Lekin Kabhi Kabhi Usay Tanha Bhi Chore Day

لیکن کبھی کبھی اسے تنہا بھی چھوڑ دے

منگل مئی

Lekin Kabhi Kabhi Usay Tanha Bhi Chore Day

ہمارے ہاں بہت سے مریض ایسے ہیں جو زندگی ڈاکٹر کے دیئے ہوئے شیڈول کے عین مطابق گزارتے ہوئے اور قدرت کے مرتب کئے ہوئے شیڈول کے مطابق انتقال کر جاتے ہیں مگر کچھ اللہ کے بے نیاز بندے ایسے بھی ہیں جو بیماری میں بھی وہی کرتے ہیں جو عالم صحت میں کرتے تھے اور یوں شیر کی ایک دن کی زندگی گیڈر کی سوسالہ زندگی سے بہتر ہے والے مقولے کوعملی جامہ پہناتے ہیں۔

ایک اسی طرح کے بد پرہیز، سگریٹ نوش نے کسی کو کہاسگریٹ نوشی سے باز آ جاوٴ‘ یہ دراصل ایک طرح کی سلو پائزنگ ہے سگر یٹ نوش نے کہا مجھے بھی مرنے کی کوئی جلدی نہیں میں ایک ایسے شخص کو جانتا ہوں جو شوگر کا مریض ہے اور باقاعدگی سے حلوہ پوری کا ناشتہ کرتا ہے۔ ایک دوست کو ہائی بلڈ پریشر ہے اور وہ جب بھی ہوتا ہے ہاتھ پکڑ کر رائل پارک لے جاتا ہے کہ پہلوان کے پائے کھاتے ہیں۔

(جاری ہے)

میں ان دوستوں کو بہت سمجھاتا ہوں کہ بے شک خدا قادر مطلق ہے زندگی اور موت ان کے اختیار میں ہے لیکن انسان کو اپنی طرف سے تو احتیاطی تدابیر کرنی چاہئیں مگر یہ جیالے ایک نہیں سنتے اور جواب میں عجیب و غریب قسم کی دلیلیں دیتے ہیں بلکہ لطیفے بھی سناتے ہیں۔ مثلا ایک چودھری کی گائے چوری ہوگئی۔ اس نے سارے گاوٴں کو جمع کیا۔ قرآن شریف ان کے ہاتھ میں تھما کر حلف اٹھوایا کہ اگر گائے میں نے چوری کی ہوتو میرے بچے مریں سب نے ہی حلف اٹھایا سمیت اس میراثی کے جس نے گائے چوری کی تھی۔

میراثی کے ایک جاننے والے نے بعد میں اسے پکڑ لیا اور کہا تم عجیب آدمی ہومیں ذاتی طور پر جانتا ہوں کہ گائے تم نے چوری کی ہے مگر اس کے باوجوتم نے حلف اٹھالیا کہ اگر میں نے گائے چوری کی ہو تو میرے بچے مر یں!میراثی نے کہا ”مولا خوش رکھے بھوکے مرنے سے بہتر ہے کہ بچے دودھ پی کر مریں، یہ بد پرہیز بھی اس قسم کی بات کرتے ہیں کہ بھوکا مرنے سے بہتر ہے انسان کھاتے پیتے مرے ، یہ تو ایک مذہبی حوالہ بھی دیتے ہیں کہ پیٹ کی بیماری سے مرنے والابھی شہید ہوتا ہے۔

