Mera Kala Ay Dildar

میرا کالااے دلدار

جمعہ مارچ

Mera Kala Ay Dildar

ڈاکٹر محمد یونس بٹ
آپ اس عنوان سے یہ نہ سمجھیں کہ میں دلدار بھٹی کے بارے میں لکھنا چاہ رہا ہوں۔ویسے بھی ان کا رنگ ایسا ہے کہ جس محفل میں ہوں اس کو رنگین بنادیتے ہیں لا س اینجلز Los angeles کے بارے میں لکھنا چاہ رہا ہوں جو آج کل لوس اینجلزLos Angeles بن چکا ہے۔یہ وہ شہر ہے جس کے بارے میں ایک بار ھب کین نے لکھا تھا کہ میں لاس اینجلس گیا اور سارا دن اسے ڈھونڈتا رہا مگر وہ مجھے کہیں نہ ملا۔

وہاں تو باپ بیٹا بھی ایک دوسرے سے ملیں تو پہلی بات یہی کہیں گے”لگتا ہے آپ کو پہلے بھی کہیں دیکھا ہے؟وہاں دولت کیRat Race لگی رہتی ہے اور ریٹ ریس کا اس سے بڑا نقصان اور کیا ہوگا کہ اس میں جو جیت جائے وہ بھی ریٹ ہی رہتا ہے۔کہتے ہیں لاس اینجلس میں آپ آنکھیں بند کرکے جس کو بھی ہاتھ لگائیں گے وہ کالا ہی ہوگا جس کی وجہ شاید یہ ہو کہ آپ آنکھیں کھول کر بھلا کالے کو کیوں ہاتھ لگائیں گے ہمارے ہاں تو ”خاکی“ہی سیاہ و سفید کا مالک ہے لیکن وہاں تو رات کو اندھیرا بھی کالا سفید ہوتا ہے۔

(جاری ہے)

لاس اینجلس میں آپ کو گورے بیٹھے ہوئے نظر آئیں گے اورکالے ان کے لیے کھڑے۔وہاں گورے بلیک کے ساتھ میل رکھنا اتنا ہی براسمجھتے ہیں جتنا ہم بلیک میل کرنا۔اگر کوئی گورے کو سنے تو یقین کرلیں وہ اس کا گانا سن رہا ہوگا۔کہتے ہیں کالوں کے گانے اور گالیاں تو بہرے بھی خوش ہوکر سنتے ہیں شاید وہ سن کر اپنے بہرے ہونے پر خوش ہوتے ہوں گے ویسے بلیک سنگر کا کیسٹ رنگین ہوکے بھی بلیک ہوتے ہوئے ہم نے خود دیکھا ہے۔

جیمز بالڈروں نے جب کہا کہ جلد کی رنگت دیکھ کر اندازہ نہیں کیا جاسکتا کہ کون کالا ہے؟تو لاس اینجلس میں یہ مسئلہ کھڑا ہوگیا کہ کیسے پتہ چلایا جائے فلاں کالا ہے‘کسی سیانے کالے نے کہا اگر تم کسی شخص کو رولز رائس میں بیٹھا دیکھو تو یقین کرلوکہ وہ کالا نہیں ہے بشرطیکہ وہ شوفر نہ ہو اسمبلی میں مشہور ہے کہ کالے رکن خود کلامی کرتے ہیں ایک گورے رکن اسمبلی نے کہا میرے ساتھ والا کالا رکن اسمبلی میں خود کلامی کرتا ہے مگر وہ سمجھتا ہے میں اس کی بات سن رہا ہوں۔

امریکہ وہ ملک ہے جو اس وقت خلائی شنل تیار کررہا تھا جب ہمارے ہاں صرف شٹل کاک برفعے تیار ہوتے تھے خلائی تحقیق میں تو امریکی خلا باز خداتک پہنچنے کی کوشش کررہے ہیں ویسے ہمارے لیے تو یہ کوئی بڑی بات نہیں ہمارے تو صدر ضیاءالحق اور جنرل اختر عبدالرحمان بذریعہ ہوائی جہاز خدا تک پہنچ بھی چکے ہیں اتنی ترقی کے باوجود امریکہ صرف ایک کالے کو گورا کرسکا اوروہ ہے مائیکل جیکسن جس نے چہرے کی جلد پلاسٹک سرجری سے گوری کرلی لیکن وہ بھی کہتا ہے میں پیدائشی کالا نہیں جب میں پیدا ہوا تو گوراتھا مگر ہسپتال میں نرس کی غلطی سے مجھے کالے سے بدل دیا گیا۔


مارٹن لوتھر کنگ کو بھی بالاخر یہ کہنا پڑا کہ ”میں کسی گورے کا برادر تو بن سکتا ہوں برادر ان لاءنہیں“یوں کالوں اور گوروں میں کوئی قانونی رشتہ نہ بن سکا،لاس اینجلس میں کسی سے پوچھو لیکگل کسے کہتے ہیں؟تو جواب ملے گا کہ امریکہ کے قومی پرندے کو امریکی عدالتوں میں ایک دوسرے پر روزانہ جتنے کیس ہوتے ہیں ہمارے ہاں تو روز اتنے ڈیلیوری کیس نہیں ہوتے لیکن عدالتیں ہمیشہ کالے دھن کالے کرتوتوں‘کالے چوروں اور کالوں کے خلاف ہی فیصلہ دیتی ہے۔

یہی نہیں ہمارے ہاں بھی ہوتی ہے کہ برے کا منہ کالا کرکے اسے گدھے پر بٹھا کر یوں پھرایا جاتا ہے کہ اکثر لگتا ہے یہ سزا اس بندے کو نہیں گدھے کو دی جارہی ہے۔ہم تو کہتے ہیں اگر لاس اینجلس جیسے حادثوں سے بچنا ہے تو عدالتیں سفید کرتوتوں اور سفید چوروں کے خلاف بھی فیصلہ دیں آخر برے کا منہ سفید کرکے اسے گلیوں میں کیوں نہیں پھرایا جاتا۔

Your Thoughts and Comments