Mahinay Baad Aatay Ka Thaila Control Rate Par

مہینے بعد آٹے کا تھیلا کنٹرول ریٹ پر

جمعرات 26 مئی 2016

حافظ مظفر محسن:
میاں کررہے ہوں․․․․․․ چوڑونوکری․․․․․․ دن بھر ہمیں ہنسایاکرو“ کو ہزار کانوٹ پکڑو․․․․․․ گھر کا خرچہ چلاؤ․․․․․․ موج ․․․․․․ کرو․․․․․․
یہ تھا ایک بگڑے نواب کاطنزے سے بھراپور فقرہ․․․․․․ جو میرے دل میں نشترہن کرپیوست ہو گیا۔ مگر میں حسب وستور مسکرا کررہ گیا۔

جس نے جو کہا چپکے سے سہہ گیا․․․․․․ مجھے پرانے دور کے بادشاہ یاد آگئے جن کے درباروں میں ڈوم میراثی ہروقت رہتے۔ بادشاہ کو ہنسانے کے لئے بادشاہ کوکسی تلخی کاسامنا ہوتا وہ دوم میراثی کوئی لطیفہ․․․․․ کوئی چٹکلہ سناکر بادشاہ کے ہونٹوں پر ہنسی بکھیر دیتے یاکوئی ایسی حرکت کرتا سب (بادشاہ سمیت) لوٹ پوٹ ہوجاتے اور ڈوم میراثی کو دو وقت کا کھانا مل جاتا مگر دربار میں عزت نہ ملتی․․․․․․ اسے محض اسی کام پر رکھا جاتا․․․․․․ وہ ہنسانے آتااور ہنستا ہنساتا ہوا دنیا سے رخصت ہوجاتا اپنے پیچھے کئی بھوکے بچے بے یارومددگارچھوڑ کر۔

(جاری ہے)


ڈوم میراثی نہ تعلیم یافتہ نہ اسے تعلیم دلوائی جاتی․․․․․․․ اس کی ذہانت محض بادشاہ کو ہنسانے تک محدود رہتی․․ حالانکہ اس کی ذہانت سے کئی مثبت کام لئے جاسکتے تھے کہ ذہانت کسی کی میراث نہیں۔ کلاس میں بیٹھے بیس بچوں میں سے اٹھارہ کو ماسٹر دین محمد کی کوئی بات سمجھ نہ آتی مگر ہم دوایسے تھے جو فقرہ مکمل ہونے سے پہلے بات کی تہہ تک پہنچ جاتے۔


ویسے ماسٹر دین محمد کو ہمارایوں بات کی تہہ تک پہنچ جانا کوئی خاص پسندنہ تھا․․․․․․ شاید اس کے انداز بھی اکبر بادشاہ کی روح موجود تھی؟ دو عورتین ایک دوسرے کوکراس کریں․․․․․․ دونوں خوب غور سے ایک دوسری کوسرسے پاؤں تک دیکھیں گی اور خوب تنقید بھی کریں گی(کاش مردوں میں بھی یہ خوبی پیدا ہوجائے؟) اور کچھ نہیں تو یہ ضرور کہیں گی کہ یئہ کیسی ہے اسے فیشن کے ساتھ ساتھ چلنے کی بالکل تمیز نہیں اب تو عورتیں بھی (امیر لوگوں کے ساتھ ساتھ) جس رنگ کے کپڑے پہنتی ہیں اسی رنگ کا موبائل فون بھی پکڑ لیتی ہیں جو تی تو وہ پہلے ہی، لباس کے رنگ کی ہی استعمال کرتی ہیں․․․․․․ خواتین کا ” جوتی استعمال“ کرنا بھی خوب عمل ہے۔