تاہم اس ضمن میں کمال کا واقعہ میرے ایک دوست کا ہے میرے اس دوست کونہایت شدید قسم کا ہارٹ اٹیک ہوا انہیں فوراََ انتہائی نگہداشت کے کمرے میں داخل کیا گیا آکسیجن لگا دی گئی اور وزیٹرکومنع کردیا گیا کہ وہ ان سے بات چیت نہ کریں۔ اگلے روز میرے اس دوست نے ادھر ادھر نظر دوڑائی تو پتہ چلا کہ عزیزوں یا ہسپتال کے عملے میں سے وہاں کوئی بھی مو جود نہیں ہے اس نے آکسیجن اتاری‘ بستر سے اترا اور ایک لمبا برامدہ عبور کر کے لفٹ تک پہنچا لفٹ خراب تھی چنانچہ دومنز لیں سیڑھیوں کے ذریعے طے کیں وہاں سے دو سگریٹ لیے اور یکے بعد دیگرے دونوں سگریٹ پینے کے بعد واپس لفٹ تک گیا لفٹ حسب سابق خراب تھی چنانچہ دو منزلیں سیڑھیوں کے ذریعے طے کر کے اوپر پہنچا اور پھر طویل برآمدے سے گزرتے ہوئے میرا یہ دوست واپس اپنے کمرے میں گیا اور چار پائی پر لیٹتے ہی خوف زدہ ہوگیا کہ یہ میں نے کیا کیا ہے؟ چنانچہ فورا ڈاکٹر کو بلا یا کہ ذرا مجھے چیک کریں‘ ڈاکٹر نے اچھی طرح معائنہ کرنے کے بعد کہا جتنے تم آج ٹھیک ہو اس سے پہلے کبھی نہ تھے۔

شاباش پر ہیز جاری رکھو!
ان سطور سے میرا مقصود حاشا و کلا ”بد پر ہیزوں“ کو ہلا شیری دینا نہیں بلکہ ان دوستوں کو حوصلہ دینا ہے جو زندگی میں معمولی تکلیف بھی آئے تو حوصلہ ہار بیٹھے ہیں چنانچہ ایک سروے کے مطابق زیادہ اموات بیماری کی وجہ سے نہیں اس بیماری سے پیدا ہونے والے خوف اور مایوسی کی وجہ سے ہوتی ہیں انسان اگربیماری کو زیادہ لفٹ نہ کرائے تو بیماری بھی شرمسار ہوکر ادھر ادھر دیکھنے لگتی ہے اور کسی مستحق‘ کو جا چمٹتی ہے۔

اگر انسان کا حوصلہ بلند ہو اور خدا پر یقین کامل ہوتو وہ ہنستے ہنستے موت کا منہ پھیر دیتا ہے۔ انسان کو ڈاکٹروں کے مشوروں پرعمل ضرور کرنا چاہیے لیکن صرف اسی قدر جب ڈاکٹر اپنے مشوروں خود عمل کرتے ہیں اگر آپ سیر نہیں کرتے تو سیر نہ کرنے والوں کو موت کی جو وعید سنائی جاتی ہے اس پر زیادہ کان نہ دھریں ورنہ سچ مچ دھر لئے جائیں گے کہ خوف اندیشوں کوحقیقت میں بدل دیتا ہے۔

یہی حال قوموں کا بھی ہے ‘ہر قوم میں خامیاں اور کوتاہیاں ہوتی ہیں لیکن اگر اس کی خوبیوں کو بھی اجاگر کیا جائے تو اس کے حوصلے بلند ہو جاتے ہیں اور جس قوم کے حوصلے بلند ہوں وہ پہاڑوں سے بھی ٹکرا جاتی ہے آپ نہ ذاتی طور پرمایوس ہوں نہ قوم کے بارے میں مایوسی پھیلائیں کہ جنگ کے دنوں میں مایوسی پھیلا نا دشمن کی اولین تر جیحات میں شامل ہوتا ہے۔ چھوٹی موٹی بد پرہیزی جاری رہتی ہیں اور انہیں ضرور جاری رہنا چاہیے ورنہ آپ انسان سے” کیلکولیٹر“ بن جائیں گے اور انسان کو انسان ہی رہنا چاہیے ۔حساب کتاب والی مشین نہیں بننا چاہیے۔ پاسبان عقل“ ضرور ساتھ رکھنا چاہئے لیکن اسے کبھی کبھی تنہا بھی چھوڑ دینا چاہیے!

Your Thoughts and Comments