Nafarmani Ki Saza !

نافرمانی کی سزا

ہفتہ جولائی

Nafarmani Ki Saza !

فضلو ایک غریب لکڑ ہارا تھا سارا دن لکڑیاں کاٹ کاٹ کر مشکل سے ایک آدھ رو پیہ کماتامگر اس کی بیوی میں بہت فضول خرچ نافرمان ضدی اور بدزبان تھی اس لیے ان کا گزارا مشکل سے ہوتا تھا۔نصیبن ہمیشہ فضلو سے لڑتی جھگڑتی رہتی ذراذ را سی بات پراسے ڈانتی اور تقریباََہر وقت شوروغل سے گھر سر پر اٹھائے رکھتی، ہمسائے اس سے تنگ اور محلے والے اس سے بیزار تھے اس کی زبان قینچی کی طرح چلتی تھی۔

خاوند کی ہر بات سے انکار کرنا اس کی عادت میں داخل ہو چکا تھا جب بھی وہ کوئی بات کہتا تو وہ ہمیشہ اس کا الٹ کرتی ،اگرو ہ روٹی مانگتا تو وہ اسے روٹی نہ دیتی، ہاں اگر وہ کہتا کہ مجھے بھوک نہیں اور میں روٹی نہیں کھاوٴں گا تو وہ اسے زبردستی روٹی کھلاتی لہذا اسے جس چیز کی خواہش ہوتی وہ ہمیشہ اس سے الٹ کہتا تب کہیں جا کر اسے وہ شے ملتی۔

(جاری ہے)

چنانچہ فضلو اس سے بہت تنگ آ چکا تھا۔

آخرکار اسے ایک بات سوجھ ہی گئی اور وہ اسے کہنے لگا " دیکھو بیوی ہم باہر کبھی نہیں جائیں گے کیونکہ جو آرام گھر میں ہے وہ باہر نہیں مل سکتا پہن کر وہ ضدی عورت باہر جانے کے لیے تیار ہوگئی اور وہ دونوں باہر چل پڑے۔ راستے میں ایک تالاب پڑتا تھا۔ فضلو تالاب دیکھ کر کہنے لگا ہم اس وقت بالکل نہیں نہائیں گے ، نصیبن ایک دم نہانے کو تیار ہوگئی۔

جب وہ تالاب میں اتری تو فضلو نے آواز دی۔ بیوی آ گے مت جانا پانی گہرا ہے ڈوب جاوٴ گی مگر وہ اپنی ضد پر اڑی رہی وہ جونہی آگے بڑھی گہرے پانی میں غوطے کھانے لگی اور ڈوب گئی۔ پیارے بچو بے جا ضد کرنا ٹھیک نہیں۔ اس سے انسان نقصان اٹھاتا ہے۔ دیکھا ہم نے آپ کوایسی خوب صورت اور سبق آموز کہانی سنائی ہے چونکہ یہ کہانی بچوں کے لیے ہے ،لہٰذا ممکن ہے بڑوں کو اس کی سمجھ نہ آئی ہو چنانچہ ہم اس کی تھوڑی سی تشریح کئے دیتے ہیں۔

اس کہانی میں دو کردار ہیں ایک ظالم ہے ایک مظلوم ہے۔ظالم نصیبن ہے جسے اس کا خاوند گھر کے خرچ کے لیے روزانہ مبلغ ایک روپیہ دیتا تھا۔ جو فضول خرچ عورت اللوں تللوں میں اڑا دیتی تھی، یعنی اس ایک روپے میں سے روٹی کپڑے اور لتے کے بعد جو رقم بچتی تھی وہ اس سے بے جا شاپنگ کرتی تھی آئس کریم کھاتی تھی اور گھر پر پارٹیاں وغیرہ دیتی تھی، صرف یہی نہیں بلکہ ہر وقت دولت میں کھیلتے رہنے کی وجہ سے اس کا مزاج بھی بگڑ گیا تھا اور وہ انتہائی ضدی بھی بن گئی تھی۔

یہ تو ہوا کہانی کا ظالم کردار………… کہانی کامظلوم کر داربیچارافضلو ہے۔ جو ایک روز اس ظالم عورت کی فضول خرچی اور نا فرمانی کی وجہ سے اسے ہلاک کرنے کا منصوبہ بناتا ہے۔ حالانکہ کہانی کے مطابق وہ اسے یہ کہہ کر بھی راہ راست پر لا سکتا تھا کہ دیکھو بیوی آئیندہ تم کفایت شعاری سے کام نہیں لوگی اور میرا کوئی حکم نہیں مانو گی، مگر یہ مظلوم اسے بہلا پھسلا کر تالاب پر لے جاتا ہے جہاں وہ گہرے پانی میں غوطے کھانے لگتی ہے اور اس میں ڈوب جاتی ہے، جس پر یہ مظلوم سکھ کا سانس لیتا ہے۔

