Khotay Aur Kharay

کھوٹے اور کھرے سکے!

اتوار اپریل

Khotay Aur Kharay
ہمیں اپنے بچپن کا زمانہ یاد ہے۔ دکاندار کھوٹے اور کھرے سکوں کی پڑتال میں خاصی جانفشانی سے کام لیا کرتے تھے آنہ دونی چونی اوراٹھنی کا سکہ قبول کرنے سے قبل با قا عد و تحقیقاتی کمیشن بٹھایا جاتا جوخور دکاندار پر مشتمل ہوتا۔ وہ سکے کو رد یا قبول کرنے کا فیصلہ کرتا اور اس فیصلے کے خلاف اپیل دائر نہیں کی جاسکتی تھی۔ ہمارے محلے کی نکڑ پر ایک بوڑھے پنساری کی دکان تھی۔

ظاہر ہے اس کی نظر بھی اس وقت خاصی کمزور ہو چکی تھی چنانچہ محلے کے بچے اور نوجوان کھوٹے سکے چلانے کے لیے اسی کی دکان کا رخ کرتے لیکن کچی گولیاں وہ بھی نہیں کھیلا ہوا تھا چنانچہ وہ ایک آنکھ میچ کر سکے کو اپنی دوسری آنکھ کے قریب لاتا اور اسے گھما گھما کر یوں دیکھتا جیسے گھڑی کے پرزوں کا معائنہ کر رہا ہو۔

(جاری ہے)

اگر یہ سکہ کھرا ہوتا تو اپنے گلے میں ڈال لیتا اور اگر کھوٹا ہوتا تو اسے گھما کر سڑک پر پھینکتا جولڑھکتاہوانالی میں جا گرتا ۔

ہمیں یاد ہے کہ کچھ دکانداروں نے چھوٹے چھوٹے مقناطیس بھی رکھے ہوئے تھے وہ سکے کو گلے میں ڈالنے سے پہلے مقناطیس کے قریب لے جاتے اگر مقناطیس اسے اپنی طرف کھینچتا تو یہ بھی اسے قبول کر لیتا بصورت دیگر ایمانداری پر ایک ہلکا پھلکا سا لیکچردے کر اس نوسربات کو یہ سکہ واپس کردیتے جو اسے چلانے کی کوشش کر رہا ہوتااپنے محلے کا ایک اور دکاندار بھی ہمیں یاد ہے وہ چونی گلے میں ڈالنے سے پہلے دکان کے فرش پرلڑھکا کر دیکھا کرتا اگر اس سکے کی چال بلکہ چال چلن درست ہوتا تو اسے قبول کر لیتا بصورت دیگر اس کا رخ گا ہک کی سمت کر کے اسے دوبارہ فرش پر لڑھکا دیتا۔

یہ فرش والی تکنیک اسے اس لئے برتنی پڑتی کہ کچھ ماہرین فن ایک آنے کے سکے کو سارا ہفتہ فرش پر رگڑنے کے بعد اس کے کنارے گول کرتے اور پھر چونی ظاہر کر کے کسی کمزور نظر دکاندار کے پاس چلانے کی کوشش کرتے لیکن چونی“ ایسی تھی کہ جو فرش پرلڑھکانے کی صورت میں اپنی چال کی وجہ سے پکڑی جاتی تھی۔ ہمیں یاد ہے کہ جو سکہ پڑے پڑے کالا ہو جاتا تھا دکاندار اسے بھی قبول کرنے سے انکاری ہوتے تھے چنانچہ اس کی کالک اتارنے کے لیے اسے ریت کے ساتھ چمکانا پڑتا تھا مگر جو کا کالک ایکدفعہ لگ جائے وہ کہاں اترتی ہے۔

چنانچہ یہ روسیاہ سکے بھی دکانداروں کی بارگاہ میں قبول نہیں ہوتے تھے !
یہ کھرے اور کھوٹے سکوں کی یاد ہمیں اسی لئے آئی ہے کہ آج کے دکانداروں دس پیسے پچیسں پیسے کے سکے کو درخور اعتنا ہی نہیں سمجھتے بس اندھا دھند وصول کرتے جاتے ہیں اور بغیر جانچ پڑتال کئے اسے اپنے گلے میں پھینک دیتے ہیں۔ ہم نے اس کی وجہ معلوم کرنے کی کوشش کی تو اس نتیجے میں پہنچے بلکہ ان نتجیوں پر پہنچے کہ ان دنوں بازار میں کھوٹے سکے ہیں ہی نہیں۔

