Pent Bamuqabla Lacha

پینٹ بمقابلہ لاچا

بدھ مارچ

Pent Bamuqabla Lacha

ڈاکٹر محمد یونس بٹ
کئی دہائیوںکی دہائی کے بعد ایک صحافی نے یہ راز پا ہی لیا کہ آخر ڈاک لیٹ ہونے کی وجہ کیا ہے؟ان کے انکشاف کے مطابق اس کی وجہ محکمہ ڈاک نہیں بلکہ شلوار جو محکمے کے سارے وارشل کردیتی ہے اور ان کے محکمے کو سست کردیا ہے سو محکمہ ڈاک کے آفیسرز آج کل ملازموں کے چست پینٹ اوربس کوٹ کو انتظام کررہے ہیں ہم ڈاکئے کے اس وقت کے معترف ہیں جب وہ کبوتر ہوتا تھا اور اس کی مدح میں میڈیم نور جہاں نے یہ گانا گایا تھا ”واسطہ ای رب دا توں جانویں دے کبوترا“اردو پر ڈاکیے کا اتنا بڑا احسان ہے کہ ڈاکیا نہ ہوتا تو تمام عاشقوں کا اپنے محبوب اور اردو ادب سے رابطہ کٹ چکا ہوتا لیکن پھر حسینوں کے خطوط پہنچنے میں اتنی دیر لگنے لگی کہ اس مدت میں حسینوں کے خطوط ڈھلنے لگتے ائیر میل سے مراد لوگ وہ ڈاک لینے لگے جو ہوا ہوجاتی ہے ہماری ایک عزیزہ کو بیٹے کی پیدائش پر کسی کی مبارک کا خط اس وقت ملا جب وہ بیٹا خط کرانے حجام کی دکان پرگیا ہوا تھا کوئی کسی سے خط کی جمع پوچھتا تو اگلا خطاﺅں بتات لیکن ہمیں کیا پتہ تھا کہ سب سستی شلوار قمیض کے باعث ہے یہ تو اچھا ہوا محکمہ ڈاک نے تیزی دکھائی اور ڈاکیوں کو پینٹ کے ساتھ بش کوٹ بھی دینے کا فیصلہ کیا ڈاکیوں کے پاس شور کٹ اور کوٹ اور پہلے سے ہی موجود ہیں ۔

(جاری ہے)


