Nushka Bhonkty Kutoo Sy Bachny Ka

نسخہ بھونکتے کتے سے بچنے کا!

منگل دسمبر

Nushka Bhonkty Kutoo Sy Bachny Ka
ابن انشاء
ایک اخبار میں بھونکتے کتے سے بچنے کا نسخہ شائع ہوا ہے لکھا ہے،
”اگر آدمی ساکت کھڑا ہوجائے بازو اور ہاتھ نیچے کی طرف سیدھے کرلے اور دوسری طرف دیکھنے لگے تو بھونکتا ہوا کتا کچھ دیر بعد خاموش ہوجائے گا اور پھر وہاں سے چلا جائے گا۔“اخبار نے یہ نہیں لکھا کہ یہ نسخہ کہاں سے لیا گیا ہے،اوپر فقط“جدید طبی تحقیق“کا عنوان دیا گیا ہے یہ بھی مذکور نہیں آیا کتوں کو بھی مطلع کردیا گیا ہے کہ ان پر اس ضابطہ اخلاق کی پابندی ضروری ہے یہ اعتراض بھی کچھ لوگ کریں گے کہ اگر انسان حسب ہدایت بھیگی بلی بن کر منہ دوسری طرف کرکے کھڑا ہوجائے اور کتا اس کی ٹانگ لے لے تو ایڈیٹر اخبار ہذا کس حد تک ذمہ دار ہوگا ہمارے نزدیک تو یہ اعتراض بے محل اور نا واجب ہے،بھونکتا ایک فعل ہے اور کانٹا الگ کتا کاٹ لے تو سیدھا سیدھا اسپتال جاکر چودہ انجکشن پیٹ میں لگوالیجیے اور مزے کیجیے اصل کوفت تو کتے کی عف عف سے ہوتی ہے اور اس کے لیے یہ نسخہ مجرب ہے۔

(جاری ہے)

ان امور میں اصل مشکل اس وقت پیش آتی ہے جب کہ کتے کو معلوم نہ ہو کہ اسے اخبار میں چھپی ہوئی ہدایت کی پابندی کرنی ہیں یعنی کوئی شخص بازو لٹکا کر دوسری طرف منہ کرکے تو اسے دم باکر کھسک جانا چاہیے یا تو بعض کتے ناخواندہ ہوتے ہیں یا اخبار نہیں پڑھتے یا جان بوجھ کر بات ٹال جاتے ہیں،پچھلے دنوں ایک مشہور ہوٹل کے لاؤنج میں ایک کتے کو استراحت کرتے پایا گیا۔

مینیجر صاحب بہت خفا ہوئے اسے کان سے پکڑ کر دروازے پر لے گئے جہاں موٹے موٹے لفظوں میں صا ف لکھا ہوا تھا۔جن کتوں کے ساتھ ان کا مالک نہ ہو ان کا ہوٹل میں آنا منع ہے۔“بہ نظر احتیاط ہم لوگوں کو مشورہ دیں گے کہ وہ اس اخبار کا شمارہ ہمیشہ اپنے ساتھ رکھیں جس میں بہ ترتیب درج ہے اگر کوئی کتا بھونکنے سے باز نہ آئے بلکہ کاٹنے پر اتر آئے تو جدید طبی تحقیق والا صفحہ اس کے سامنے کردیں پھر بھی باز نہ آئے تو ڈنڈے سے اس کی خبر لیں۔

یہ ڈنڈے سے خبر لینے کی ہدایت ہماری طرف سے ہے احباب مذکور کی ذمے داری نہیں،ہماری طبی تحقیق اتنی جدید سہی تاہم مجرب ضرور ہے ڈنڈ ابڑی کارآمد چیز ہے اور بہت سے نسخوں میں پڑتا ہے پرانے زمانے میں اسے تنبیہ الغافلیں کہتے تھے اور،،شاگرد اسی کو احترام کی نظر دیکھتے تھے کچھ مدت ہوئی ہم نے ایک کارٹوں دیکھا کہ ایک استاد اپنے شاگرد رشید کو ایک موٹی سی کتاب سے دھڑادھڑ پیٹ رہا ہے کتاب کا نام بھی نظر آرہا تھا”دی چائلڈ سائیکالوجی“یعنی بچوں کی نفسیات۔

