Nathu Story

’نتھو‘ سٹو ری

پیر مئی

Nathu Story
محمد سخاوت حسین ساقی
میرا نا م الله دتہ ہے۔ پیا ر سے سب مجھے’ نتھو ‘کہہ کر بلا تے ہیں ۔سب کہتے ہیں میں اب بڑا ہو گیا ہو ں ۔میر ے انکل مجھے بتا تے ہیں کہ بچپن میں بغیر چڈی کے سڑکو ں پر گھو ما کر تا تھا ۔ جب بڑا ہو نے پر میں نے کچھ ایسی کو شش دو با رہ کی تو محلہ وا لو ں نے اچھی خا صی خد مت کے بعد مجھے بتا دیا کہ اب شا ئد میں اس طر ح نہیں گھو م سکتا ۔


چو نکہ میں فیصل آبا د کا ہو ں ۔اور وہا ں کی مقا می زبا ن پنجا بی ہے ۔لہذا میر ے انکل بھی پنجا بی بو لتے ہیں لیکن جب وہ اردو بو لتے ہیں تو ایسا لگتا ہے کو ئی ہکلا بس کے با ہر سوا ریو ں کو بلا نے کے لئے آواز لگا رہا ہو۔ ۔۔۔۔اور سوا ریا ں کچھ اور سمجھ کر ان سے ہمدردی کا اظہا ر کر کے پا نچ کا سکہ پکڑا جا تے ہوں۔

(جاری ہے)


اب یہی دیکھ لیجئے میرے انکل نے میرے دو ست عدیل کے سا تھ کیا کیا ۔

انکل عد یل کو بتا رہے تھے کہ اسکے سا تھ بچپن میں کا فی لڑکیا ں کھیلتی تھیں اور انکل نے اسکے جذبات کچھ ایسے ابھا رے ۔۔۔ کہ انکل کے کا لے کر تو ت کے ثبوت کا نتیجہ عدیل کو دیکھ کر مل سکتا تھا ۔کیو نکہ وہ را ت کو کمرے میں دیو دا س کے ’ما رڈالا ‘جیسے گا نے گا تا تھا ۔۔۔
با ت ہو رہی تھی میری ۔۔۔میٹر ک کر نے کے بعدمیں نے بی ۔اے کا فا رم بھر نا چا ہا۔

لیکن یو نیو رسٹی وا لو ں نے ایک لیٹر لکھا جس میں میرے اقدا م کی تعریف کی گئی تھی اور سا تھ میں کہا گیا تھا جنا ب ہم جا نتے ہیں کہ آپ بہت جلدی میں ہیں اسی لئے آ پ کو یا د نہیں رہا کہ بی ۔اے سے پہلے ایف ۔ اے ہو تا ہے ۔ہما را مشو رہ ہے کہ آپ بی ۔ اے کر نے کی بھی زحمت نہ کریں بلکہ ڈا ئر یکٹ پی ۔ایچ ۔ ڈی کے دا خلہ فا رم جمع کر وا دیں ۔
اس پر میں یو نیو رسٹی وا لو ں سے کا فی نا را ض ہو ا۔

اور مجبو راً ایف ۔ایس ۔ سی کر نا پڑ ا ۔
نو جو ا نی میں میں اتنا شریر تھا کہ کو ئی میری شرا رت سے محفو ظ نہیں تھا حتی ٰکہ میں خو د بھی ۔اب یہی دیکھ لیجئے کہ ایک دفعہ میں اپنے لئے چا ئے بنا رہا تھا کہ میرا دل چا ہا کہ میں اپنے سا تھ کو ئی شرا رت کو و ں لہذا میں نے اپنی #چا ئے میں مرچیں ملا دیں اور میں وہ پی گیا ۔
میرے ارد گرد ہمیشہ لڑکیا ں ہو تیں میں لڑکیو ں کے درمیا ن میں ہو تا ۔

