Master Qamar Kamani Ki Wasiyat

ماسٹر کمرکمانی کی وصیت

منگل فروری

Master Qamar Kamani Ki Wasiyat
حافظ مظفر محسن:
ماسٹر کمرکمانی اپنے نام کے ساتھ ماسٹر لکھنا نہ جانے کیوں پسند کرتا ہے کیونکہ چنددن پہلے خود ہی موصوف نے بتایا کہ میں یوکبھی بھی کسی بھی سکول میں ماسٹر نہیں رہا پھر نہ جانے ماسٹر میرے نام کاحصہ کیسے بن گیا ویسے میں اپنے نام کے ساتھ ماسٹر لکھنا پسند کرتا ہوں (ماسٹر کمرکمانی نے سینہ تان کرکہا) ہاں البتہ میں نے اگر کبھی شہر بدلی کی تونئے شہرمیں اپنے نام کے ساتھ ماسٹر کی بجائے ڈاکٹر لکھنا پسند کروں گا ماسٹر جی یہ آپ کی یاکسی بھی انسان کی مرضی ہے کہ وہ جوچاہے اپنے نام سے پہلے یا بعد میں لگائے اور پھر وہ نام کا حصہ بن جائے ارے بے وقوف آدمی تم کیبل نہیں دیکھتے سوری ماسٹر جی ہمارے گھرمیں کیبل نہیں ہے میں نے بڑا سامنہ بناکرجواب دیاتو ماسٹر کمرکمانی سر پکڑ کربیٹھ گئے پھر بولے اوئے آدمی ٹی وی بھی ہے کہ نہیں جی ہاں جی ہاں ماسٹر جی وہ ہے مگر تصویر آتی ہے آواز نہیں مگر یہ توبتائیں آپ یہ مجھے آدمی آدمی کہہ کر کیوں بلارہے ہیں میں نے غصے سے پوچھا تو گویا ہوئے۔

(جاری ہے)


