Khushbu Wali Shaeirah

”خوشبو “ والی شاعرہ

بدھ ستمبر

Khushbu Wali Shaeirah

اشفا ق احمد ورک
کہتے ہیں کہ ہماری نوجوان نسل کو وقت سے پہلے بالغ کرنے میں تین چیزوں کا ہاتھ ہے۔گرمی ‘غربت اور پروین شاکر۔اور انہیں دیر تک جوان رکھنے میں صرف موخرالذ کر کا۔اس کی ”خوشبو“آج بھی نوجوانوں کے دل ودماغ میں اس قدر رچی بسی ہوئی ہے کہ یہ ”خود کلامی “بھی کر رہی ہوتو لوگ سمجھتے ہیں کہ ہم کلامی کررہی ہے۔

اس کی آخری کتاب کانام”انکار“ہے ۔میرے دوست مسٹر الوکاکہنا ہے کہ اس کتاب کے پیچھے چھپی ہوئی تصویر دیکھ لی جائے تو یہ انکار بھی اقرار لگنے لگتا ہے ۔یہ چار کتابوں اور ایک بیٹے کی خالق ہے۔اس کا تخلیق سفر اب بھی جاری ہے مگر صرف کتابوں کی حد تک۔اگر نوجوان نسل ہماری قوم کا سرمایہ ہے تو یہ سرمایہ اس نے لوٹ لیا ہے اور اب تو اردو سمجھنے اور ڈائیلاگ بولنے والا ہر دوسرا نوجوان اس کی شاعری کا دیوانہ ہے اور ہر پہلا اس کا۔

(جاری ہے)

ویسے بھی اس کی شاعری کو سمجھنے کے لیے ذہین ہونا اتنا ضروری نہیں جتنا ضروری جوان ہونا۔اب تو سنا ہے کہ ڈاکٹر علاج کے لیے آنے والے نوجوانوں کو جن گرم چیزوں سے پرہیز کی ہدایت کرتے ہیں ان میں اس کی شاعری بھی شامل ہے ۔ہمارے ہاں ویسے بھی بچوں کو ملامت اور عورت کو ملائمت سے دیکھنا قابل مذمت سمجھا جاتا ہے ۔اس کے باوجود اس نے جن خواہشات کا اظہار شاعری کی زبان میں کیا ہے اگر اپنی زبان میں کرتی تو ایک ایک خواہش ایسی تھی کہ ہر خواہش پر ہزاروں کے دم نکلتے ‘یہی تو شاعری کا ایک بڑا فائدہ ہے کہ جو باتیں عام حالات میں چھپانے کے قابل ہوتی ہیں ‘شاعری میں وہ چھپنے کے قابل ہوجاتی ہیں ۔

اسے زبان (اردو زبان اور اپنی زبان)پر پوری گرفت ہے یہی کہ الفاظ و استعارات وحضرات اس کے سامنے ہاتھ جوڑے کھڑے رہتے ہیں جو چاہتی ہے لکھ دیتی ہے‘لوگ بھی وہی چاہتے ہیں جو لکھ دیتی ہے ۔مردوں نے پوری اردو شاعری میں جتنے سوال اور ستم اٹھائے تھے۔یہ ان کا جواب بن کے رہ گئی ہے ۔اتنی سی عمر میں اس نے اتنے کام کر لیے ہیں کہ حیرت ہوتی ہے کہ آگے چل کر یہ کیا کچھ نہیں کر ے گی۔

جب کہ مسٹر الو کاکہنا ہے کہ ایسے کام صرف اسی عمر میں ہو سکتے تھے۔یہ پہلی شاعرہ ہے جس نے ادب سے روپیہ بھی کمایا ہے وگرنہ ہمارے ہاں تو بڑے نامی گر امی شعر اء ادباء کی مالی حالت ایسی ہوتی ہے ‘جیسے مشرقی پنجاب میں نائیوں حجاموں کی۔اس کی آدھی کتابیں تصویر کی وجہ سے بکیں اور آدھی تصور کی وجہ سے (تصویر اس کی تصور لوگوں کا )کہتے ہیں کہ یہ پہلی عورت ہے جس نے خوبصورت شاعری کی ہے جب کہ مسٹر الو کہتا ہے کہ یہ پہلی خوبصورت عورت ہے جس نے شاعری کی ہے ۔

