بند کریں
مزاح مضامین مولا نا زلزلہ

مزید مضامین

پچھلے مضامین - مزید مضامین

مزید عنوان

مولا نا زلزلہ
ہم صرف ان کے حق میں لکھتے ہیں جن کے ہم خلاف ہوتے ہیں کیونکہ ہم تو کسی کی تعریف بھی کردیں تو لوگ اس پر ہنسنے لگتے ہیں ۔پھر ہم سیاستدانوں کے بارے میں اتنا کم جانتے ہیں کہ ان کے ساتھ ہمیشہ عزت سے پیش آتے ہیں

ڈآکڑ محمد یونس بٹ

ہم صرف ان کے حق میں لکھتے ہیں جن کے ہم خلاف ہوتے ہیں کیونکہ ہم تو کسی کی تعریف بھی کردیں تو لوگ اس پر ہنسنے لگتے ہیں ۔پھر ہم سیاستدانوں کے بارے میں اتنا کم جانتے ہیں کہ ان کے ساتھ ہمیشہ عزت سے پیش آتے ہیں ۔ایک سیاستدان نے کہا تھا کہ جب لوگ کہتے ہیں کہ وہ مجھے جانتے ہیں تو میں گھبراجاتا ہوں ‘لیکن پھر جب وہ عزت سے پیش آتے ہیں تو مجھے یقین ہوجاتا ہے کہ یہ جھوٹ بول رہے ہیں ۔اس کے باوجود ہم مولاناڈیزل اور مولانازلزلہ پسند ہیں ۔مولانا فضل الرحمن اس لیے کہ ان پر اللہ کا بڑا فضل ہے وہ بچپن ہی سے بزرگ چلے آرہے ہیں ۔جب بھی ڈیزل مہنگاہوتا ہے ‘ہماری نظر میں ان کی قدرو ”قیمت “بڑھ جاتی ہے ۔قاضی حسین احمد اس لیے پسند ہیں کہ وہ جو کہتے ہیں ‘کرکے دکھاتے ہیں ۔جیسے ہفتے کے روزقاضی حسین احمد نے ڈسٹرکٹ بارروم مانسہرہ میں خطاب کرتے ہوئے کہا کہ عوام کی متحدہ قوت سے ہم حکمرانوں کے ایوان میں زلزلہ لے آئیں گے ۔اسی وقت یعنی ایک بج کر پانچ منٹ پر زلزلے کے جھٹکے محسوس ہونے لگے ۔شیکسپےئر نے کہا تھا نام میں کیارکھا ہے ۔تب شاید نام میں کچھ نہ ہوتا ہو‘ اب تو سب کچھ ہے ۔بے نظیر بھٹوکا نام بے نظیر زرداری ہوتاہے تو اس کے آدھے ووٹ کم ہوجاتے ہیں ۔شاید اسی لیے تہمینہ دولتانہ نے نواز کھوکھر کو کہا ہے کہ دونوں استعفیٰ دے کر ایک ہی حلقے سے الیکشن لڑیں ۔اگر میں ہارگئی تو اپنا نام بدل کر نواز کھو کھر رکھ لوں گی ۔ایسی ہی شیخ رشید نے کہا ہے حکومت اسی سال اپنے گھر چلی جائے گی ۔اگر نہ گئی تو میرا نام بدل کر آصف زرداری رکھ دینا ۔اس سے تو لگتا ہے کہ شیخ رشید کوشش کرے گاکہ حکومت اس سال اپنے گھر نہ ہی جائے ۔نواز شریف نے کہا ہے کہ بینظیر حکومت نے جو خزانہ لوٹا ہے‘ اس کی پائی پائی قوی خزانہ میں دوبارہ جمع نہ کرواؤں تو میرا نام بدل دینا ۔