جن جن پر” جوتی استعمال“ ہوئی ہے ان سے پوچھیں وہ کبھی بھی کچھ نہیں بتائیں گے ویسے نہ کسی سے ایسے سواک پوچھنے چاہیں اور نہ ہی کسی کے ایسے سوال کاجواب دینا چاہئے․․․․․․ چاہے بندے کو ایسے سوال کاجواب بھی معلوم ہومگر جدید دورہے ہر بندہ اپنی ذہانت دوسرے پر آشکار کرنا چاہتا ہے۔ خود کو اعلیٰ اور دوسرے کو نیچ ثابت کرنے کی کوشش میں ہوتا ہے۔

بات شروع ہوئی تھی․․․․․․․ میاں کیا کررہے ہو․․․․․․ چھوڑو نوکری․․․․․․دن بھر ہمیں ہنسایاکرو․․․․․․ شام کو ہزار کا نوٹ پکڑو․․․․․․․ گھر کا خرچہ چلاؤ․․․․․․․ موج کرو․․․․․․ یہ بیان ایک نئے نئے کروڑ پتی ہونے والے شخص نے ہمارے بزرگ دوست ماسٹر قمر کمانی کے حضور پیش کیا اور ماسٹر قمر کمانی سیخ پاہوئے باہر آگئے․․․․․ شام کو دوستوں کی محفل میں ہمارے سامنے ماسٹر قمرکمانی نے یہ مسئلہ رکھا تو ہم سب نے کھل کر قہقہے لگائے․․․․
(ذہین آدمی کو بات عام طورپر سمجھانی نہیں پڑتی․․․․․ وہ تھوڑے کہے کو زیادہ جان لیتا ہے)۔

میں سربازار سوا ہوگیا اور تم سب لوگ قہقہے لگارہے ہو․․․․․․ ہم نے ماسٹر قمرکمانی کو دلاسہ دیا ان کی ہمت بڑھائی اور انہیں مبارکباددی․․․․․․ بے عزت ہونے پر مبارکباد آپ بھی حیران ہورہے ہیں ماسٹر قمرکمانی کی طرح! کس چیز کی مبارکباد․․․․․․ ماسٹر قمرکمانی غصے سے بولے․․․․․․․ حضور آپ خوش ہوں کے نئے نئے کروڑ پتی ہونے والے سیٹھ اسماعیل ستارے والے نے آپ لوگوں کو ہنسانے والی خولی کااعتراف توکیا․․․․․ ہماری اس وضاحت پرماسٹر قمرکمانی نے اپنی کمر سیدھی کی ․․․․․․․خوش ہوئے اور بولے․․․․․․(ماسٹر جی جب کوئی قلعہ فتح کرلیں تو پھر یوں اکڑتے ہیں)“ میاں میں ان دونوں بھائیوں کو وہ مزہ چکھاؤں کہ یہ سیٹھ اسماعیل ستاروں والے کہلانا شروع کردیں گے․․․․․ بس تم سب دوست اس ” نیک“ کام میں میرے ساتھ شریک ہوجاؤ۔


پیپل کے درخت کے نیچے ہم دوستوں نے عہد کیا کہ ماسٹرقمرکمانی کی ہونے والی تذلیل کاہم مل جل کر خوب بدلہ لیں گے۔ سب ذہین اک ساتھ سرجوڑ کر بیٹھ گئے جیسے آج کل پولیس والے وکیلوں کی تاک میں بیٹھے ہیں۔ سیٹھ اسماعیل ستارے والے․․․․․․․ بارش کے دنوں میں جب اپنی بہت بڑی گاڑی سے گزرتے تو بری طرح سے کیچڑ ہم پر اچھالتے موڈ میں گزرجاتے اور ہم کپڑوں سے کیچڑ جھاڑتے کار پوریشن کی ٹونٹی سے کیچڑ سے لت پت منہ دھوتے اور چپکے سے گھر چلے جاتے․․․․․․ اپنا سامنہ لے کر گویا یہی ہمارے مقدر میں لکھا ہے․․․․․․․ یہی ان ” شرفاء“ کاحق ہے اور یہی حالات کا تقاضا بھی ہے․․․․․
ہوایوں کہ․․․․․․ کچھ ہی عرصہ میں ہماری” انگریزی سکیم“ کامیاب ہوگئی․․․․․ آپ جانتے ہیں کہ ہم بہت عرصہ سے انگریزی سکیموں کے ہی تابع چلے آرہے ہیں۔

