Malka Ghazal

ملکہ غزل

منگل ستمبر

Malka Ghazal

جب سے ہمیں یہ پتہ چلا ہے کہ ملکہ ترنم نور جہاں نے باقاعدہ شاعری شروع کردی ہے۔ان کی غزلوں کی کتاب عنقریب چھپ کر”بازار“میں آرہی ہے‘تب سے ہم سوچ رہے ہیں کہ یہ اطلاع ہے یادھمکی۔ملکہ ترنم ہمیں تب سے پسند ہیں جب ہم ابھی اردو کی پہلی کتاب پڑھ رہے تھے۔ان دنوں والد محترم ہمیں لاہور لائے اور مقبرہ جہانگیر کی سیرکروائی۔واپسی پروہ ہمیں مقبر ہ نور جہاں لے گئے تو ہم زارو قطاررونے لگے۔

والد صاحب نے پوچھا”تمہیں نور جہاں کی کیا بات پسند تھی؟“ہم نے روتے ہوئے کہا :”اس کے گانے۔“پھر جب ہم بڑے ہوئے اور ہم نے ”اردو کی آخر ی کتاب پڑھی تو ہمیں پتہ چلا اس سے قبل ایک ملکہ غیر ترنم نور جہاں ہوا کرتی تھیں ۔بقول ابن انشاء ”جن لوگوں نے سہراب مودی کی فلم ”پکار“دیکھی ہے اس کے لیے جہانگیر کی ذات اور کارنامے محتاج تعارف نہ ہوں گے۔

(جاری ہے)

اس کی بیوی نور جہاں تھی جو ملکہ ترنم تونہ تھی لیکن بعض اور کمالات رکھتی تھی۔ابھی نو عمر ہی تھی اور لوگوں کے کبوتر پکڑ کر اڑادیا کرتی تھی۔خصوصا شہزادوں کے ۔بعد میں ایسی زور دار ملکہ ثابت ہوئی کہ بڑے بڑوں کے ہاتھوں کے طوطے اسے دیکھتے ہی اڑجایا کرتے تھے۔“جب سے ہمیں پتہ چلا کہ فلم انڈسٹری کی ملکہ نور جہاں نے شاعری شروع کردی ہے‘طوطے تو ہمارے ہاتھوں کے بھی اڑگئے ہیں ۔

شاعری اور گلوکاری کا چولی دامن کا ساتھ ہے۔جس میں چولی گلوکارہ کی اور دامن شاعری کا ہوتا ہے۔شاعروں میں بیشتر شر کاء کو سن کر لگتا ہے انہیں گلوکار ہو نا چا ہیے تھا ۔ہمارے ایک شاعر دوست کہتے ہیں ‘شاعری کے لیے بڑا ریاض چاہیے۔پچھلے ہفتے ملے اور کہنے لگے:”میں نے مشہور شاعر بننے کے لیے گلوکاری شروع کی تھی مگر محلے والے اس قدر ڈسٹرب کرتے ہیں کہ صبح تین بچے ہی اٹھ کر میرا دروازہ ‘دیواریں یہاں تک کی چھت بھی اس زور سے کھٹکھٹاتے ہیں کہ صبح جو ریاض کر رہا ہوتا ہوں ‘مجھے اس کی آواز سنائی نہیں دیتی ۔

“جرمن کہتے ہیں ‘ادب کے وہ ناقد جو لکھ نہیں سکتے ‘وہ اتنے خطر ناک نہیں ہوتے جتنے وہ ناقد جو پڑھ نہیں سکتے ۔ایسے ہی نقادوں کی رائے ہے کہ حبیب جالب مظفر وارثی اور صبا اختر شاعر کم کو ےئے زیادہ تھے۔سو گلوکاروں کے لیے شاعری میں بڑا سکوپ ہے۔اور اگروہ گلوکارہ ہو تو پھر کیا ہی کہنے۔میڈم نور جہاں تو ایک زما نے میں دیکھنے میں خود غزل لگتیں ۔

