Kuch Wazero Ky Bary Main

کچھ وزیروں کے بارے میں

عطاالحق قاسمی منگل فروری

Kuch Wazero Ky Bary Main

زندگی اتنی مصروف ہوگئی ہے کہ اب اپنے بال بچوں کے لئے بھی وقت نہیں نکلتا باقی باتیں چھوڑیں جب سے کابینہ بنی ہے بچے کہہ رہے ہیں ابو ہمیں وزیر دکھاﺅ لیکن ہم ان کی یہ خواہش بھی پوری نہیں کرسکے بچوں پر ہی کیا موقوف خود ہم نے ابھی تک اپنی ہی خواہش پوری نہیں کی اس دوران وزیروں کے اعزاز میں دئیے گئے کئی استقبالیوں کے دعوت نامے موصول ہوئے ہم نے ہر بار جی میں ٹھانی کہ اس بار ضرور شریک ہوں گے مگر کوئی نہ کوئی مصروفیت آڑئے آئی اور یوں ہم وزیر صاحبان کے دیدار سے محروم رہ گئے ایک بار صبح صبح بیک وقت دو تین وزیروں سے ملاقات کی سبیل پیدا ہوگئی مگر ہم نے سوچا کہ نہار منہ ملنا مناسب نہیں نہار منہ ان کے جو بیانات پڑھ لیتے ہیں وہ کافی ہیں بات تو ہم یہ کررہے تھے کہ اپنی آڑھی ترچھی مصروفیات کی وجہ سے ابھی تک ہم اپنے وزیروں میں سے کسی سے مل ہی نہ سکے جب کہ ان میں سے ایک وزیر تو ایسے بھی ہیں جن سے ملنے کے حوالے سے ایک شاعر نے کہا ہے۔

(جاری ہے)


”اے دوست کسی ہمدم درینہ کا ملنا“
بہتر ہے ملاقات مسیحا و خضر سے“
اور یہ نویں نکور صوبائی وزیر اپنے نواز شریف ہیں جنہیں بلا خوف و خطر پنجاب کی کابینہ کا سوہنا منڈا قرار دیا جاسکتا ہے اندر باہر سے یہ خوبصورت نوجوان اگر وزیر بنا ہے تو ظاہر ہے سوچ سمجھ کر ہی بنا ہوگا لیکن صوبائی وزیر بننے کے بعد سے ہماری ملاقات ابھی ان سے بھی نہیں ہوئی وزیروں کے حوالے سے ہمارے ایک دوست نے سلیس پنجابی میں ہمیں طعنہ دیا ہے جس کا مہذب اردو میں ترجمہ یہ ہے کہ تم کیسے وزیر آبادی ہوکہ وزیروں سے ملنے سے گھبراتے ہو؟ہم نے ان کے جواب میں باشد خموشی والی پالیسی پر عمل کیا لیکن آپ کو بتائے دیتے ہیں کہ جتنے ہم مصروف ہیں اس سے زیادہ ہمارے یہ وزیر صاحبان مصروف ہے پچھلے دنوں سندھ کابینہ کے ایک وزیر کے بارے میں ایک سیاسی ڈائری نویس نے اطلاع دی تھی کہ جب ایک وزیر کے کمرے میں ملاقاتیوں کا ایک جم غفیر صبح سے دوپہر 3 بجے تک جمع رہا اور ان میں سے کسی نے ٹلنے کا نام نہ لیا تو وزیر صاحب کے اشارے پر ایک صاحب نے ملاقاتیوں کے اس ہجوم کو مطلع کیا کہ وزیر صاحب کو سخت بھوک لگی ہے چنانچہ وہ اب کھانا کھانا چاہتے ہیں اس پر سب ملاقاتی ایک ایک کرکے کمرے سے باہر نکل گئے اور تھوڑی دیر بعد ہاتھ دھو کر کمرے میں واپس آگئے اس پر وزیر صاحب کا پارہ چڑھ گیا اور انہوں نے تقریباًچیخ کر کہا تم لوگ مجھے کھانے بھی نہیں دو گے؟ظاہر ہے انہوںنے ایسا سارے دن کی تھکن اور کھچاﺅکی وجہ سے غصے کے عالم میں کہا ورنہ ملاقاتیوں کا بھی یہ منشاءنہیں تھا بے چارے تو صرف یہ چاہتے ہوں گے کہ رل مل کے کھایا جائے جیسا کہ ہم نے اپنے کالم میں کہا ورنہ ملاقاتیوں کا بھی یہ منشاءنہیں تھا بے چارے تو صرف یہ چاہتے ہوں گے کہ رل مل کے کھایا جائے جیسا کہ ہم نے اپنے کالم کے آغاز میں بتایا کہ اپنی نامعقول مصروفیات کی وجہ سے ان استقبالیوں میں بھی شریک نہ ہوسکے جو نئے وزیروں کو خوش آمدید کہنے کے لیے مختلف حلقوں کی طرف سے دئیے گئے لیکن ہمارے ایک دوست نے جو ایسے استقبالیوں میں شرکت کے رسیاءہیں ہمیں بتایا کہ یہ استقبالیے زیادہ تر ان لوگوں نے دئیے جن کا تجربہ اس میدان میں بہت وسیع ہے اور ہر دور میں اس طرح کی ضیافتوں کا اہتمام کرتے رہے ہیں چنانچہ ایسے مواقع پر خطبہ استقبالیہ پیش کرنے کے ضمن میں انہیں کسی دشواری کا سامنا نہیں کرنا پڑا لہٰذا انہوں نے اپنے پرانے خطبے نکالے اور ان استقبالیہ میں پرانے ناموں کی جگہ نئے نام ڈال کر پڑھ دئیے ہمیں اپنے دوست کی اس بات پر یقین نہ آیا کیونکہ ایسا تو تب ممکن تھا اگر آج وزیر بنے ہیں وہ گزشتہ کل وزیروں جیسے ہی ہوتے ا گر نئے وزیر اپنے علم قابلیت عادات و اطوار اور طور طریقوں میں گزشتہ وزیروں سے مختلف ہیں تو پھر ان خطبہ خانوں کی بڑی زیادتی ہے کہ انہوں نے پرانے استقبالیہ خطبے پڑھے اگر تیر چلایا تو صرف یہ کہ ان میں سابقہ وزیروں کی جگہ نئے وزیروں کے نام ڈال دئیے!
”تفوبر تو اے چرخ گرداں تفو“

Your Thoughts and Comments