Kursi Kahani

کرسی کہانی

ہفتہ اپریل

Kursi Kahani
امین گھانی والا:
بابا پھنسے خان دل کے بہت اچھے تھے اس لیے سارے گاوٴں میں امن قائم رکھنے کا ٹینڈر ہمیشہ ان کے نام نکلا کرتا تھا۔ آج ایک بڑے بھائی اور ایک چھوٹی بہن کا معمولی کرسی کا تنازعہ بڑھ گیا تو تو میں میں سے گالم گلوچ پھر گتھم گتھا تک بات پہنچی اس سے پہلے کہ بات ٹھم لٹھا تک پہنچی بابا پھنسے خان امن کے پیا مبر بن کر میدان جنگ میں کود پڑے اور دونوں کو بری بری گالیاں دے کر سمجھایا کہ کیوں تماشہ کر کے لوگوں کے دلوں سے نکلتے ہو ، لیکن جب کلام نرم ونازک کو بے اثر پایا تو دونوں کو حکومتی پنچائت تک جانے کا راستہ بتایا۔


حسب معمول آج بھی پنچائت میں فریادی کے بجائے کوّے بول رہے تھے لوگ بوڑھے کھوسٹ پنچائتی کے پاس فیصلہ کروانا اس لیے پسند نہیں کرتے تھے کہ تحفہ تحائف دینے کے باوجود فیصلوں میں انتہائی تاخیر ہوتی تھی اور اونچا سننے کی وجہ سے حالت یہ تھی کہ کہو کھیت تو سنے کھلیان کی مگر پھر بھی۔

(جاری ہے)


”بنا ہے شاہ کا مصاحب پھرے ہے اترانا
وگرنہ شہر میں غالب کی آبرو کیا تھی“
ان تمام باتوں کو مدنظر رکھتے ہوئے بڑا بھائی ایک موٹی چمکتی پوتلی سمیت پنچائتی کے پاس جا پہنچا جسے دیکھ کر اس کی آنکھیں چندھا گئیں اور کان کھل گئے!
بڑے بھائی نے نہایت معصومانہ اور عاجزانہ لہجے میں کہا میرے باپ نے جو کرستی ترکے میں چھوڑی تھی اس پر میری بہن اور اس کے شوہر نے غاصبانہ قبضہ کر لیا ہے وہ دونوں ناقابل اعتبار ہیں ان کی وجہ سے سارے گاوٴں کا امن غارت ہو گیا ہے ریاست کے لیے وہ خطر ناک اور راجہ کے لیے خوفناک ہیں اس لیے ان کو ملک بدر کر کے کرسی میرے حوالے کر دی جائے کیونکہ میں اولاد نرینہ ہوں چنانچہ پنچائتی نے اس کی خواہش عن ومن پوری کر دی۔


نہلے پہ دہلا یہ پڑا کہ چھوٹی بہن سیدھے راجہ کے دربار میں پہنچ گئی اور کہا سرکار دہائی ہے دہائی چمک نے اپنا کام کر دکھایا آپ کے نامزد پنچائتی نے ناعاقبت اندیشی دکھائی ہے۔ بڑے بھائی نے سرکاری مشینری اور اسکے ذرائع کا ناجائز استعمال کیا ہے اس کے پورے خاندان نے ٹیکس چوری کی ہے اور اربوں روپے بنائے ہیں اور اب میری کرسی اس لیے چھیننا چاہتا ہے کہ وہ بڑی ہے وہ بہت مضبوط ہے اور اس پر بیٹھ کر آدمی اپنے آپ کو حکمران محسوس کرتا ہے حضور اس سے ریاست کو خطرہ ہے اس لیے اس کے تمام خاندان کو کالے پانی کی سزا سنائی جائے۔

(منشایہ تھا کہ) ”ہم تو ڈوبے صنم تم کو بھی لے ڈوبے۔“
اس دوران چوپٹ راجہ بھنگ کے نشے میں بوجھل بوجھل اونگھتے ہوئے فریاد سن رہے تھے اس لیے آپ کے بڑے روا داں چیف خواجہ سرا نے آپ سے کئی منت تک سرگوشیاں کی اس دوران حضور کا سر صرف اوپر نیچے اور نیچے اوپر ہی ہوتا رہا۔
اس مشورے کے سنتے ہی حضور تحت شاہی سے لڑکھڑاتے ہوئے اٹھے اور چیف خواجہ سرا کو اس طرح گلے لگایا جیسے کہ اکثر اپنی چہیتی کنیزوں کو لگایا کرتے تھے اور ایک طویل تقریر فرمائی جس کے خاص نکات یہ تھے۔


ہم اس دانا (چیف خواجہ سرا) کو تمغہ شجاعت سے سرفراز کرتے ہوئے وزیر احتساب و انصاف نامزد کرتے ہیں اور پیش کردہ مقدمہ کا فیصلہ سنانے کا حکم دیتے ہیں بقول مفکر” لمحوں نے خطا کی تھی صدیوں نے سزا پائی“
چنانچہ چیف خواجہ سرا نے فیصلہ سنایا کہ:
1۔ پنچائتی کا فیصلہ انصاف کے عین مطابق تھا اس لیے وہ برقرار رہے گا۔
2۔ چھوٹی بہن کی تجویز کے مطابق بڑے بھائی اور اس کے تمام خاندان کو کالے پانی کی سزا سنائی جاتی ہے۔


3 ۔ دونوں بہن بھائی کو امن عامہ میں رخنہ ڈالنے ، شاہی حکومت کے کارندوں پر الزام تراشی کرنے اور شاہی دربار کا وقت ضائع کرنے کے جرم میں ان دونوں کی منقولہ وغیرہ منقولہ املاک کو ضبط کیا جاتا ہے نیز کرسی کو قومیایا جاتا ہے تاکہ ولی عہد کے کام آئے۔
وزیر نے میان میں لگی تلوار کے دستے پر ہاتھ رکھ کر درباریوں سے آزادنہ رائے طلب کی ؟ سب نے بیک وقت تلوار کو دیکھتے ہوئے جواب دیا ہمیں منظور ہے منظور ہے اور پھر تالیوں کو گونج سے سارا دربار دہل اٹھا۔ اسی سے مثل مشہور ہوئی۔
”اندھیر نگری چوپٹ راجہ
ٹکے سیر بھاجی ٹکے سیر کھاجہ “

Your Thoughts and Comments