Mulak Ka Sab Se Bara Masla

ملک کا سب سے بڑا مسئلہ

پیر جولائی

Mulak Ka Sab Se Bara Masla

میں نے گھر سے ”نوائے وقت “ جانے کے لیئے گاڑی سٹارٹ کی تو تھوڑی دیر بعد وہ بند ہو گئی اور پھر میری تمام تر کوشش کے باوجود سٹارٹ نہ ہو سکی۔میں اپنے گھر کے قریب واقع ایک ورکشاپ میں سے مکینک کو لے کر آیا جس کی کوششوں سے تھوڑی دیر بعد ہی گاڑی سٹارٹ ہو گئی ۔ میں نے خرابی کی وجہ پوچھی تو اس نے بتایا کہ پٹرول میں کچرا آگیا تھا۔ مجھے یاد آیا کہ گزشتہ روز میں نے اپنے قابلِ اعتماد پٹرول پمپ کی بجائے ایک دوسرے پٹرول پمپ سے پٹرول لیا تھا اور یہ خدشہ اسی وقت سے میرے ذہن میں موجود تھا کہ ناقص پٹرول کی وجہ سے گاڑی میں ضرور کوئی خرابی پیدا ہوگی۔


گھر سے ستلج بلاک تک کی سڑک جگہ جگہ سے ٹوٹی ہوئی تھی، جس کی وجہ سے مجھے اور گاڑی کو جو ہچکولے لگ رہے تھے، وہ ہم دونوں کا ستیا ناس کرنے کے لیے کافی تھے۔

(جاری ہے)

خدا کا شکر ہے کہ گندے نالے سے دوبئی چوک کی طرف مڑنے کے بعد سڑک ہموار ہو گئی اور میں اقبال ٹاؤن کی مین روڈ پر آگیا اور یہاں اس طرح کا کوئی پرابلم نہ تھا البتہ یہاں کا رپوریشن کا گندگی سے بھرا ہوا ٹرک میرے آگے لگ گیا اور چاروں طرف سے کھلا ہونے کی وجہ سے اس میں سے غلاظت نکل نکل کر سڑک پر بہہ رہی تھی جس سے پوری جگہ متعفن ہوگئی تھی۔

میں نے ہارن پہ ہارن دیئے مگر ٹرک ڈرائیور کے کان پر جوں تک نہ رینگی اور وہ سڑک کے عین درمیان میں ٹرک دوڑاتا رہا۔ خدا خدا کر کے اس ظالم کا دل پسیجا اور میں اسے اوورٹیک کرنے میں کامیاب ہو گیا!
وحدت روڈ پر بائیں جانب کے بعد سڑک بہت بہتر ہو گئی تھی چنانچہ میں نے کار کی رفتار مزید تیز کر دی مگر کچھ دیر بعد مجھے بریک لگانا پڑی کہ ایک دس بارہ سالہ، دونوں پاؤ ں سے معذور بچی گھسٹ گھسٹ کر سڑک پار کر رہی تھی۔

وہ تو خدا کا شکر ہے کہ زمین پر کیڑے مکوڑے کی طرح رینگتی ہوئی یہ بچی کار کی سکرین میں سے نظر آگئی ورنہ اس کا حشر بھی زمین پر رینگنے والے دوسرے کیڑوں مکوڑوں جیسا ہوتا۔ وحدت روڈ کے اختتام پر ایک سگریٹ کی دکان کے پاس میں نے کار روکی۔ آٹھ نو سال کا ایک بچہ آرڈر لینے کے لیئے دوڑا دوڑا میرے پاس آیا، اتنی ہی عمر کے ایک دوسرے بچے نے میلے ہاتھوں میں پکڑے ہوئے ایک میلے کچیلے کپڑے سے میری کارکو مذید چمکانا شروع کر دیا، برقع میں ملبوس ایک عورت چندماہ کی بچی گود میں لئے ہوئے میرے سامنے ہاتھ پھیلا کر کھڑی ہو گئی۔

اتنے میں لڑکا سگریٹ لے آیاتھا۔ میں نے چینج ان سب میں تقسیم کر دیا اور بائیں ہاتھ مڑ کر فیروز پور روڈ پر آگیا۔رحمان پورہ میں ، میں نے اپنے درزی سے کپڑے لانا تھے چنانچہ میں فیروزپورروڈ پر ذرا سا چلنے کے بعد بائیں ہاتھ رحمان پورہ کی طرف مڑ گیا۔ٹیلر ماسٹر دکان میں موجود نہیں تھا، میری نظر سڑک کے دوسرے کنارے پر گئی تو وہ منہ دیوار کی طرف کئے کھڑا تھا، تھوڑی دیر بعد وہ ازار بند باندھتا ہوا دکان میں داخل ہوا، میں نے کہا ماسٹرجی!سرعام یہ حرکت کرتے ہوئے آپ کو شرم نہیں آتی؟ماسٹر جی نے گردن جھکا کر کہا۔

