Na Karda Gunah

ناکردہ گناہ

عطاالحق قاسمی جمعہ 2 مارچ 2018

1991 کے آغاز میں میں نے سوچا تھا کہ سال کے اختتام تک میں یہ کچھ کروں گالیکن 1991 مجھے خاصا جلد باز قسم کا سال محسوس ہوا کہ پلکے جھپکتے ہی گزرگیا اگر یہ سال پلک جھپکتے میں نہ گزرتا تو میں ایسے کارہائے نمایاں انجام دیتا کہ دنیا انگشت بدنداں رہ جاتی مثلاً میرا ارادہ بلیک میلر قسم کا صحافی بننے کا تھا مگر حاشاو کلا ءمستقلا نہیں بس دو بار کروڑ روپے بنانے کے بعد باقی عرصہ یاد اللہ میں بسر کردیتا ایک ارادہ سیاست میں آنے کا بھی تھا روزانہ رسی کا ایک سانپ بناکر حکمرانوں کے سامنے چھوڑدیتا اور وہ بے چارے اس سے ڈر جاتے ہیںا ور میں دیوار کے پیچھے چھپ کر ان کی سراسمیگی سے لطف اندوز ہوتا 1991 کے آغاز میں میں نے کسی بینک سے قرضہ لینے اور اسے معاف کرانے کا پروگرام بنایا تھا تاکہ میرا شمار بھی بڑے لوگوں میں ہو لیکن افسوس کہ یہ کام بھی نہ کرسکا اور یوں میں چھوٹے کا چھوٹا ہی رہا ایک خیال یہ بھی تھا کہ کوئی چھوٹا موٹا کاروبار کروں گا یعنی کراچی موٹروے کا ٹھیکہ لوں گا لیکن
”پر خیال آیا کہ موسیٰ بے وطن ہوجائے گا“
چنانچہ یہ آئیڈیا بھی میں نے ڈراپ کردیا 1991 میں میں نے اس طرح کے کئی منصوبے بنائے تھے مثلاً اپنی سوانح حیات لکھنے کا منصوبہ بھی اس میں شامل تھا اور اس کا مقصد محض 1965 کی جنگ کے حوالے سے بہت بڑے بڑے انکشافات کرناتھا اگرچہ وہ میرا زمانہ طالب علمی تھی لیکن حب الوطنی کے جذبے کے تحت شہری دفاع کی تربیت حاصل کرنے کے بعد میں اپنے علاقے کا وارڈن مقرر ہوا تھا اور شہری دفاع کی وردی پہنے راتوں کو اپنے دوستوں کے ساتھ گلیوں بازاروں میں گھوما کرتا تھا 1965 کی جنگ کے بارے میں من مانے انکشافات کرنے کے لئے یہ کافی تھا سال گزشتہ کے دوران ایک پروگرام میں نے یہ بھی ترتیب دیا تھا کہ اپنے بہت سے سیاستدانوں علمائے کرام دانشوروں اور صحافیوں کی طرح میں بھی اپنا تعلق کسی سفارت خانے سے قائم کروں گا تاکہ ڈالر درہم تمن دینار اور ریال وغیرہ کماسکوں کہ ہمارے ہاں یہ کام نہ صرف یہ کہ غداری کی ذیل میں نہیں آتا بلکہ الٹا انسان اونچے جوڑوں میں آجاتا ہے لیکن افسوس کہ بزدلی کی وجہ سے ایسا نہ کرسکا ایک اور کام جو میں 1991 میں کرتے کرتے رہ گیا وہ صدر غلام اسحاق خان اور وزیر اعظم میاں نواز شریف میں پھوٹ ڈلوانے کا تھا مگر پھر یہ سوچ کر اس منصوبے میں ہاتھ آٹھالیا کہ طرفین اس ضمن میں بھی خود انحصاری کی پالیسی اپنائے ہوئے ہیں یہ تو وہ کام ہیں جو میں1991 میں ملکی سطح پر کرنا چاہتا تھا اور میں نے بوجوہ ارادہ ترک کردیا لیکن کچھ منصوبے بین الاقوامی نوعیت کے تھے مثلاً میرا ارادہ بش کو ہٹا کر اس کی جگہ خود لینے کا تھا تاکہ امن عالم کے قیام میں جو تھوڑی بہت کسر ہے وہ بھی پوری ہوجائے لیکن مجھے گوربا چوف نے ہی کہہ کر منع کردیا کہ اس بے وقوف کے منہ نہ لگو مجھے گوربا چوف کے منہ سے بیوقوف کا لفظ اتنا اچھا لگا کہ میں نے یہ ارادہ ترک کردیا 1991 میں میں نے ایک پروگرام یہ بنایا تھا کہ اس وقت جب کشمیر اور کشمیری پاکستان بازوﺅں میں آنے کے لئے اپنا سب کچھ قربان کرنے پر تلے ہوئے ہیں میں حکومت کو کشمیریوں کی تحریک کے حوالے سے سرد مہری کی پالیسی اپنانے کا مشورہ دوں جیساکہ ماضی میں ہماری حکومتیں دو تین مواقع پر ایسا کرکے کشمیریوں کو پیچھے دھکیل چکی ہے لیکن خواہ مخواہ ہلکا کویں پڑوں ایک ارادہ میرا یہ بھی تھا کہ افغان مسلمانوں کے دلوں میں پاکستانی عوام کے لئے محبت کا جولازوال جذبہ پیدا ہوچکا ہے اسے زائل کرنے کے لئے حکومت کو کچھ ایسا مشورہ دیا جائے اور اسے اپنا بوججھ کسی ایسے پلڑے میں ڈالنے کے لئے کہا جائے جس سے ساری کیتی کرائی پر پانی پھر جائے مگر پھر سوچا کہ امریکہ گیم کو الٹانے کے لئے پہلے ہی بہت زور لگا رہا ہے مجھے اپنا زور ضائع کرنے کی کیا ضرورت ہے؟ اور اس طرح کے بہت سے دوسرے خیالات تھے جو1991 کے دوران میرے ذہن میں آتے رہتے ہیں لیکن مختلف وجوہ کی بنا ءپر انہیں عملی جامعہ نہ پہنا سکا آپ سوچ رہے ہوں گے کہ میں کتنا گھٹیاآدمی ہوں جو ملک قوم اور انسانیت کے مفاد کو پس پشت ڈال کر صرف اپنا یا دشمنوں کا فائدہ سوچتا رہا اگر آپ اس طرز عمل کو گھٹیا سمجھتے ہیں تو ٹھیک ہے اس صورتحال میں آپ اس طرح کے ان تمام لوگوں کے چہروں پر سے نقاب نوچ لیں جو آپ کے درمیان انتہائی معزز روپ میں موجود ہیں تاکہ 1991 میں تو جو ہوا سو ہوا1922 میں یہ سب کچھ نہ ہوسکے!

Your Thoughts and Comments