ہمارے ہاں بہت سی خواتین نے وقتی شادی کی خاطر جزو قتی شاعر ی کی قربانی دے دی۔اس نے ان کے الٹ کیا۔ہمارے نقادین کو آج تک سمجھ نہیں آئی کہ اسے کون سامقام دیں اس کے خاوند کے لیے بھی یہی مسئلہ تھا۔شاعری میں اس کا پسندیدہ ترین موضوع معاشرتی کشمکش ہے جس کی ایک بڑی وجہ یہ خود بھی ہے۔ہماری پوری اردو شاعری عورت کے گرد گھومتی ہے ۔پروین کی شاعری مرد کے گرد گھومتی ہے اور مرد اسکے ۔

اسے طلباء و طالبات کے نصاب میں شامل ہونے کو ابھی وقت لگے گا اور نصاب عشق سے نکلنے میں۔ اس نے ہرعورت کے جذبات کو زبان دے دی ہے جب کہ ہر جذباتی مرد اس سے زبان لینے کو تیار ہے کہتے ہیں اس اکیلی نے پوری عورت ”برادری “کی نمائندگی کی ہے ۔اس کے مداحین کی تعداد سے اس بات کی تصدیق ہوجاتی ہے ۔حضرت اقبال کو ہمیشہ یہ شکوہ رہا کہ ہند کے شاعر وصورت گرو افسانہ نویس کے اعصاب پہ عورت سوار ہے (حالانکہ اقبال خود ایک عرصہ تک محض ایک عد د پھول کے عطیہ سے فیض یاب ہونے پر باغ باغ ہوجایا کرتے تھے اور کائنات کی جملہ رنگینیوں کا سبب وجود زن کو ٹھہراتے رہے ‘وہ شاید یہ نہیں جانتے تھے کہ تخلیق کار مرد ہوتو اس کے ذہن پہ ایک وقت میں ایک عورت سوار ہوتی ہے ۔

لیکن اگر تحقیق کارہی بقلم خود عورت ہو تو وہ اکیلی ہر ایک کے اعصاب کیا سر پہ سوار ہوجاتی ہے اور پھر شاعر نے کہا ہے کہ” یہ درد سر ایسا ہے کہ سر جائے تو جائے․․․․․“ یہ تو ویسے بھی تسلیم شدہ حقیقت ہے کہ عورت گواہی میں آدھی ‘آگہی میں پوری گہرائی میں دو گنی اور گمراہی میں کئی گنا ہوتی ہے۔اسے”بنانے“میں خدا تعالیٰ اور احمد ندیم قاسمی کا خاصا ہاتھ ہے۔

۔۔شکل و شہرت ایسی کہ خاموش بھی ہوتو بولتی ہوئی لگتی ہے ۔ٹی ۔وی پہ ہمیشہ بال اور دل کھول کے آتی ہے ۔یہی وجہ ہے کہ شاعرہ کم شاعری زیادہ نظر آتی ہے ۔اس کی شاعری سچے جذبوں اور جھوٹے مردوں پہ محیط ہے۔شعروں میں اتنا خلوص اور اپنائیت ہوتی ہے کہ ہر بندہ سمجھتا ہے مجھ سے مخاطب ہے۔اس نے اپنی ایک کتاب کے انتساب میں لکھا” مراد تیرے نا م“ جسے پڑھ کے کئی اسم پھرے منزل مراد شادباد کے حصول کے لیے نامراد سے مراد بن بیٹھے ۔

انہیں بعد میں پتہ چلا کہ مراد اس کے بیٹے کانام ہے ۔اسے زعم ہے کہ اس نے کتابوں کے ساتھ ساتھ لوگوں کو بھی بہت پڑھا ہے ۔مسٹر الو کہتا ہے کہ اتنا اس نے لوگوں کو نہیں پڑھا جتنا لوگوں نے اسے پڑھا ہے ۔بڑے شاعر کا کمال یہ ہوتا ہے کہ وہ مردوں میں نئی روح پھونک دیتا ہے یہ بھی بڑی شاعرہ ہے (حاکم بد ہن عمر میں نہیں )اس نے بھی مردوں میں نئی روح پھونک دی ہے ۔

اس نے عورت کو مرد کے ساتھ شانہ بشانہ چلنے کا حوصلہ عطا کیا ہے اور نوجوان نسل میں اس قدر خود اعتمادی پیدا کر دی ہے کہ کل تک جو لڑکیاں ہر بات پہ ”وائی “یا ”ناٹ“کہتی تھیں اب صرف ”وائی ناٹ“کہتی ہیں ۔پہلی خاتون دیکھی ہے جو شادی کے بعد بھی اتنی ہی مقبول ہے بلکہ اب تو اس کے پاؤں کے نیچے جنت بھی ہے ‘لوگ اب بھی اس کے ساتھ دوزخ میں جانے کو تیار ہیں ۔