”آتی ہے جی!لیکن اس پورے علاقے میں ٹائلٹ نہیں ہے، اگر زیادہ دیر شرم ضبط کیا جائے تو اس سے کئی گنا شرمندگی اٹھانا پڑتی ہے!“ ماسٹر نے ڈاکوؤں ، زنا بالجبر، غبن اور سکینڈلز کی خبروں سے بھرے ہوئے ایک اخبار میں میرے کپڑے لپیٹے اور مجھے تھما دیئے!
واپس فیروز پور روڈ آنے کے بعد میرا رُخ اچھرے موڑ کی طرف تھا۔اچھرے موڑ پر ڈیڑھ دوسو کے قریب مزدور ہاتھ میں برش، کوچی اور کدالیں وغیرہ پکڑے کھڑے تھے، مضافات سے مزدوری کی تلاش میں آنے والے ہی لوگ روزانہ شہر کے مختلف چوراہوں میں کھڑے نظر آتے ہیں اور روزانہ خالی گھروں میں لوٹ جاتے ہیں جہاں ان کے بچوں کی گرسنہ آنکھیں ان کی منتظر ہوتی ہیں چنانچہ میرے لئے یہ منظر نیا نہیں تھا۔

شمع سینما سے آگے دائیں ہاتھ پر جیل کے دروازے کے باہر بیسیوں عورتیں، بچے اور بوڑھے اپنے ان لواحقین سے ملنے آئے تھے جن پر ابھی جرم ثابت نہیں ہوا لیکن وہ برسوں سے اس حوالاتی جیل میں بند ہیں۔ آگے چل کر پندرہ بیس مدقوق سے چہرے نظر آئے، یہ سب ننگے پاؤں تھے، ان کے کپڑے بوسیدہ تھے اور آنکھیں اندرکو دھنسی ہوئی تھیں۔ آگے آگے ڈھول بج رہا تھا اور پیچھے چار افراد ایک سبز رنگ کی چادر کو چاروں کونوں سے پکڑے چل رہے تھے۔

ان کی کوئی مراد بر آئی تھی چنانچہ وہ کسی بزرگ کے مزار پر شکر انے کے لئے چادر چڑھانے جا رہے تھے، رستے میں دیورایں جعلی حکیموں اور ڈاکٹروں کے اشتہارات سے بھری پڑی تھیں۔ جعلی لیڈروں کے بڑے بڑے پوسٹر بھی دیوار وں پر لگے تھے۔ میں نے گاڑی مزنگ چونگی سے کوئز روڈ کی طرف موڑلی۔
یہاں نئی نکورچمکتی دمکتی کاروں کے شو روم تھے۔ لاکھوں روپے مالیت کی ان کاروں کے خریدار یہاں نوٹوں سے بھرا بریف کیس الٹتے ہیں اور نئے ماڈل کی کار لے کر اپنے گھروں کو روانہ ہو جاتے ہیں۔

جہاں تمام افراد خانہ کی الگ الگ کاریں پہلے سے موجود ہوتی ہیں۔ پلازہ سینما سے چند قدم آگے جانے کے بعد میں نے اپنی گاڑی بائیں جانب موڑی اور ”نوائے وقت کے دفتر کے سامنے کھڑی کر کے اوپر میگزین سیکشن میں چلا آیا اور اپنی ڈاک کھول کر دیکھنے لگا۔ پہلا خط تاندلیا نوالہ کے ایک قاری کا تھا، اس نے لکھا تھا”قاسمی صاحب !آپ اکثر ادھر ادھر کے موضوعات پر لکھتے رہتے ہیں، جن کا ہمارے اصل مسائل سے کوئی تعلق نہیں ہوتا۔ میرے خیال میں ملک کا سب سے بڑا مسئلہ اخبارات میں خواتین کی تصویروں کی اشاعت کا ہے۔ یہ تصویریں دیکھ کر میری آنکھوں میں خون اتر آتا ہے اور شرمندگی سے میری آنکھیں جھک جاتی ہیں، کیا ہم نے پاکستان اسی لئے بنایا تھا کہ۔۔۔۔“

Your Thoughts and Comments