Lady Diana Molana Abdul Qadir Azad Aur Ameer Gulistan Janjoa

لیڈی ڈیانا‘مولانا عبدالقادر آزاداور امیر گلستان جنجوعہ

عطاالحق قاسمی جمعہ فروری

Lady Diana Molana Abdul Qadir Azad Aur Ameer Gulistan Janjoa

لیڈی ڈیانا نے پاکستان آکر اچھا نہیں کیا لیڈی صاحبہ کی تصوریں اخباروں میں شائع ہوتی تھیں تو میرے جیسے ان کے عقیدت مندٹک جی کو شاد کرلیتے تھے بلکہ ادھر ادھر سے ان کی تصویریں ڈھونڈ کر اپنے جذبہ ارادات مندی کی تسکین کرتے تھے یہ فقیر جب کبھی لندن جاتا تو فٹ پاتھ پر چلتے ہوئے بھی احتیاطًا دائیں بائیں دیکھ لیتا کہ کہیں شہزادی صاحبہ ہم رکاب تو نہیں ہیں یہ اس جذبہ ارادات مندی ہی کا کرشمہ تھا کہ راقم نے ان کے بارے میں کالموں کی تقریباً سینچری مکمل کی شہزادہ چارلس کے خلاف لکھا اس جاپانی پہلوان کے خلاف لکھا جو لیڈی صاحب کے عشق میں اتنا مبتلا ہوا کہ ان کی تصویر گود میں لے کر تصویر اتروائی اور یوں رقیب روسیاہ کا کردار ادا کیا لیکن سچی بات پوچھیں تو اب میں اپنے لکھے پرپشیمان ہوں چنانچہ شہزادہ چارلس اورپہلوان جی سے معذرت کرنے کی جی چاہتا ہے کہ میں نے خواہ مخواہ ان شرفاءکی دل آزادی کی اللہ تعالیٰ مجھے معاف فرمائے انہیں بھی معاف فرمائے جو اتنا عرصہ میری دل آزاری کرتے رہے۔

(جاری ہے)


