Mohtarma Golokari Sahba

محترمہ گلوکاری صاحبہ

منگل مارچ

Mohtarma Golokari Sahba

ڈاکٹرمحمد یونس بٹ
ہمیں اتنا تو پتہ تھا کہ عطاءاللہ عیسیٰ خیلوی صاحب نے اتنی شادیاں نہیں کی جتنی طلاقیں دی ہیں کہ وہ تو طلاق بھی یوں دیتے ہیں جیسے دعا دے رہے ہوں۔ایک بار ایک دوست ان کی نئی بیوی کے لیے بازار سے تحفہ لینے گیا دکان پر بڑا رش تھا دیر ہوگئی تو اس نے آکر سب سے پہلے پوچھا لالہ ابھی تک بھابھی وہی ہے ناں‘لیکن ہمیں یہ خیال تک نہ تھا کہ وہ ایک دن محترمہ گلوکاری کوبھی طلاق دے دیں گے۔

پچھلے دنوں میڈم نور جہاں نے یہ انکشاف کیا کہ صرف دو آدمی ہیں انہیں گلوکاری سے عشق ہے ایک میں اور ایک عطاءاللہ عیسیٰ خیلوی۔ہمارے لیے یہ بڑا انکشاف تھا کیونکہ ہم اس سے پہلے میڈم کو آدمی نہیں عورت سمجھتے تھے بہر حال گلوکاروں میں صرف عطاءکو میڈم نے آدمی مانا جو بڑی بات ہے۔

(جاری ہے)

اگرچہ عطاءکو جو گانا سن کر نکلے وہ یہ کہتا ہے یہ اللہ کی عطا ہے۔

ہم نے ہمیشہ اسے اللہ کا عطا ہی کہا بہر حال یہ آج پتہ چلا کہ گلوکاری ان محبوبہ نہیں زوجہ تھی حالانکہ آج بھی کسی کی محبوبہ بھاگ جاتی ہے تو وہ تھانے میں ریٹ بعد میں درج کراتا ہے عطاءکی کیسٹیں پہلے خریدتا ہے اس کی کیسٹوں کے بکنے کی تعداد سے ملک میں ناکام عاشقوں کی مردم شماری بلکہ نامردم شماری کی جاسکتی ہے۔
عطاءکو پاکستان کا بچہ بچہ بلکہ بچی بچی جانتی ہے وہ اس قدر سچا ہے کہ جس سے پانچ منٹ کے لیے بھی عشق کیا سچا کیا حیرانی کی بات یہ ہے کہ اس کا ہر جاننے والا اس کے عشق کی ایک نئی کہانی سنائے گا اور اس سے حیرانی کی بات یہ ہے کہ یہ کہانی سچ بھی ہوگی۔

نوجوانی میں اپنے محلے میں پورا ہفتہ جو کرتا محلے کا مولوی جمعہ کے خطبے میں وہ سب کچھ سب کو بتادیتا۔جس سے یہ پتہ چتا نہ چلتا کہ عطا کیا کرتا ہے یہ ضرور پتہ چل جاتا کہ مولوی پورا ہفتہ کیا کرتا ہے اس قدر سست ہوتا کہ محلے میں ایک سبزی بیچنے والی تھی۔ایک دن اس سے سبزی لینے گیا اس وقت خاتون کا بیٹا دوسری جماعت میں پڑھتا تھا۔جب یہ سبزی لے کر واپس آیا تو وہ لڑکا چوتھی جماعت میں تھی۔

عطاءایک سیلف میڈ آدمی ہے جن دنوں میں آرا مشین چلاتا تھا لوگوں کی آرا کے مطابق ان دنوں دو ہی مشہور چیزیں تھیں عطاءاللہ کا آرا اور شیسم آرائ۔فیصل آباد میں ڈرائیورنگ بھی کی ایسا ڈرائیور تھا جو تین پہیوں پر گاڑی چلاسکتا یعنی رکشا ڈرائیورتھا۔بہت محتاط ڈرائیورنگ کرتا ایک بار اس کا ساتھی ڈرائیور بہت تیز چلا رہا تھا تو اس نے کہا اپنی گاڑی میری دعاﺅں سے تیز نہ چلاﺅ‘تو ساتھی بولا:لالہ میں خود بڑا محتاط ہوں کیونکہ میرے دس چھوٹے چھوٹے بچے ہیں تو عطا نے کہا پھر بھی کہتے ہوکہ تم محتاط ہو۔