اگرچہ ہمیں ہم سے پوچھا جائے کہ لباس کے بارے میں آپ کا کیا خیال ہے تو ہم یہی کہیں گے پھٹنا چاہیے ہالی ووڈ میں تو ایک تنظیم نے معروف اداکارہ کوڈریس شو میں 1990 کو ایوارڈ دیا جس کی وجہ یہ بتائی گئی کہ انہوں نے سارا سال لباس پہنا لباس یہ وہ اداکارہ تھی جس کے بارے میں پہلے سے مشہور تھا کہ وہ ہر پارٹی میں پارٹی کے حساب سے ڈریس اپ ہوتی ہے یعنی میریج پارٹی پر میرج سوٹ ایوننگ پارٹی میں ایوننگ سوٹ ڈنر پارٹی میں ڈنر سوٹ اس لیے لوگ اسے ہمیشہ برتھ ڈے پارٹی میں ہی بلاتے ہیں البتہ مردوں کا عریاں لباس وہ ہوتا ہے جس کی جیب سب کو صاف نظر آئے سو ڈاکیے ہمارے ہاں سب سے عریاں لباس پہنتے ہیں بلکہ ان کی قمیضوں کو جیبیں نہیں لگی ہوتیں جیبوں کو قمیضیں لگی ہوتی ہے یہی سوٹ انہیں سوٹ کرتا ہے ہم نے ایک بار سستا سوٹ خریدا تو اس میں کوئی جیب نہ تھی ہم نے دکاندار سے کہا تو اس نے کہا اس سوٹ میں اس لیے جیب نہیں لگائی کہ جس کے پاس جیب میں ڈالنے کے لئے کچھ ہوگا وہ اتنا سستا سوٹ کیوں خریدے گا؟بہر حال ڈاکیوں کے پاس سال کے 365 دنوں میں ہر دن کے لیے ایک سوٹ ہوتا ہے اوریہ ایک سوٹ وہ365 دن پہنتے ہیں ویسے قمیض میں تو انہوں نے جیبیں ہی پہننی ہوتی ہے سو بس کوٹ کی بجائے باربرابش کوٹ بھی ہو تو ہمیں اعتراض نہیں مگر ہم پینٹ کے حق میں نہیں چست پینٹ دیکھ کر تو لگتا ہے پینٹ پہنی نہیں ٹانگوں پر پینٹ کی ہوئی ہے یہ تو جس کی جلد سے بھی زیادہ ٹائٹ ہوتی ہے آپ پوچھیں گے جسم کی جلد سے ٹائٹ کیسے ہوسکتی ہے؟تو صاحب جس کی جلد میں آپ باآسانی اکڑوں بیٹھ سکتے ہیں جبکہ چست پتلون میں بیٹھ جائیں تو سوئی دھاگے کے سہارے کے بغیر اٹھ ہی نہیں سکتے ہمارے خیال میں تو لاچا اس سے بددرجا بہتر ہے ایسا ائیر کنڈیشن لباس کہاں ملے گا؟پینٹ کی تو کوئی شخصیت ہی نہیں اوپر سے واحد نیچے سے جمع جب کہ لاچا تو پنجابیوں کی طبعیت کی طرح کھلا ہوتا ہے لاچے کا پینٹ سے کیا جوڑ پھر یہ وہ واحد لباس ہے جس میں کوئی جوڑ نہیں ہوتا اسے سلوانا بھی نہیں پڑتا یہاں تک کہ پہنا ہو تو اتارنا بھی نہیں پڑتا پینٹ کا کیا بھروسہ کب تنگ ہوجائے لیکن لاچے سے آپ تنگ ہوجائیں گے مگر یہ کھلا ہی رہے گا پینٹ پہن کر لوگ دفتروں میں سو جاتے ہیں ان کو اٹھانا اسی طرح ممکن ہے کہ ان کو ہلانے کے لئے ایک علیحدہ ملازم رکھا جائے لیکن اس ملازم کا جگانے کے لیے ایک اور بندہ رکھنا پڑے گا سو ان کو بیدار اور چست رکھنے کا واحد طریقہ یہی ہے کہ لاچے کو نافذ العمل کیا جائے جس نے لاچا پہنا ہو وہ سب کے سامنے سو ہی نہیں سکتا کیونکہ اسے سونے سے پہلے بھی باندھنا پڑتا ہے اور اٹھنے سے پہلے بھی پھر ایسا کثیر المقاصد کہ سردیوں میں بکل مار لو تو ہیٹر گرمیوں میں گیلا کرکے اوڑھ لو تو ائیر کولر نیچے بچھا لو تو دری اس میں خط ڈال لو تو لیٹر بکس پینٹ کا اس سے کیا مقابلہ پھر پینٹ پہنی جاتی ہے لاچا پہنا جاتا ہے ہوسکتاہے آپ اعتراض کریں کہ پینٹ میں جیب ہوتی ہے اس میں نہیں حالانکہ لاچے کی جیب ڈب سے محفوظ تو کوئی لاکر بھی نہیں جب تک لاچا نہ کھل جائے یہ جیب نہیں کھلتی لاچا تو پورا ڈاک خانہ ہے جس میں آپ ڈاک اور ڈاکیا دونوں لپیٹ سکتے ہیں یہ لباس لڑائی جھگڑے کم کرنے کے کام بھی آسکتا ہے کیونکہ لڑائی میں دوسروں کو سنبھالنا آسان اور اسے سنبھالنا مشکل ہوجاتا ہے پھر یہ خوبی دنیا کے اور کس لباس میں ہوگی کہ آپ اس سے جو لباس چاہیں بنالیں یعنی دل چاہے تو اس سے شلورا قمیض حتیٰ کہ پینٹ بنالیں کس لباس کو ادھیڑ کر لاچا نہیں بنایا جاسکتا ہمیں امید ہے کہ محکمہ ڈاک پینٹ پر لاچے کو ترجیح دے گا اور ایسا ہی اعلان کرے گا جو آئیرلینڈ کے محکمہ ڈاک نے کیا تھا جسے ملازموں کی پہلی وردی پسند نہ آئی وہ اعلان یہ تھا محکمہ نئے ڈیزائن کی یونیفارم تیارکرے گا یہ یونیفارم پہلی وردی ہی کو ادھیڑ کر بنائی جارہی ہے جب تک آپ کی نئے ڈیزائن کی یونیفارم سل رہی ہے آپ پہلی وردی ہی پہنیں۔

Your Thoughts and Comments