چنانچہ آج کا دکاندار آنکھیں بند کر کے ہر سکے کو قبول کر لیتا ہے۔دوسرانتیجہ ہم نے یہ اخذ کیا کہ پہلے ان عوام الناس قسم کے سکوں کی کچھ قدر و قیمت ہوتی تھی چنانچہ دکاندار کو بڑی سوچ و بچار کے بعد انہیں رد یا قبول کرنے کا فیصلہ کرنا پڑتا تھا جبکہ آج کل لوگوں کے پاس پیسہ بہت آ گیا ہے چنانچہ چونی اٹھنی کی کوئی قیمت ہی نہیں رہی‘ اور یوں دولت کی اس ریل پیل میں بے شمار کھوٹے سکے بھی کھرے سکوں میں شمار ہونے لگے ہیں۔

ایک نتیجہ ہم نے بھی اخذ کیاکہ لوگ اب چھوٹے موٹے فراڈنہیں بڑے بڑے فراڈ کرتے ہیں۔ اس طرح لوگوں کی احتساب نظربھی نچلی سطح کے نوسربازوں کی بجائے اعلیٰ سطح کے نوسر بازوں پر پڑتی ہے۔ ایک اعلی سطح نوسرباز نے پندرہ پندرہ روپے کے جعلی نوٹ تیار کئے اور اپنے کارندوں سے کہا کہ انہیں دیہات میں پھیلاوٴ کیونکہ شہر کی نسبت دیہات کے لوگ سادہ لوح ہوتے ہیں اور یوں انہیں بے وقوف بناناا آسان ہوتا ہے ایک کا رندہ
یہ نوٹ لے کر کسی گاوٴں میں پہنچا اور لاٹھی ٹیکتی ہوئی ایک بوڑھی عورت کو پندرہ کا نوٹ دے کر اس سے بھان مانگا۔

بوڑھی عورت نے نوٹ پکڑا اور جیب میں ہاتھ ڈال کر ساڑھے سات سات کے دونوٹ اس کو تھما دیئے۔ سو صورت حال اب وہی ہے جو اقبال نے
خداوندا یہ تیرے سادہ دل بندے کدھر جائیں
کہ درویشی بھی عیاری ہے سلطانی بھی عیاری
والے شعر میں بیان کیا ہے۔ یعنی سلطانی تو عیاری تھی ہی اب درویشی میں بھی عیاری آ گئی ہے۔
اور اب اگر ہم اپنی ساری گفتگو میں سے کوئی نتیجہ نکالنے کی کوشش کریں تو ہماری یہ کوشش سراسر سادہ لوئی میں شمار ہوگی کیونکہ شفیق الرحمان نے اپنی ایک کہانی کے آخر میں لکھا ہے کہ پیارے بچو! اس کہانی سے نتیجہ یہ نکلا کہ ضروری نہیں ہر کہانی کا کوئی نتیجہ بھی ہو“ - سونتیجہ تو نہیں البتہ ہم اپنی اس خواہش کا اظہار ضرور کر سکتے ہیں کہ کھوٹے سکوں کی پڑتال کا سلسل بھی ختم نہیں ہونا چاہیے۔

اگر کھوٹے سکے ہمارے زمانے میں تھے تو یہ آج بھی موجود ہوں گے۔ بس فرق یہ ہے کہ پہلے دکاندار سے مقناطیس سے پرکھتے تھے ایک آنکھ میچ کر اس کا جائزہ لیتے تھے اور اس پڑتال کے نتیجے میں اگر یہ سکہ کھرا ثابت ہوتا تو اسے چوم کر اپنے پاس رکھتے۔ بصورت دیگر اسے اٹھا کر گندی نالی میں پھینک دیتے۔
لیکن آج صورت حال یہ ہے کہ کھوٹے اور کھرے سکے دونوں دکاندار کے گلے میں موجود ہیں جہاں اسے کھوٹا سکہ چلانا ہو وہاں وہ کھوٹا سکہ چلا لیتا ہے اور جہاں کھرے سکوں کی ضرورت پڑے وہاں کھرے سکوں کو زحمت دی جاتی ہے۔ چنانچہ اب دکاندار کے گلے میں جو سکے ہیں ان میں گھسے ہوئے کناروں والا آنہ بھی ہے۔ جو چونی کی جگہ سنبھالے ہوا ہے۔ اور وہ روسیاہ سکے بھی جن کی کا لک اتارے نہیں اتر سکتی ہے۔

Your Thoughts and Comments