بس اک یہی خو ا ب تھا جو میرا کبھی پو ر انہیں ہو ا تھا ۔حا لا نکہ اپنے محلے میں میں ’تا ڑو ‘کے نا م سے مشہو ر تھا ۔اور لڑکیا ں میر ے تا ڑنے کی عا دت کی وجہ سے مجھے ’تا ڑو ‘کہ کر بلا تی تھیں ۔ اور اس نا م کی وجہ سے کئی دفعہ ایسا بھی ہوا کہ لو گ میرے گھر ’آڑو ‘ما نگنے پہنچ جا تے اور یہ سب ان لڑکیو ں کی شرا رت ہو تی۔
صرف محلے میں ایک لڑکی تھی جسکو میں اور جو مجھے پسند کر تی تھی حا لا نکہ پو را محلہ ہمیں نا پسند کر تا تھا ۔

ہم دو نو ں نے جینے مر نے کی قسمیں کھا ئیں تھیں ۔اور ہم قسم نہ بھی کھا تے تو جینا اور مرنا تو بہر ہا ل ہم نے تھا ہی ۔
ہم پا رکو ں میں سا تھ گھو مے لیکن ہر با ر خر چہ اسی نے کیاکیو نکہ میرا بٹو ہ( جو کہ تھا ہی نہیں) ہمیشہ گھر پر ہی رہ جا تا تھا تب ۔ایک دفعہ اس نے مجھے کہا آج تم مجھے کچھ کھلا ؤ تو میں اسے پہا ڑکی چو ٹی پر لے گیا اور کہا کھا ؤ ۔

وہ بو لی کیا ۔میں نے کہا’ ہوا ‘یہا ں ہو ا بہت اچھی چلتی ہے جتنا کھا نا ہے کھا لو ۔
ایک دفعہ اس نے کہا کچھ پلاؤ ۔پا ہر با رش ہو رہی تھی میں نے گلا س نکا لا با رش کے پا نی سے گلا س کو بھر ااور اسے پیش کیا۔
یو ں ہما ری محبت کی دا ستا ن بڑھتی گئی ۔لیکن ہما ری محبت میں بھی ظا لم سما ج دا خل ہو گیا۔ہوا یوں کہ ایک دن ہم دونوں سیر کے کے وا پس آرہے تھے تو را ستے میں ایک گنوا ر سپا ہی نے ہمیں رو ک لیااور پو چھا کدھر جا رہے ہو ۔


میں رعب سے بو لا جدھر یہ سڑک جا تی ہے ہم ادھر جا رہے ہیں ۔
اچھا ۔یہ سڑک تو چا ئنہ جا تی ہے اس کا مطلب ہے تم چا ئنہ جا رہے ہو ۔وہ پیلے پیلے دا نت نکا ل کر بو لا۔
نہیں ۔ہم افغا نستا ن جا رہے ہیں ۔میں نے جل کر جو ا ب دیا۔
کیو ں ۔اس نے سوا ل کیا ؟
حا مد کر زئی نے رات کے کھا نے پر بلا یا ہے ۔میں نے جو ا ب دیا۔
اچھا تو تم اس سبزی وا لے حا مد کی با ت کر رہا ہے ۔

اس نے اس طر ح جو ا ب دیا جیسے حا مد کر زئی وا قعی میں سبزی بیچتا ہو۔
اب میں اسے اس با ت کا کیا جو ا ب دیتا اسے سو چپ کر گیا ۔
یہ برقعے میں مو جو د لڑکی کو ن ہے ۔اس نے دو سرا سوا ل کیا ۔
یہ لیلیٰ ہے اور میں مجنو ں ۔میں نے چیخ کر جو ا ب دیا ۔
اچھا تو تو ہے مجنوں ۔چل تھا نے ۔اس نے لڑکی کو جا نے دیا اور مجھے تھا نے لے گیا ۔وہا ں لمبی مو نچھوں والا تھا نیدا ر بیٹھا ہو ا تھا ۔

سپا ہی نے اسکے کا ن میں کچھ کہا ۔
تھا نیدا ر میرے پا س آیا ۔تو تو’ معجو ن‘ ہے ۔اس نے سوا ل کیا ۔
نہیں میں مجنو ں ہو ں معجو ن نہیں ۔لگتا ہے تمہیں ایسی بیما ری ہو گئی ہے جس کی وجہ سے تمہیں ہرطر ف معجو ن ہی دیکھا ئی دے رہا ہے ۔حتیٰ کہ انسا ن بھی تمہیں معجو ن لگ رہے ہیں کسی اچھے ڈا کڑ کو دکھا ؤ ۔
ڈاکڑچھو ڑ۔یہ بتا لیلیٰ تیری کیا لگتی ہے ۔