“ایک زمانے میں اخباروں سے صرف خبروں کا کام لیا جاتا تھا یا پھر لوگ سیاسی رہنمائی کے لیے انہیں پڑھتے تھے آج تو اخبار زندگی کا اوڑھنا بچھونا ہیں،سیٹھ اس میں منڈیوں کے بھاؤ پڑھتا ہے،بڑے میاں ضرورت رشتہ کے اشتہارات ملاحظہ کرتے ہیں اور آہیں بھرتے ہیں،عزیز طالب علم فلم کے صفحات پر نظر ٹکاتا ہے اور علم کی دولت نایاب پاتا ہے،بی بی اس میں ہنڈیا بھوننے کے نسخے ڈھونڈتی ہے اور بعض لوگوں نے تو اخباری نسخے دیکھ دیکھ کر مطب کھول لیے ہیں پچھلے دنوں عورتوں کے اخبار میں ایک بی بی نے لکھ دیا تھا کہ پریشر ککر تو مہنگا ہوتا ہے اسے خریدنے کی ضرورت نہیں۔

یہ کام بہ خوبی ڈالڈا کے خالی ڈبے سے لیا جاسکتا ہے،کفایتیی شعار بیویوں نے یہ نسخہ آزمایا،نتیجہ یہ ہوا کہ کئی زخمی ہوئیں اور ایک آدھ بی بی تو مرتے مرتے بچی،ایسے نسخوں پر عمل کرتے ہوئے وہ حکایت نہ بھولنی چاہیے کہ ایک صاحب کی بھینس کو اپھارہ ہوگیا تھا وہ ایک جہاں دیدہ بزرگ کے پاس دوڑے دوڑے گئے کہ”پارہ سال آپ کی بھینس کو بھی تو اپھارہ ہوا تھا۔

آپ نے کیا دوادی تھی؟“ان بزرگ نے کہا سیر بھر سوڈا کاسٹک پانی میں گھول کر پلادیا تھا وہ شخص گیا اور یہ نسخہ آزمایا بھینس اسے نوش جان کرتے ہی مرگئی وہ شخص پھر ان بزرگ کے پاس آیا اور شکایت کی کہ حضور میری بھینس تو یہ نسخہ استعمال کرتے ہی مرگئی۔بھئی مرتو میری بھینس بھی گئی تھی ان بزرگ نے نہایت علم اور متانت سے فرمایا ہم دس بارہ روز فلو میں مبتلا رہے اور بستر سے نہ اٹھ سکے اس میں بھی کچھ دخل جدید طبی تحقیق کو ہے ایک صاحب روحانی اور نفسیاتی علاج کرتے ہیں انہوں نے ہدایت کی کہ اپنے دل میں یہ سمجھ لو کہ تمہیں فلوولو کچھ بھی نہیں ہے سب وہم ہے ہم نے اس نسخے پر عمل کیا،بلکہ اگر کوئی کہتا تھا میاں دوا کرو تمہاری کھانسی تو خطرناک معلوم ہوتی ہے تو ہم یہی جواب دیتے تھے کہ میاں ہوش کی دوا کرو،کون سی کھانسی کیسی کھانسی،ان کا علاج ختم ہوا تو دوسرے کرم فرمانے ایک اخبار میں سے دیکھ کے بتایا کہ دو دن کا مکمل فاقہ کرو اور پیاز کی گٹھی سونگھتے رہو اب ہم نے یہ عمل کیا اتفاق سے نقوی کلینک والے ڈاکٹر نقوی صاحب نے دیکھ لیا اور کہا میاں کیوں پاگل ہورہے ہو اخبار والے ہوکر بھی اخبار کی باتوں پر یقین کرتے ہو یہ لو کیپسول اوریہ رہا مکسچر۔

خیر اللہ نے صحت دی ہم نے ان نفسیاتی معالج کو پکڑ لیا کہ حضرت ہم تو ڈاکٹر کی دوا سے ٹھیک ہوئے آپ کو پچھلے دنوں فلو ہوا تھا آپ کیسے نفسیاتی علاج سے ٹھیک ہوگئے؟ہنس کے بولے میاں میں بھی ڈاکٹر ہی کی دوا سے ٹھیک ہوا تھا۔

Your Thoughts and Comments