اوئے بے وقوف آدمی غصہ نہ کرجبر کر کیونکہ کچھ دنوں سے میں تمہیں پہلے کی طرح اوئے لڑکے کہہ کر بلانا چاہ رہاتھا مگر تمہاری پوری کاریگری کے باوجود یہ جو تمہاری قلموں سے کوئی کوئی سفید بال جھانک رہا ہے اُس سے اب میں تمہیں لڑکا توکہنے سے رہا میاں اللہ کو جان دینی ہے بندے کوسچ بولنا چاہئے اور یہ جو جناب نے سترسال سے اپنے نام کے ساتھ ماسٹر کااضافی چارج سنبھالا ہوا ہے یہاں سچ بولنے کی ضرورت نہیں اور یہ جو نئے شہر منتقل ہونے کا سوچ رہے ہو اور وہاں نئے نام یعنی ڈاکٹر کمرکمانی کہلوانا پسند کرنے والے ہو یہ سچ نہیں کیا یہ سچ مچ ہے کھیسانی سننے لگے تو ہنسی اور کھانسی کاملاپ ہوگیا کچھ نہیں سمجھ آرہاتھا کہ ماسٹر عرف ڈاکٹر کمرکمانی کھانس رہا ہے ہنس رہاہے یاشرمندگی کے مارے رورہا ہے خیر پھر واپس اپنی گفتگو کی طرف چلا گیا اور ارشاد ہوا میاں یہ جو کیبل پرتین تین چار چار منٹ کے اشتہار چل رہے ہیں کہ ڈاکٹر اور حکیم فلاں سے کینسر شوگر دل یرقان کمزوری معذوری سیاسی مجبوری گویا ہر مرض کے شافی علاج کے لیے آج ہی تشریف لائیں پھر فرمایا ارے آدمی یہ ڈاکٹر حکیم صاحبان ساتھ میں گولڈ میڈل ضرور لکھ رہے ہیں کیاکوئی ادارہ ہے جوان سے پوچھے حضور کیا صرف میٹرک کی ڈگری کسی نہ کسی طرح حاصل کرلینے کے بعد آپ ڈاکٹر بھی بن گئے حکیم بھی بن گئے طیب بھی بن گئے گولڈ میڈلسیٹ بھی ہوگئے یہ سب کیاہ ے کہاں سے آیا کیسے ہوااور عمر خیرسے آپ کی صرف 27سال ہے اور تین سال بعد آپ نے خود ہی آندھی سے بورڈ جب گرے گا اور نیا بورڈلکھوانے کی ضرورت محسوس ہوگی تو لکھ لینا ہے کہ قبلہ بڑے ڈاکٹر اور حکیم صاحب گولڈمیڈلسیٹ وغیرہ وغیرہ اور پھر وغیرہ ماسٹر کمرکمانی کے اس لمبے وضاحتی بیان کے بعد میرے پاس کوئی وضاحت نہ تھی اور میں نے کمال فراخدلی سے کہہ کر جان چھڑائی ماسٹر جی آپ ڈاکٹر کے ساتھ ساتھ کس محکمے کاعہدہ بھی ساتھ لکھ لیں جو جی چاہئے لکھ کر بیٹھ جائیں خیر ہے کوئی آپ سے نہیں پوچھے گا جن کوکوئی نہیں پوچھتا اُن کو اللہ ہی پوچھے گااور اللہ پاک کاپوچھنے کا اپنا ہی طریقہ کار ہے اس آخری طریقے نے ماسٹر کمر کمانی کوتھوڑا سا ہلا دیا اور وہ پھرگہری سوچ میں ڈوب گئے یار ہم چھوٹی چھوٹی چوریوں یاہلکے پھلکے جھوٹ سے گھبراجاتے ہیں گرفت میںآ نے کاڈردل پر قابض ہو جاتا ہے اور لوگ تو بڑے بڑے ڈاکے مارکر بھی بالکل نہیں گھبراتے چوبیس گھنٹے جھوٹ پہ جھوٹ بولنے پر بھی پریشان نہیں ہوتے اور جو وہ نہیں ہیں اور نہ ہی بن سکتے ہیں بیچ سڑک بلکہ چوراہے کے وہ بن جاتے ہیں اور پورا ڈھیٹ بن کر ہر آنے جانے والے سے آنکھیں بھی چارکرتے ہیں اور شرمندگی اُن سے کوسوں دور ہوتی ہوئی محسوس ہوتی ہے ماسٹر کمرکمانی خاصہ جزباتی ہوچکا تھااُس کی ہنسی غائب تھی اُس نے ایک سفید کاغذپکڑا اور اُس پر ایک اشتہار کی سی تحریر رقم کردی جس کا مفہوم یہ تھا۔


میں ماسٹر کمرکمانی (فی الحال) پورے ہوش وحواس میں ہوں جھوٹا اور مکارہوں۔ کیونکہ میں کبھی بھی کسی بھی اسکول میں ماسٹر نہیں رہا مگر ساری زندگی میں اپنے نام سے پہلے ماسڑ لکھتا رہا ہوں جس پر میں شرمندہ ہوں اداس ہوں حیران وپریشان ہوں لہٰذا آئندہ مجھے صرف کمر کمانی لکھا اور پکارا جائے اور موت کے بعد میری قبرپر یہ کتبہ لگایا جائے شکریہ
اس قبر میں کمرکمانی المعروف ماسٹر کمرکمانی دفن ہے اور بس“ میں ماسٹر کمرکمانی کی اس وصیت پر خاصہ پریشان ہوا مگر وہ مطمئن تھا کاش اس ملک کااربوں روپے لوٹنے والے کمر کمانی کی طرح ایسی ہی کوئی جھوٹی سچی تحریر لکھ دیں یاکم ازکم اقرار کرلیں کہ ہم اس ملک کو لوٹ لوٹ کر تھک گئے ہیں مگر اللہ کے فضل سے یہ ملک پھر بھی قائم ہے اور انشا اللہ سدا قایم رہے گا تاکہ قبر میں تواُن کوسکون مل جائے ورنہ اللہ کے سامنے جواب دینا ہوگا۔

Your Thoughts and Comments