Logon Ko Hansanay Walay Sawab Kama Rahay Hain

لوگوں کو ہنسانے والے ثواب کمارہے ہیں

بدھ مارچ

Logon Ko Hansanay Walay Sawab Kama Rahay Hain
حافظ مظفر محسن:
ایک ویران سڑک پرایک شخص اکیلا جارہا ہے اچانک چلتے چلتے وہ رک گیا․․․ ارے یہ تواکیلا ہی ہنسنے لگا ارے یہ تو ہنسی سے لوٹ پوٹ ہوگیا۔ وہ اکیلا ہی قہقہے لگارہا ہے اس کی ہنسی نہیں رک رہی․․․ شاید پاگل ہے․․․․ پہلے تو ٹھیک لگ رہا تھا اس کے ہاتھ کیا ہے․․․․ اس نے توہاتھ میں موبائل پکڑا ہوا ہے․․یہ موبائل فون کودیکھتا ہے اور پھر زور زور سے اکیلا ہی قہقہے لگانے شروع کردیتا ہے․․․ اگر یہ پاگل نہیں۔

تو پھر اسے کوئی SMSموصول ہوا ہے جس نے اسے ہنسنے پر مجبور کردیا ہے۔
ایک زمانہ تھا جب لوگ اس پرانے لطیفے پر بھی کھلکھلا کر ہنس پڑتے تھے کہ ایک افیمی دوسرے سے بتا میری مٹھی میں کیا ہے؟ دوسرا افیمی ” ہاتھی․․․“ پہلا افیمی” ارے تم نے پہلے ہی دیکھ لیا تھا․․․ مگرا ب تو نہایت جاندار لطیفہ بھی لوگوں کوہنسا نہیں پاتا․․․ ایک تو لوگوں کی حس مزاح کولیول خاصا بلند ہوگیا ہے کیبل پر چلنے والے اسٹیج ڈرامے عام لوگوں میں سے تیز حس مزاج والوں کو بھی خاصا ” وہ“ بنادیا ہے۔

(جاری ہے)


ہاں البتہ مزاحیہ شاعری نے کسی حدتک اپنی جگہ بنائی ہوئی ہے۔ وہ اردو پنجابی‘ پشتومکس شاعری پٹرول کی قیمتوں نے ویسے بھی انسان سے اس کی ہنسی چھین لی ہے لوگ قہقہے لگارہے ہوتے ہیں پتہ چلتا ہے کہ بجلی کابل آگیا ہے یامیٹر ریڈرآگیا لوگوں کی ہنسی فورا بندہوجاتی ہے اور صف ماتم بچھ جاتا ہے اس دور میں بھی ہر صبح اخبار میں تلخ خبریں۔ مقتولین کی تصوریں۔

گرن پرڈور پھرجانے سے مرجانے والوں کے چہرے اور ” پرانے ستدانوں“ کی وہی پرانی تصویریں اور نہایت گھٹے پسے اور بوسیدہ بیانات پڑھ چکنے کے بعد آدمی کادل چاہتا ہے کہ وہ تروتازہ ہواور اپنا غم غلط کرسکے․․․ ایسے میکسم یاپھر جاوید اقبال کے کارٹون اور یا پھر خالد مسعود خان‘ عطاالحق قامسی‘ ڈاکٹر یونس بٹ یاعرفان صدیقی کے کالم نہیں جھنجھوڑتے بھی ہیں‘ جگاتے بھی ہیں اور ہنسا بھی دیتے ہیں۔


میں سمجھتا ہوں آج کے دور میں جو شخص لوگوں کو ہنساتا ہے یاہنسانے کی کوشش کرتا ہے وہ بہت بڑی نیکی کر رہا ہے اور اسے اس کااجر بھی ملے گا۔ بسلسلہ روزگار جب میں نے ملتان شہر میں قدم رکھاتو بڑے احترام سے کیونکہ وہاں واقعی بہت بڑے بڑے قابل محبت‘ قابل احترام اور قابل تقلید ہستیاں بھی موجود ہیں۔ جب بھی موقع ملا میں شاہ رکن عالم شاہ شمس تبریز اور ایسی ہی دوسری عظیم الشان ہستیوں کے مزاروں پر حاضر ہوتا ہوں اور سکون پاتا ہوں۔