اس فضول خرچ اور نافرمان عورت کی لاش دو تین دنوں بعد تالاب سے برآمد ہوئی ہوگی اور گاوٴں کی دوسری فضول خرچ اور نافرمان عورتوں نے اس کے انجام سے عبرت پکڑی ہوگی اور اس سے جونتیجہ نکلتا ہے وہ یہ کہ بے جا ضد کرنا ٹھیک نہیں اس سے انسان نقصان اٹھاتا ہے۔مگر اس کہانی سے کچھ نتیجے اس کے علاوہ بھی نکلتے ہیں مثلا یہ کہ نافرمانوں کوقتل کرنا ہوتو اس طرح کرو کہ جس طرح کہانی میں بتایا گیا ہے۔

یعنی دامن پر کوئی چھینٹ نہ خنجر پر کوئی داغ تم قتل کرو ہو کہ کرامات کرو ہو چنانچہ مظلوکی جگہ کوئی اور ہوتا تو سارے شہر میں اس کے ظلم کی ڈھنڈ یا پٹ جاتی مگر یہ اس کے صبر، شرافت اور پلاننگ کانتیجہ تھا کہ اس نے راستے کے پتھر کو بھی ہٹادیا اور اس کی نیک نامی پرکوئی حرف بھی نہیں آیا۔ اس کہانی میں ایک سبق اوربھی پوشیدہ ہے اور وہ یہ کہ اگر کم آمدنی یا زیادہ آمدنی کی وجہ سے انتشار کا شکار ہو جائیں تو نظام زر کے در پے ہو جانے کی بجائے ہمیں ایک دوسرے کے درپے ہونا چاہے۔

کبھی زبان کے مسئلے پر ایک دوسری کی گردن کاٹنی چاہئے کبھی شعیہ سنی اور دیوبندی بریلوی کا جھگڑا کھڑا ہونا چاہے، کبھی نہری پانی کے مسئلے پر ایک دوسرے کے خون کا پیاسا ہونا چاہیے اور کبھی ملک توڑ دینے کی باتیں کرنا چا ہئیں۔ کیونکہ نظام کا خاتمہ مشکل کام ہے جب کہ ایک دوسرے کا خاتمہ بہت آسان ہے ۔چنانچہ مسئلے کا فوری حل ہونے کی وجہ سے ہمارے ہاں اس طریق کارکو خاصی مقبولیت بھی حاصل ہے۔

تاہم یہ کہانی جو ہمارے اور آپ کے لیے سبق آموز ہے دنیا کی سپر پاورز کے لیے ایک گائیڈ لائن کی حیثیت بھی رکھتی ہے بلکہ ہمیں یقین ہے کہ انہوں نے بہت عرصہ پہلے سے ہی کہانی پڑھ رکھی ہے اور اس میں مضمر گائیڈ لائن پر پہلے ہی سے عمل کر رہے ہیں۔ گائیڈ لائن یہ ہے کہ جس نافرمان قوم کو مارنا ہو اسے اس کے ہاتھوں سے مار و،اگرچہ کبھی کبھاربجر واکڑ افغانستان چیکوسلواکیہ اور گرنیڈا وغیرہ پرخودبھی چڑھ دوڑ نا پڑتا ہے، مگر اصولی طور پر ہوتا نہیں چاہیے کہ جس قوم کوقتل کرنا مقصود ہو، پہلے اسے اس کے گھر سے اتنا بیزارکر دو کہ اسے در و دیوارتک سے نفرت ہو جائے اور مکین ایک دوسرے کی شکل دیکھنے کے روادار بھی نہ رہیں، اس کے بعد اسے موت کے تالاب پر لے جاوٴ اور پھر اس کے غوطے کھانے اور ڈو ہے کا منظر پوری دلجمعی سے دیکھو………. اس عمل کے نتیجے میں ظالم کہلانے کا تو سوال ہی پیدا نہیں ہوتا بلکہ الٹا سپر پاورز نہ صرف یہ کہ خود مہذب کہلاتی ہیں بلکہ دوسری قوموں میں بھی تہذیب کے سرٹیفکیٹ بانٹتی ہیں۔

فضلو چھوٹی عقل کا آدمی تھا ،سپر پاور بڑی عقل کی حامل ہوتی ہیں۔ چنانچلو نے چھوٹی سی پر نا فرمان کو اس کی ضد کی سزا دی۔ سپر پاروز بڑی سطح پر نافرمانوں کو ان کی ضد کی اسی طرح سزادیتی آرہی ہے۔پیارے بچو!بے جا ضد کرنا ٹھیک نہیں اس سے انسان نقصان اٹھاتا ہے۔

Your Thoughts and Comments