اگر چہ انہوں نے یہ نہیں بتایاکہ پھر انہیں کس نام سے بلایاجائے ۔اس صورت میں تو انہیں بے نظیر ہی کہاجانا چاہیے ۔قاضی حسین احمد کے لیے تواب بھی دونوں بے نظیر ہی ہیں ۔جماعت اسلامی کے رکن قوی اسمبلی صاحبزادہ فتح اللہ خان تو فرماچکے ہیں کہ جماعت اسلامی نے فاطمہ جناح کے بڑھاپے کی باعث اس کی حمایت کی تھی ۔بے نظیر بھٹو کی مخالفت اس لیے کر رہے ہیں کہ یہ جوان ہے ۔ہمیں تو یہ بیان بے نظیر بھٹو کی تعریف لگتا ہے ۔امریکہ کے ایک محقق نے گالیوں پر کام کیا ۔وہ یہ جاننا چاہتا تھا کہ عورت کے لیے سب سے بڑی گالی کیا ہے ؟تحقیق کے بعد اس نے کہا :”عورت کے لیے سب سے ناپسند ید ہ گالی اسے یہ کہنا ہے کہ وہ بوڑھی ہوگئی ہے ۔“بہرحال ہم سیاستدانوں کے ناموں کی بات کررہے تھے ۔ان کے پاس نام کے علاوہ ہوتا ہی کیا ہے ؟کام بھی تو ان کے برائے نام ہی ہوتے ہیں لیکن گزشتہ دنوں مولانازلزلہ قاضی حسین احمد صاحب کا اخبار میں بیان پڑھ کر لگا کہ کسی اور نے بھی اپنا نام قاضی حسین احمد رکھ لیا ہے ۔بیان تھا کہ حکومت چندروز کی مہمان ہے ہم اسے جلد رخصت کر دیں گے ۔سچی بات ہے یہ بیان کوئی پٹھان دے نہیں سکتا ۔

پٹھانوں کے ہاں تو دشمن جان بھی مہمان بن کر آجائے تو اس کے بھی محافظ بن جاتے ہیں ۔ہمارے ہاں بڑے شاعر وہ ہوتے ہیں جن کے شعر وں کی ہم جیسوں کو سمجھ نہ آئے ۔ایسے ہی قاضی صاحب ہمارے بڑے لیڈر ہیں ۔نواز شریف کو الجبرا اور قاضی صاحب کو بھی سمجھ نہیں آئی ۔جمعیت علماء اسلام کے حافظ حسین احمد نے جنرل جہانگیر کرامت کے ادب میں کہاتھا :”ہماری فوج کے سالاروہ ہیں جو کافی بھی ٹھنڈی کر کے پیتے ہیں ۔“قاضی حسین احمد تو وہ لیڈر ہیں جو پانی بھی ابال کرپیتے ہیں ۔اتنی متحرک شخصیت کہ وہ بیٹھے بھی ہوں تو لگتا چل رہے ہیں ۔مستقل مزاج بندے ہیں ۔یاد رہے مستقل مزاجی اس سخت وقت کو کہتے ہیں جو آپ اس وقت کرتے ہیں جب سخت محنت کرکے تھک جاتے ہیں ۔قاضی صاحب جس دن کچھ نہ کریں ،اس دن انہیں تھکاوٹ ہوجاتی ہے (The State Pakistan Economy)کھولی تو جلد کے اندر کتاب الٹی تھی ۔ہم نے بک شاپ جانے سے کہا کہ یہ بائینڈر نے الٹی کردی ہے تو وہ بولا نہیں‘ موجود ہ حکوت نے کی ہے ۔ہمیں تو اخباروں میں پاپا نکئی ‘نصیر اللہ بابر‘ شیخ رشید‘ خالد کھرل اور دوسرے اعلیٰ و اعلیٰ وزیروں کے بیان پڑھ کر وہی لگتا ہے کہ پنجابی فلموں کے ڈائیلاگ پڑھ رہے ہیں‘ لیکن پھر قاضی کا بیان پڑھ کر وہی محسوس ہوتا ہے جو فلموں میں ہمایوں قریشی ‘ادیب نصر اللہ بٹ‘ شوقت چیمہ اور مصطفی قریشی کے بعد سلطان راہی کی بڑھگ سن کر محسوس ہوتا ہے ۔قاضی حسین احمد جوانوں میں بہت پاپولر ہیں ۔جس عمر کے جماعت کے امیر ہو گزرے ہیں‘ اس سب سے توقاضی صاحب بھی ابھی نوجوان ہی ہیں ۔آندروپوف کی وفات سے قبل 1980ء میں سوویت یونین کے پورٹ بیورو کے گیارہ اراکین میں سو چھ ستر برس سے ڈالر گئے تھے ۔صرف گورباچوف ساٹھ برس کے تھے جنہیں سب بچہ سمجھ کر بولنے نہ دیتے۔شاید اسی لیے جماعت اسلامی کا امیر بننے کے بعد لوگوں نے قاضی صاحب کو جماعت کا رباچوف کہنا شروع کردیا ۔گورباچوف تواب غرباء چوف ہو گیا جب کہ قاضی صاحب تو تعین کودر گورباچوف بٹانے میں لگے ہوئے ہیں ۔ایوان اقتدار اور ایوان انتظار دونوں اس لے سے گرز بھی رہے ہیں ۔اور کچھ پتہ نہیں چل رہا اس زلزلے کا مرکز کہاں ہے ؟

(0) ووٹ وصول ہوئے