بات دراصل یوں ہے کہ شہزادی صاحبہ کی جو تصویریں اخباروں میںشائع ہوئی تھیں وہ عموماً گردن تک ہوتی تھیں اور پھر تصویر کا معاملہ قریباً شنید ہی کا ہوتا ہے شہزادی صاحبہ پاکستان تشریف لائیں تو اس شنید کے بعد وید کا مرحلہ آیا یعنی شہزادی صاحبہ کو سالم دیکھنے کا موقع ملا بس یہیں سے شہزادی صاحبہ کی بدقسمتی کا آغاز ہوتا ہے شفیق الرحمان نے ترک نادری کی پیروڈی میں نادرشاہ سے یہ جملہ کہلوایا ہے کہ آج کل کے نوجوان بھی عجیب ہیں ایک تل پر عاشق ہوتے ہیں اور سالم لڑکی سے شادی کر بیٹھتے ہیں ایک اسی طرح کے نوجوان نے شہزادی صاحبہ کو سالم دیکھا تو وہ بہت پریشان ہوا اور اسی پریشانی کے عالم میںاس نے عالم چنا کو یاد کیا اور کہا اے بدنصیب انسان تو اگر عورت ہوتا تو لیڈی ڈیانا ہوتا میں نے اس نوجوان کو بہت ڈانٹا کہ بڑوں کے بارے میں ایسی باتیں نہیں کہتے اس پر اس نے روبانسا ہوکر کہا اس لئے تو ایسی بات کہی ہے کہ وہ مجھے بہت بڑی بڑی سی لگی ہیں دراصل قصور اس نوجوان کابھی نہیں اور قصور لیڈی صاحبہ کا بھی نہیں لگتا ہے کہ لیڈی صاحبہ بچوں کی پیدائش کے بعد ڈائٹنگ کی طرف زیادہ پڑگئی ہیں جس کے نتیجے میں ان کا چہرہ پچک گیا ہے جسم سوکھ گیا ہے اور یوں قد اصل سے بھی کہیں زیادہ لمبا بلکہ لمبوترا سا لگنے لگا ہے جس کی وجہ سے یہ نوجوان اس تل پر تلملا رہا ہے جس کی طفیل یہ سالم شہزادی پر عاشق ہوگیا تھا چنانچہ میں نے دورہ پاکستان کے دوران لیڈی صاحبہ کے بہت عاشقوں کو اداس اور افسردہ پھرتے دیکھا ہے خدا رحمت کند‘ایں عاشقان،،،،،،!
لیکن اللہ کی ذات بڑی بے نیاز ہے وہ کیڑے کو پتھر میں بھی رزق دیتی ہیں اگر وہ پاکستان کے دوران لیڈی صاحبہ سے کچھ ووٹ کم ہوئے ہیں تو چند ایک نئے ووٹ بنے بھی ہیں بادشاہی مسجد کے خطیب مولانا عبدالقادر آزاد نے بادشاہی مسجد میں جس طرح لیڈی ڈیانا کا استقبال کیا ہے اس سے میری بات کی تصدیق ہوجاتی ہے لیکن الحمد اللہ مولانا کی نیت بالکل مختلف ہے وہ لیڈی صاحبہ کو مشرف بہ اسلام کرنے کے خواہش مند لگتے ہیں یہی وجہ ہے کہ انہوں نے سکرپٹ میں ملبوس لیڈی صاحبہ کے سر پر دوپٹہ اوڑھایا حالانکہ بقول مولانا مفتی محمد حسین نعیمی لیڈی صاحبہ کو پاجامے کی ضرورت تھی بعد ازاں مولانا نے انہیں قرآن مجید کا ایک نسخہ پیش کیا اور ممکن ہے اپنی زبان سے بھی انہیں قبول اسلام کی دعوت دی ہو مولانا کے ان اقدامات میں یقینا ایک بڑی مصلحت پوشیدہ ہے مثلاً یہی کہ اگر لیڈی صاحبہ مولانا کی کوششوں سے اسلام قبول کرلیتی ہیں تو اس کے بعد شہزادہ چارلس کے عقد میں نہیں رہ سکیں گی بہر حال لیڈی صاحبہ گزشتہ روز پاکستان کے چار روزہ کامیاب دورے کے بعد اپنے وطن روانہ ہوگئی ہیں دہ ہفتے بعد میں بھی چند دنوں کے لیے برطانیہ جارہا ہوں لیکن اس دفعہ کسی اورکام سے جارہا ہوں میں نے ٹیلی وژن سے ان کے دورے کی جو رپورٹ دیکھی ہے اس میں سب سے زیادہ نہال میں نے گورنر سرحد امیر گلستان جنجوعہ کو پایا موصوف لیڈی کے سامنے پیلاں ڈالتے پھررہے تھے اور ان کے انگ انگ سے مسرت اور خوشی پھوٹ رہی تھی لگتا تھا لیڈی صاحبہ کی خدمت کرکے انہیں روحانی مسرت ہورہی ہے چنانچہ جنجوعہ صاحب مجھے لیڈی صاحبہ کے ان نئے ووٹوں سے ایک ووٹ محسوس ہوئے جو حالیہ دورہ پاکستان کے دوران لیڈی صاحبہ نے اپنے حسن سے نہیں غالباً حسن اخلاق سے بنائے ہیں عبدالقادر اور آزاد اور امیر گلستان جنجوعہ صاحب اگر لیڈی صاحبہ کو کوئی پیغام بھیجنا چاہیں تو بندہ اس خدمت کے لیے حاضر ہے مولانا کے متعلق تو مجھے علم ہے کہ وہ اپنی چند تبلیغی کتابیں میرے ہاتھ روانہ فرمائیں گے تاکہ لیڈی صاحب جلد از جلد قبول اسلام کا اعلان فرمائیں اور یوں شہزادہ چارلس کے عقدسے آزاد ہوں البتہ امیر گلستان جنجوعہ صاحب کے بارے میں پورے یقین سے کچھ نہیں کہہ سکتا ممکن ہے وہ اس سلسلے میں کسی کا احسان اٹھانے کے روادار ہی نہ ہوں کہ اردو شاعری کی روایت تو یہی رہی ہے

Your Thoughts and Comments