سویہاں بھی ہم نے من کی مراد پائی․․․․․
یہاں تک کہ سیٹھ اسماعیل ستارے والے․․․․․․ ایک صبح جب گزرنے لگے․․․․․․ تو انہوں نے بڑی سی گاڑی کا براؤن شیشہ نیچے کیا․․․․․․ رفتار نہایت آہستہ کی․․․․․گاڑی ایک طرف لگائی․․․․․ ہمیں پیارسے سلام کیا۔ احترام سے حال احوال پوچھا اور بغل گیر ہوگئے․․․․․․ پچھلے گناہوں پر شرمندگی کااظہار کیا․․․․․ اور آئندہ اپنی اصلاح کو وعدہ کیا․․․․․ جھک کر دوبار سلام کیا․․․․․․ اجازت لی․․․․․․ اور نہایت آہستہ سے گاڑی کا دروازہ بندکیا․․․․․․․ رخصت ہوئے جاتے ہوئے ”’ سمائل“ بھی پاس کی․․․․ وہ ٹینشن میں تھے ہم دل ہی دل میں خوش․․․․․․․ انگریزی سکیم زندہ باد“ ابھی ہم حیرت سے کھلامنہ بندہی کرنے والے تھے کہ ان کا دوسرا بھائی سیٹھ کمال ستارے والے کی گاڑی نمودارہوئی․․․․․․․ انہوں نے بھی اپنے بڑے بھائی والا طریقہ آزمایا۔

ہماری عزت بڑھائی․․․․․․ نہایت ادب سے ملے اور بڑے پیارے سے بغل گیر ہوکر رخصت ہوئے․․․․․․سمائل پاس کی“ اور نہایت آہستہ رفتار سے روانہ ہوگئے․․․․․․ کھوئے سے الجھے الجھے سے جیسے کروڑ پتی ہونے سے پہلے ہوا کرتے تھے۔ آپ حیرت زدہ نہ ہوں․․․․․․ کہ یہ سب اس قدر بڑی تبدیلی کیونکرعمل میں آئی․․․․․․․ یہ سیٹھ کمال سیٹھ اسماعیل ستارلے والے․․․․․انسانی حقوق پر اس قدر اچھے انداز میں عمل پیرا کیونکر ہونے لگے ان کے شاہانہ رویہ کی جگہ اس قدرانسانی ہمدردی والا رویہ کیونکر سامنے آیا۔

توسن لیجئے جناب․․․․․․․ اپنی بے عزتی کابدلہ لینے کے لئے ماسٹر قمرکمانی نے کہا کہ چلو سرتوڑ کوشش کریں اور ان نئے نئے امیر ہونے والے بددغاموں کے اندر نفرت کابیج بودیں․․․․․ ان دونوں کو لڑوا دیں، الجھا دیں اور رنگ میں بھنگ ڈال دیں۔ یہ انگریزی طریقہ کامیاب ہوا ہم سب بڑے اطمینان سے زندگی گزاررہے ہیں اور نفرت کا جو بیج ہم نے بویا تھا․․․․․․ اس سے پیدا ہونے والا پودا تیزی سے پھل پھول رہاہے․․․․․․ بلکہ تنا آور درخت بن چکا ہے۔ جلد امید ہے ماسٹر قمرکمانی سیٹھ کمال اور سیٹھ اسماعیل ستاروں والے کوبلائیں گے اور کہیں گے کہ ” سیٹھ بردران“ آؤ ہمیں ہنساؤ مہینے بعد آٹے کا ایک تھیلا کنٹرول ریٹ پر لواور گھر جاؤ۔

Your Thoughts and Comments