تھا نیدا ر نے سوا ل کیا ۔
وہ میر ی سب کچھ لگتی ہے ۔یہا ں تک کہ میں اس کے لئے جا ن بھی دے سکتا ہو ں ۔میں نے چلاکر جو ا ب دیا۔
آرا م سے بول۔یہ تھا نہ ہے تیرا گھر نہیں ۔تو تو لیلیٰ کے لئے جا ن دے سکتا ہے ۔اچھا اگر اس کے بچے ہو ئے تب۔
میں اس کے بچو ں کے لئے بھی جا ن دے دو ں گا ۔
اچھا لیلیٰ سے اتنی محبت اتنی تو میں نے بھی نہیں کی ۔

یہ کر کر اس نے ٹھکا ئی شرو ع کی ۔
بعد میں پتہ چلا لیلیٰ اس کی بیو ی کا نا م تھا ۔پھر جب میں نے اسے سا ری بات سمجھا ئی کیو نکہ نہ سمجھا تا تو وہ مجھے سمجھنے اور سمجھا نے کے قا بل ہی نہ چھو ڑتا ۔تب جا کر اس نے مجھے مار نا چھوڑا۔
پیلے پیلے دا نت نکا لتے ہو ئے مجھ سے ’سا ری‘کہا‘پھر لیلیٰ کے ما ں با پ کو بلا یا اورانہیں بیٹی کے کر تو ت سے آگا ہ کیا ۔

یوں ہما ری محبت کا ’دی اینڈ ‘ ہو گیا ۔کیو نکہ اسکے ماں با پ نے و ہیں اس کی شادی ایک پا ن بیچنے والے سے کر دی ۔اس پر دو نو ں سپا ہی اور تھا نیدا ر مجھے دیکھ کر مسکرائے مجھ سے اور کچھ نہ ہو سکا بس تھا نے سے نکلتے ہو ئے ان دہ نو ں سے یہی کہ آیا ا۔
تھا نیدا ر صا حب آپ اور آپ کے سپا ہی کے دا نتو ں پر ہلدی لگی ہو ئی ہے صاف کر لیں ۔
اسکے بعد میں یہی سو چتا ہوا گھر آیا کہ کا ش میں ایک پا ن بیچنے والا ہو تا یہ کم از کم پا ن بیچنے والے کا ہیلپر ہی ہو تا ۔

تو آج میری لیلیٰ مجھ سے یو ں نہ بچھڑتی۔
جند سا لو ں بعد جب میں دوبارہ لیلی کی گلی میں گیا تو اس کا ایک ’ما موں‘ بچہ مجھے تو تلی زبا ن میں ما مو ں کہ کر چھیڑنے لگا ۔بعد میں پتا چلا کہ وہ مجھے دوسرا ما مو ں کہ رہا تھا ۔جو ہم کسی بیو قو ف سے کہتے ہیں کہ یا ر تو بڑا ما مو ں نکلا ۔میرا دل ٹو ٹ گیا ۔لتا کے گا نے سنتا ہوا پھر میں وا پس گھر چلا آیا ۔


یہا ں بھی لڑکیو ں نے ما مو ں بلکہ کئی نے اس سے خطرنا ک لفظ یعنی بھا ئی بھی کہنا شرو ع کر دیا ۔
بس سا را دن لا ئبریری میں مکھی ما رتے گزر جا تا ہے ۔جب بھی اس کی یا د آ تی ہے ۔تو وہ گا نے سنتا ہوں جو شا ئد اب ان کے گا نے والے بھی سننا پسند نہ کر تے ہو ں ۔زیا دہ یا د آئے تو وا ش روم چلاجا تا ہو ں۔
یہا ں نہ تو کو ئی لفٹ دیتا ہے ۔نہ دلا سا اور نہ ہی ہمدردی ۔
آخر میں اس شعر کے سا تھ اجا ز ت چا ہتا ہو ں ۔
دکھ بہت ملے ہیں ان کا کیا کہنا
جو کہ ا ب ملا ہے سہ نہیں سکو ں گا شا ئد
بڑا سب سے دکھ جو ملا ہے وہ یہ ہے۔
روز دس با رو انجا ن بچو ں کا ما مو ں کہنا

Your Thoughts and Comments