر ہے چکھ کے بتایا ہوگا۔ ”خ“ سے خربوزہ ہوتا ہے، سنا ہے یہ دوسرے کا رنگ پکڑتا ہے، ہم پاکستانی اس معاملے میں رنگوں میں خود کفیل ہیں۔

اس لیے اب ہمیں رنگون نہیں بھیجا جاتا بلکہ سعودی عرب ہمارا کفیل ہوتا ہے۔ اس لیے کئی شریف زرداروں کا رنگ پکڑ رہے ہیں۔ ”خ“ سے خرکار بھی ہوتا تھا، اب اسے سرکار کہتے ہیں۔ ”خ“ سے خر دماغ بھی ہوتا ہے، وہ تو ہم ہیں ہی، آپ اسے بھی خرگوشت کی کرامت سمجھ سکتے ہیں۔ ”خ“ سے خرمستی بھی ہوتا ہے، ہم جب مست ہوتے ہیں تو یہ تب ہوتی ہے، اس کا اثر ملنگ سے وزیراعلیٰ تک ہوتا ہے، اوپر بھی ہوتا ہوگا لیکن ابھی تک وہاں عوام کی رسائی نہیں۔

(جاری ہے)

آپ کہیں گے یہ ہمارے اعصاب پہ خر کیوں سوار ہے، ویسے تو عورت ہی سوار ہے لیکن ہر کامیاب عورت کے پیچھے کسی نہ کسی خر کی آئی ڈی ہوتی ہے، یہ فیس بکی فیشن ہے۔ اس میں پاکستانیوں نے وہ وہ جدتیں دکھائی ہیں کہ پوری دنیا خر خر کر رہی ہے۔ ”خ“ سے خاکسار بھی ہے لیکن اس خاکسار کو کوئی خاکسار مانتا نہیں ہے۔ ”خ“ سے خاکی ہوتا ہے، اس کا تعلق خاک سے نہیں وردی سے ہے۔

آپ سے خاموش رہنے کی استدعا ہے، ورنہ خارش کرنے کا بھی موقع نہیں ملے گا۔ ”خ“ سے خط بھی ہوتا ہے، ابن انشاء نے اس کی اقسام اس وقت بیان کی تھیں جب فیس بک نہیں تھی، اب فیس بک پہ اس کے مختلف نام ہیں، ان باکس، ٹیگ، فرینڈ ریکویسٹ، لائک، کمنٹ وغیرہ وغیرہ ”خ“ سے خالی بھی ہوتا ہے، ویسے تو ہم سب اندر سے خالی ہیں، پرانے زمانے میں جس حرف پہ کوئی نقطہ نہیں ہوتا تھا اسے خالی کہتے تھے، اب جس میں کوئی نکتہ نہ ہو اسے خالی کہتے ہیں۔

”خ“ سے خبردار ہوتا ہے۔ پرانے زمانے میں جس کے پاس کوئی خبر ہوتی تھی اسے خبردار کہتے تھے، اب جسے کچھ خبر ہو اسے خبردار کہتے ہیں۔ ”خ“ سے خشخاش ہوتا ہے، پرانے زمانے میں اس سے سردائی بنائی جاتی تھی۔ اب اس سے ہیروئن بنائی جاتی ہے، آپ جو ہیروئن سمجھ رہے ہیں اگرچہ وہ بھی کافی نشیلی ہوتی ہے، لیکن اس پہ پابندی نہیں ہے۔ ”خ“ سے خناس بھی ہوتا ہے جو عموماً دماغ میں سمایا ہوتا ہے۔

لیکن اس کے لیے کافی کوشش کرنا پڑتی ہے، سی ایس ایس کرنا پڑتا ہے، کمیشن حاصل کرنا پڑتا ہے، ووٹ حاصل کرنا پڑتا ہے۔ عوام کی آسانی کے لیے اسے فیس بک فراہم کر دی گئی ہے تاکہ وہ اس سہولت سے فائدہ اٹھا سکیں۔ ”خ“ سے خیر بھی ہوتی تھی، کبھی ہوتی ہوگی، ہم تو خیر ہے کہہ کے گزارہ کرتے ہیں۔ ”خ“ سے خانساماں بھی ہوتا ہے، آپ یہ نہ سمجھیں جس خان کے پاس سامان ہو وہ ہوگا۔ پرانے زمانے میں ایسا ہوتا تھا، اب نہیں ہوتا۔ ”خ“ سے خیریت بھی ہوتی ہے جو پرانے زمانے میں نیک مطلوب ہوتی تھی۔ پیارے بچو اللہ آپ کو خیر خیریت سے گھر لے جائے، خودکش سے بچائے۔ جاوٴ شابش۔

Your Thoughts and Comments