Main Ny Kaha Kuch Nahi Es Ny Kaha Thek Hai

میں نے کہا کچھ نہیں ‘اس نے کہاٹھیک ہے

عطاالحق قاسمی جمعرات فروری

Main Ny Kaha Kuch Nahi Es Ny Kaha Thek Hai

میں گزشتہ تین چار ماہ کے دوران کوئی کالم نہیں لکھ سکا بس اپنے قارئین کی مزے مزے کی باتیں سنتا رہا ہوں جو وہ خطوں میں سرراہے ملاقات کے دوران اور ٹیلی فون پر کرتے رہے ہیں میرے کالم نہ لکھنے کے حوالے سے ان میں بعض کے اندازے اورقیاسات بہت دلچسپ تھے بلکہ اس دوران میں نے اپنے بارے میں کچھ افواہیں بھی سنیں جو اتنی دل خوش کن تھی کہ تردید کو جی نہیں چاہتا مگر آخر اللہ کو جان دینی ہے لہٰذا کیوں نہ صاف صاف بتا دوں کہ پہلے میں اپنا سٹڈی روم بنانے اور سنوارنے میں لگارہا محض اس خیال سے اگر سٹڈی قسمت میں نہیں تو کم از کم سٹڈی روم تو ہو اس کے بعد تین ہفتوں کے لیے یورپ چلا گیا اورواپسی پر کمر کی تکلیف نے اپنی لپیٹ میں لے لیا تاہم اتنا واضح رہے کہ دورہ یورپ اور کمر کی تکلیف کا آپس کا کوئی تعلق نہیں کہ ڈاکٹر کی ہدایت کے مطابق میں نے کوئی وزنی چیز نہیں اٹھائی چنانچہ سفر کے دوران اپنے سامان وغیرہ کے ضمن میں اپنے دوستوں کو زحمت دیتا رہا واپسی پر میں نے ڈاکٹر کو چیک اپ کرایا تو اس نے مکمل آرام کا مشورہ دیا اور کہا کہ جسمانی تو کیا کوئی دماغی کام بھی نہ کرنا میں نے عرض کیا کہ ٹی وی سے ڈرامے کا وعدہ کرچکا ہوں ڈاکٹر نے کہا ڈرامے کی خیر ہے وہ لکھتے رہیں،ممکن ہے میری یہ وضاحت بلکہ وضاحتیں تسلی بخش نہ ہوں چلیں ان کو دفع کریں نمونے کے طور پر ایک اور وضاحت پیش کرتا ہوں
” اگر قبول افتدز ہے عزو شرف“بات یہ ہے کہ میں لکھنے کے معاملے میں موڈ کا پابند ہوں بہت عرصے سے کوشش کررہا ہوں کہ کالم سے میری کوئی غرض وابستہ ہو جائے تاکہ اسی بہانے کالم تو باقاعدگی سے لکھ لوں لیکن منزل کی طرف دو گام چلنا تو درکنار یہ منزل جب خودچل کر میرے سامنے آتی ہے تو اس عفریت کے خوفناک پنجے دیکھ کر مجھ پر لرزہ سا طاری ہوجاتا ہے اور میں چیخ مار کر بھاگ کھڑا ہوتا ہوں میرا ایک شعر ہے چلیں چھوڑیں شعر کو ورنہ آپ میری یہ وضاحت یہ کہہ کر مسترد کردیں گے کہ یہ وضاحت تو محض اپنا شعر سنانے کے لیے تھی قارئین کرام کی تسلی اس وضاحت سے بھی نہ ہوئی تو میری زنبیل میں اسی طرح کا ایک اور دانہ موجود ہے بات یہ ہے کہ کالم لکھتے ہوئے پچیس سال ہوگئے ہیں ایک عرصے تک یہ کالم لکھنے کے بعد یہی سوچا کہ صبح جب کالم شائع ہوگا تو ہر طرف تھرتھلی مچ جائے گی خیر کی فتح ہوگی اور شر کے علمبردار منہ چھپاتے پھریں مگر یہ عقیدہ بہت دیر بعد کھلا کہ قلم کے مقابلے میں پستول کی اہمیت زیادہ ہے مجھے بتائیں کہ لکھنے سے آج تک ملک و قوم کا کونسا مسئلہ ہے جو حل ہوا ہے؟ہمارے ایک سابق حکمران تھے جو ہمارے مروجہ اخلاقی معیاروں کے لحاظ سے گزشتہ سب حکمرانوں سے زیادہ نیک اور شریف تھے وہ کالم نگاروں کو ان مسائل کی مسلسل نشاہدی پرکھل کر داد دیا کرتے تھے صرف انداز بیان کی داد دیتے تھے سو ایک وقت آتا ہے کہ لکھنا لکھانا محض ذہنی عیاشی کے زمرے میں دکھائی دیتا ہے گزشتہ دنوں مجھے بھی یہ عمل کچھ اسی قماش کا لگنے لگا تھا میں نے اپنے قارئین کے کہڑے میں کھڑے ہوکر اتنی وضاحتیں بیک وقت کردی ہیں وہ اگر چاہیں تو سب کی سب منظور کرلیں اور چاہیں تو ان میں سے کسی ایک کو صحیح سمجھ کر میری خطائیں معاف کردیں اور اگر میری کسی وضاحµت سے بھی مطمئن نہ ہوں بلکہ اتنی طویل غیر حاضری کو محض مری ہڈ حرامی پر محمول کریں تو ٹھیک ہے کہ اپنے پیاروں کے سامنے کون بول سکتا ہے غالب کا ایک شعر ہے۔

(جاری ہے)


”میں نے کہا کہ بزم ناز غیر سے چاہیے تہی“
”سن کے ستم ظریف نے مجھ کو اٹھا دیا کہ یوں“
اس کی پیروڈی انور مسعود نے یوں کی ہے۔
”میں نے کہا کہ بزم ناز‘اس نے کہا کہ کیا کہا“
”میں نے کہا کہ کچھ نہیں‘اس نے کہا کہ ٹھیک ہے“
میں نے بھی اس کالم کو کچھ غرض کرنے کی کوشش کی ہے اگز بزم ناز سے کیا کہا کی آواز آئے تو سمجھ لیں کہ میں بھی دبک گیا ہوں اس کے بعد اس شعر کو پیروڈی نہیں میرے ضمن میں احوال و اقعی سمجھا جائے بڑی مہربانی ہوگی!

Your Thoughts and Comments