میں نے اسے بہت کم ہنستے ہوئے دیکھا ہے۔مردوں میں اس کی مقبولیت کے کئی اسباب ہیں ۔ایک سبب تو یہ ہے کہ یہ عورت ہے‘ دوسری‘ تیسری اور چوتھی وجہ بھی یہی ہے جبکہ ایک سبب یہ بھی ہے کہ اس نے اپنی شاعری میں عورت کو فطری خواہشات کے ساتھ پیش کیا ہے اور مسٹر الو کا کہنا ہے کہ عورت کوفطری خوہشات کے ساتھ دیکھنا ہر مرد کی فطری خواہش ہوتی ہے ۔

یہ اگر عورت کے بجائے کوئی ڈیپار ٹمنٹ ہوتی تو یقینا فائن آرٹس ڈیپار ٹمنٹ ہوتی۔مارکیٹ ہوتی تو لبرٹی ‘موسم ہوتی تو خزاں وبہار کا سنگم ہوتی‘دریا ہوتی تو چناب ‘روڈ ہوتی تو مال روڈ‘سیاستدان ہوتی تو بے نظیر ‘ثقافت ہوتی تو ہندی‘ نظام ہوتی تو جمہوریت کا ‘جسم کا کوئی عضو ہوتی تو دل‘ کوئی جذبہ ہوتی تو محبت ہوتی اور اگر انسان زندگی کا کوئی لمحہ ہوتی تو قیامت ہوتی۔

سائنس اور ادب دو بالکل مختلف میدان ہیں ۔اس نے دو متضاد سروں کو ملانے کی کوشش میں ایک ڈاکٹر سے شادی کرلی ۔ایک طرف دل ہی دل تھا اور دوسری طرف دماغ ہی دماغ ۔یہ عشق ومحبت سے دو چار‘ وہ دوا ور دوچار‘ اس نے اسے سمجھا نے کی بہتیری کوشش کی کہ۔
اچھا ہے دل کے پاس رہے پاسبان عقل
لیکن کبھی کبھی اسے تنہا بھی چھوڑ دے
اس بے ذوق نے اس جذبے کو بھی سائنسی انداز میں پر کھنے کی کوشش کی اور اسے ہی چھوڑ گیا۔

سچ ہے” احساس مروت کو کچل دیتے ہیں حالات “یہ بھی ہو سکتا ہے کہ اس نے اس کی ابتدائی شاعری میں مذکور ہجر و فراق کو حقیقی رنگ دینے کی کوشش کی ہو اور یا پھر یہ بھی ممکن ہے کہ تالی دونوں ہاتھوں سے بجی ہو کیونکہ اس کا اپنا موقف بھی تو ہمیشہ سے یہی رہا ہے کہ
یہ دل میسر و موجود سے بہلتا نہیں
کوئی تو ہو جو مری دسترس سے باہر ہو
اس کی شاعری آسودہ حال لڑکی کی خواہشوں اور غربت عورت کی حسرِ توں کی تصویر ہے ۔

”خوشبو“ میں ہمیں ایک الہڑا ور چنچل دو شیزہ من مانیاں کرتی ہوئی نظر آتی ہے۔”صدبرگ“ میں ایک حساس لڑکی کی آسو دہ ونا آسودہ خواہشات ”خود کلامی“ میں سوچ بچارکرتی ہوئی خاتون اور” انکار“ میں فیصلے صادر کرتی ہوئی عورت نظر آتی ہے ۔اس دنیا میں غزل کی وجہ آغا ز عورت اور عورت کی وجہ آغاز مرد ہے اور اب یہ تینوں ایک تیسرے کے لیے لازم وملزوم بن چکے ہیں ۔

اگر اردو شاعری کی تاریخ پر نظر ڈالیں تو مردوں کے ساتھ ساتھ خواتین شاعرات کی بھی کمی نہیں مگرا ن میں اکثر کے ہاں شاعرہ بولتی ہے تو عورت غائب ہوجاتی ہے اور عورت کی آواز سنائی دیتی ہے تو شاعرہ پس منظر میں چلی جاتی ہے ۔یہ پہلی خاتون شاعرہ ہے جس کے ہاں عورت اور شاعرہ قدم سے قدم ملا کر چلتی ہوئی محسوس ہوتی ہیں ۔

Your Thoughts and Comments