عطا نے اتنے حادثے سڑک پر نہیں کیے جتنے گھر میں کیے ہیں اور ہر بار مرتبہ محترمہ گلوکاری نے ہی اسے بچایا عطاءکو محترمہ گلوکاری سے اس قدر عشق ہے کہ وہ تو عورتوں سے بھری محفل میں آنکھیں بند کرکے گاتا ہے ان کی دیکھا دیکھی دوسروں نے بھی کوشش کی‘چند ایک ایسی محفلوں میں ایک آنکھ بند کرنے تک آگئے ہیں‘دیکھتے ہیں ان کی دنوں آنکھیں کب بند ہوتی ہے۔

بہر حال عطاءکی ریٹائرمنٹ کے بعد گلوکاری میں جو خلا پیدا ہورہا ہے سنا ہے اسے پر کرنے کے لیے استاد روشنی خان نے ابھی سے کوششیں شروع کردی ہے۔یقین نہ آئے تو ہر صبح ان کے ہمسایوں کو سوجھی آنکھیں دیکھی جاسکتی ہیں لیکن لوگوں کی رائے ہے کہ ان سے تو سمال سائز کا عوامی سوٹ پر نہیں ہوتا یہ خلا کیسے پرہوسکتا ہے۔سو ہم خدا کا شکر کرتے ہیں کہ کہیں نصرت فتح علی خان اور عابدہ پروین صاحبہ نے ریٹائر کا اعلان نہیں کیاورنہ ان کے جانے کے بعد جو خلا پیدا ہوتا وہ کیسے پر ہوتا کیونکہ عابدہ پروین اور نصرف فتح علی خان ایسے گلوکار ہیں جو بڑی دیر کے بعد پیدا ہوتے ہیں بندہ انہیں دیکھ لے تو اس دیر کی وجہ سمجھ میں آجاتی ہے۔


عطاءمیانوالی کی آواز ہے اور اس کی آواز میں میاں والی بلکہ کئی میاں والیاں ہیں۔وہ تو فیض احمد فیض کی غزل گارہا ہو تو بندے کو یقین ہوجاتا ہے فیض احمد فیض سرائیکی شاعر ہیں۔وہ دل لگا کر گاتا ہے یعنی پہلے دل لگاتا ہے پھر گاتا ہے سانس بھی سر میں لیتا ہے۔ساری رات وہ اور سر ایک دوسرے کو جگاتے رہتے ہیں۔عطاءرات بغیر سوئے تو گزار سکتا ہے مگر بغیر جاگے نہیں جتنی راتیں وہ جاگا ہے اتنے تو ہم دن نہیں جاگے وہ اپنے سننے کے لیے گاتا ہے یوں اس کے گلوکاری سے ریٹائر ہونے کی وجہ ہماری سمجھ میں نہیں آتی فرنیک کو نکلن نے کہا زندگی ختم کرنے کے جتنے بھی طریقے ہیںا ن میں سے سب سے آسان ریٹارمنٹ ہے۔

منور علی ملک نے عطاءپر ایک کتاب لکھی اور کہا یہ تین طرح سے پہلی کتاب ہے عطاءپر پہلی کتاب میری پہلی کتاب اور برصغیر میں کسی گلوکار پر پہلی کتاب واقعی پڑھنے کے بعد یہ پہلی کتاب ہی لگتی ہے ۔اس می انہوں نے عطاءکو درد کا سفیر کہا ہے سو ہوسکتا ہے عطاءنے اس سفارت سے ریٹائرمنٹ لی ہو لیکن انہوں نے یہ اعلان ”پرائڈ آف پرفارمنس“ملنے کی تقریب پذیرائی میں کیا جس سے لگتا ہے انہوں نے یہ ایوارڈ ملنے پر دلبر داشتہ ہوکر یہ قدم اٹھایا کیونکہ جب سے امجد حسین کو ”پرائڈ آف پرفارمن“ملا ہے کئی گلوکاروں نے گانا چھوڑدیا ہے ایک سے ہم نے پوچھا کیا آپ نے اس لیے گانا چھوڑا کہ آپ کو پرائڈ آف پرفارمنس نہیں ملا؟تو اس نے کہا نہیں اس لیے گانا چھوڑدیا ہے کہیں حکومت مجھے بھی پرائڈ آف پرفارمنس نہ دے دے۔

Your Thoughts and Comments