اگر چہ آج کل وہ دیوان لگنے لگی ہیں۔ شاعری کے حوالے سے میڈم کا نام پہلے ہی بہت ہے۔ایک بار تو ایک صاحب نے فیض احمد فیض سے کہہ دیا تھا کہ وہ نور جہاں والی غزل سنائیں ۔غزل عورتوں سے باتیں کرنے کو کہتے ہیں ‘لیکن میڈم جس عمر کی ہیں اس عمر کی عورتوں سے باتیں کرنا نظم ہی ہو سکتا ہے ۔اس عمر میں تو دل لگانا بھی دل کی ورزش کرنے کے زمرے میں آتا ہے ۔

پھر پتہ نہیں میڈم نظم کی طرح کیوں نہیں آئیں ‘جیسے عطاء الحق قاسمی لکھتے ہیں ان کے ایک شاعر دوست جو زمانہ طالب علمی میں ایک جماعت سے وابستہ تھے‘ایک بار کسی خاتون کے ساتھ سینما دیکھنے گئے۔رپورٹ پر ہائی کمان کے سامنے پیشی ہوئی تو انہوں نے کہا:”میری عزیز ہ دوسرے شہر سے آئی تھی‘فلم دکھانے لے گیا۔“یہ سن کر کہا گیا :”یہ تو ٹھیک ہے مگر جماعت کا نظم بھی کوئی چیز ہے ۔

“اس پروہ صاحب بولے :”نظم اپنی جگہ پر غزل بھی آخر کوئی چیز ہے۔“خواجہ پرویز نے میڈم کی شاعری کی اصلاح کی ہے جس سے خواجہ صاحب کی شاعری مزید رومانی ہو گئی ہے ۔صاحب مرد کو شاعری کرنے کے لیے ایک عورت چاہیے اور خواتین کو شاعری کے لیے ایک بندہ ۔رائٹر ز خوابوں کے محل بناتے ہیں ۔قارئین ان میں رہتے ہیں اور پبلشر زان کا کرایہ وصول کرتے ہیں ۔

میڈم کی شاعری کی کتاب ہی نہیں وہ تو جس ادبی تقریب میں شرکت کریں گی اس کی ٹکٹیں بکنے لگیں گی۔یوں ادبی حلقوں میں رونق ہو جائے گی۔ہم یہ تو نہیں کہتے پہلے ادبی حلقوں میں الو بولتے ہیں کیونکہ ایک بارہم نے کہہ دیا کہ ادیبوں کے نہ آنے کی وجہ سے حلقہ ارباب ذوق میں الو بول رہے تھے۔تب سے کئی نقاد ہم سے ناراض ہیں ۔میڈم بڑی حساس خاتون ہیں ۔جوانی میں تو وہ ذراسی بات پر خاوند سے کئی دن ناراض رہتیں جس پر منٹو صاحب نے کہا:”واقعی یہ دن کو ہی ناراض رہ سکتی ہیں ۔

“بے وقوف کا دل اس کی منہ میں ہوتا ہے اورعقل مند کا منہ اس کے دل میں ۔میڈم بھی دل سے گاتی ہیں ۔اب وہ دل لگا کرشاعری کریں گی لیکن اس شاعری کی ہی شہرت اورعزت میں اضافہ ہو گا ۔میڈم کو تو اس کا اتنا ہی فائدہ ہو گا جتنا اس نوجوان کو ہوا تھا جس نے یونین کے نمائندے کو چندے کی رقم دی اور ایک مقامی کلب کا شریک رکن چن لیا گیا تو اس نے پوچھا :”اب جب کہ میں رکن بن گیا ہوں ‘مجھے کیا حقوق حاصل ہوئے ہیں ؟“نمائندے نے کچھ دیر سوچ کر کہا :”میرے خیال میں آپ کو آئندہ سال پھر چندہ دینے کا حق حاصل ہو گیا ہے ۔“

Your Thoughts and Comments