Maddam Saddam

مدام صدام

پیر مارچ

Maddam Saddam

ڈاکٹر محمد یونس بٹ
کچھ عرصہ قبل ہالی ووڈ کی پرلباس اداکارہ نے پریس کانفرس میں اس سوال کے جواب میں کہ کس ہیرو کے ساتھ کام کرنے کی خواہش رکھتی ہیں بتایا کہ میں ہیرو صدام حسین کے ساتھ کام کرنا چاہتی ہوں تب تک ہم سے کوئی پوچھتا کہ آپ کے ہیرو کون کون سے ہیں تو ہم ان میں سلطان راہی کا نام لیا کرتے کیونکہ جو ایک کو مارتاہے وہ قاتل کہلاتا ہے جو بہت سوں کو مارے وہ ہیرو اور جو سب کو مارتا ہے وہ خدا کہلاتا ہے سلطان راہی تو آج بھی ایسا ہی لگتا ہے جیسا تیس سال پہلے تھا یعنی اتنا ہی بھدا لیکن وہ آج بھی فلموں میں آخری دم تک لڑتا ہے جی ہاں دیکھنے والے کے آخری دم ت ک ہر وقت خون و پان میں لت پت اس کے دانت دیکھ کر یہی لگتا ہے یہ دانت دکھانے کے نہیں کھانے کے ہیں آج بھی جس فلم میں بے تحاشا کردار اور اضافی لوگ کہانی کار کے بس میں نہ آئیں ہدایت کار سے بھی ختم نہ ہوں تو وہ سٹوڈیوز میں سلطان راہی کو ڈھونڈنے لگتے ہیں مگر جب امرئیلی ادارے کی فلم خیلج کی جنگ میں صدام حسین کاسٹ کیا گیا پھر ہر طرف اسی ہیرو کا نام لیا جائے گا سو ہالی ووڈ کی اداکارہ کے اس کے ساتھ کام کرنے کی خواہش انوکھی نہ لگی مگر کل ایک بھارتی اداکارہ کا بیان پڑھ کر عجیب لگا اداکارہ نے کہا ہے کہ میں دوسرے جنم میں صدام حسین بننا چاہتی ہوں۔

(جاری ہے)


بھارت میں لوگ پہلے جنم میں کچھ نہیں بننا چاہتے دوسرے جنم میں ہی سب بننا چاہتے ہیں پھر وہاں بندرگائے اور ایسے جانوروں کو اتنا بلند مقام حاصل ہیں کہ کوئی دوسرے جنم میں انسان بننے کی خواہش کرے تو پنڈت اسے غیر انسانی نظروں سے دیکھنے لگتے ہیں البتیہ 1991 میں ایک بھارتی کھلاڑی نے کہا تھا کہ اگلے جنم میں اندراگاندگی بننا چاہوں گا پوچھنے والے نے کہا گویا اگلے جنم میں آپ عورت بننا چاہیں گے کہا نہیںمیں اندرا گاندھی بننا چاہوں گا صدام حسین اس خواہش پر پتا نہیں کیا کرتے ہیں ایک اداکارہ نے برنا رڈ شا کو کہا اگلے جنم میں برنا رڈشا بننا پسند کروں گی تو برنا رڈشا نے کہا اگر ایسا ہوا تو میں ہرگز برنارڈشا بننا پسند نہ کروں گا۔


امریکی مزاح نگار دول راجرز کہتا ہے دنیا کا سب سے مختصر ترین مدت کا پیشہ زندہ قومی ہیرو ہونا ہوتا ہے واقعی ہم تو اپنے ہیروﺅں کی یاد منانا چاہتے ہیں اس لئے اسے زیادہ دیر زندہ نہیں چھوڑتے ویسے بھی گھوڑے اور بھگوڑے جب تک بھاگتے رہتے ہیں زندہ رہتے ہیں مگر ہیرو وہی زندہ رہتا ہے جو مرچکا ہوتا ہے صدرام وہ مدام ہیرو ہے جو ابھی تک زندہ ہے مرد کی سب سے بڑی خوبی یہی ہے کہ وہ مرد ہو اور صدام وہ مرد ہے جس کا نام لے کر امریکی بچے اپنی ماﺅں کو ڈراتے ہیں وہ کبھی نہیں رویا صرف اپنے پیدا ہونے پر ایک بار رویا تھا ایسے بڑے لوگ مدتوں بعد پیدا ہوتے ہیں اب تو پیدا ہونے والے اور بھی کم ہوگئے ہیں کیونکہ محکمہ منصوبہ بندی بہت تیز ہوگیا ہے صدام وہ ہیرو ہے جس کا میک اپ گولہ بارود سے ہوتا ہے جبکہ اداکارائیں تو خود گولہ بارود ہوتی ہے اور گولہ بارود ہوتا ہی چلنے کے لیے ہے صدام وہ اکیلا ہے جس پر 39 ممالک چڑھ دوڑے شاید یہی بات اس اداکارہ کو بانٹ کرتی وہ بھر بھی اس اداکار کی عمر لڑکے دیکھنے کی ہے لڑکے دیکھنے کی نہیں مگر کیا کریں اردو ادب میں حسینہ مانتے ہی اسے ہیں جس کی آمد جنگ آمد ہو محبوبہ کہلاتی ہی وہ ہے جو یہاں سے گزرتی ہے قتل عام کرتی جاتی ہے عاشق تو اسے میرا قاتل کہہ کر بلاتے ہیں ہوسکتا ہے۔


یہ اداکارہ محبوبہ کل بننا چاہتی ہو بلکہ محبوبہ قل کہلانا چاہ رہی ہو۔
الحمراءکی ایک تقریب میں دو بچوں کے مکالمے تھے۔
پہلا بچہ میں بڑا ہوکر امجد اسلام امجد بنوں گا۔
دوسرا بچہ اوں ہوں وہ تو تم بن ہی نہیں سکتے بڑا مشکل ہے پہلا بچہ کیوں؟
دوسرا بچہ اتنا بڑا گنج کہا ں سے لاﺅ گے۔
ایسی ہی ہم کہہ سکتے ہیں کہ وہ اداکارہ صدام حسین نہیں بن سکتی کیونکہ صدام حسین تو ہر وقت کپڑے پہنے ہوتا ہے اور محترمہ پیدائشی اداکارہ ہیں یعنی آج بھی اکثر ایس ہی ہوتی ہیں جیسی پیدا ہوئی تھیں صدام نے تو فوجی وردی کے بغیر کبھی خود کوبھی نہیں دیکھا اور وردی پہن کر بندہ ایذا کاری تو کرسکتا ہے اداکاری نہیں اس لئے برطانوی فوجیوں کو ہدایت ہے کہ کوئی ایسی حرکت کرنے لگو تو پہلے اپنی وردی اتارلو پھر فوجی اتنے عملی ہوتے ہیں کہ ان کے منہ اتنے نہیں بولتے جتنے جوتے اور اس محترمہ کو ایک دن چپ رہنا پڑا تو دم گھٹنے سے مرجائیں گی یوں بھی یہ مادام صدام کیسے بن سکتی ہے یہ دوبارہ پیدا ہونے کی بات کررہی ہے جب کہ صدام کبھی پیدا ہونے کی نہیں ہمیشہ مرنے کی بات کرتا ہے۔

Your Thoughts and Comments