ملتان میں مجھے سخت گرمی میں ایک سایہ دار درخت کی صورت میں کسی نہایت ٹھنڈی ٹھار شخصیت کی تلاش تھی کہ جس سے میں راہنمائی بھی لوں۔ کچھ سیکھوں بھی اور علم کی باریکیاں بھی سمیٹ لوں اور اللہ پاک نے جب جبارمفتی کی شکل میں مجھے ایسی ہستی سے ملوادیا جب یہ کتاب آپ کے ہاتھوں میں ہوگی جبار مفتی صاحب حج بیت اللہ کی سعادت حاصل کرکے ملتان پہنچ چکے ہوں گے اور اہم انہیں حاجی صاحب کہہ کر بلاسکیں گے ان سے دعائیں بھی ملیں گی۔

ملتان میں ایک نہایت دھیمے مزاج کے دانشور ریڈیو پاکستان ملتان کی مشہور ومعروف شخصیت جبک قیصر نقوی سے ہماری ملاقات کاسہرا بھی جبک عابد کمالوی کے سر ہے۔
عابد کمالوی صاحب سے میں نے پوچھا۔ سرامتیاز گھمن صاحب کیسے آدمی ہیں۔ عابد کمالوی صاحب نے بلا سوچے سمجھے کہہ دیا نہایت علمی شخصیت اور بڑے زیرک انسان ہیں۔ کبھی کبھی ملتان میں امتیاز گھمن صاحب کے پاس بھی حاضری ہوتی ہے ان سے باقاعدہ تعارف کروانے کاسہرا میرے بھائی فہیم انور چغتائی آف میاں چنوں کے سر ہے․․․ جی ہاں یہ وہی فہیم انور چغتائی ہیں جو کہ مظفر چغتائی صاحب کے چھوٹے بھائی ہیں اور ڈاکٹر ندیم چغتائی کے بڑے بھائی اور پورے میاں چنوں کے دوست بھی‘ بھائی بھی اور مستقبل کے سیاسی راہنما بھی۔


ملتان میں عابدکمالوی صاحب سے ملاقات کرکے سکون ملتا ہے۔ وہیں فیض صاحب سے بیکن بکس میں ملاقات کرکے بھی ہمیشہ مجھے اچھا لگتا ہے کہ نہایت اعلیٰ درجے کی روحانی شخصیت کے مالک ہیں یہ بزرگ!
ملتان میں ہردم مسکراتے اور ہنستے رہنے والے دو اور دوست بھی ملے شاکرحسین شاکر اور سلیم ناز علم وادب سے ان دونوں کاگہر اتعلق اور میں ان سے بے حد متاثر بھی ہوں۔

عابدکمالوی نے مجھے ملتان میں ریاض ہانس( وہاڑی) المعروف ” ادب عالیہ انٹر نیشنل“ اور مشتاق کھوکھر کی صورت میں دوعلمی ادبی ہستیوں سے بھی ملوایا اور میرے لاہور کے پرانے رفیق اور لیڈر ٹائپ دوست میاں غفار (روزنامہ اوصاف) سے بھی ملاقات کروادی ویسے میاں غفار نہ تولاہور میں قابومیں آیااور نہ ہی ملتان میں۔
اس دوسری طنزیہ اور مزاحیہ مضامین پر مشتمل کتاب کی اشاعت ممکن نہ ہوتی اگر مرزا شعیب‘ نذیر انبالوی‘ مسعود مفتی‘ محمد اویس غوری‘ میاں نجیب اللہ‘ مرزا ارشد آف چونڈہ‘ شیخ اصغر آف فیصل آباد‘ خالد احمد بھٹہ اور شاہد نذیر چوہدری کا باقاعدہ مجھ پرپریشر نہ ہوتا․․․ !
فرحت عباش شاہ‘ علی نواز شاہ نے ہمیشہ کی طرح میری راہنمائی فرمائی۔

Your Thoughts and Comments