Pohanchna Insaan Ka Chand Par

پہنچنا انسان کا چاند پر

پیر اپریل

Pohanchna Insaan Ka Chand Par
ماہ نورد چاند پرکئی گھنٹے قیام کے بعد زمین پر واپس بھی پہنچ گئے ہیں اورقریبا ساٹھ کروڑ افراد نے اپنی آنکھوں سے ٹیلی وژن کے ذریعے انہیں چاند پر چہل قدمی کرتے بھی دیکھا ہے۔ لیکن آپ کے ہاں کے” رمضانی“ اور”نورے “بھی کچی گولیاں نہیں کھیلے ہوئے۔ وہ اچھی طرح سمجھتے ہیں کہ یہ سب چکر پڑھے لکھے لوگوں نے انہیں (اردو میں) بے وقوف( اور پنجابی میں ناگفتنی) بنانے کے لیے چلایا ہے چنانچہ ان کی اپنے اس موقف میں پختگی کے ضمن بہت سے واقعات دیکھنے میں آئے ہیں۔

ایک کو چوان نے جس کا مریل گھوڑ ارنگ محل سے بھاٹی گیٹ تک جانے میں لیت وعمل سے کام لے رہا تھا اسے زور سے چا بک رسید کرتے ہوئے کہا۔نہیں پہنچ سکتابابو جی چاند تک نہیں پہنچ سکتا۔ مجھے خود اس حقیقت کا اچھی طرح اندازہ تھا چنانچہ میں نے قناعت سے کام لیتے ہوئے کہا۔

(جاری ہے)

تو چلو پھر بھاٹی گیٹ تک ہی پہنچادو۔“ اس پر اس نے میری طرف بری طرح گھور کر دیکھا اور بولا۔

میں انسان کی بات کر رہا ہوں بابو جی ‘ خدا سے مقابلہ نہیں کیا جاسکتا۔“ یہ کہہ کراس فاضل کوچوان نے تاریخ کے ورق پلٹنے شروع کئے اور فرعون اورنمرود کے عبرتناک انجام کی مثالیں پیش کیں۔ میں نے خوش ہوکر اس محقق‘ کی ہتھیلی پر چونی رکھی اور تانگے سے نیچے اتر آیا۔گوالمنڈی میں چند نوجوانوں کو اخبار ہاتھ میں تھا مے تسخیر ماہتاب کی خبریں پڑھنے میں مشغول دیکھ کر ایک براق جیسے بالوں والی بڑھیا چلتے چلتے رکی۔

اس دانا بڑھیا نے پہلے توان نا دانوں کی سادہ لوحی پر ایک پر زوردار قہقہ لگا یا پھر ہاتھ فضا میں نچا کر بولی۔بیٹا! ذرا بتاناتویہ لوگ چاند پر کس وقت پہنچے؟ ایک نوجوان نے جواب دیا ” ماں جی صبح کے وقت“ اس جواب پر بڑھیا ایک بار پھر ہنس ہنس کر لوٹ پوٹ ہوگئی اور پیٹ پکڑے پکڑے بولی۔ان لوگوں کے جھوٹ کا یہیں سے پتہ چل گیابھلادن کو چاند کہاں ہوتا ہے؟
اپنی اس دلیل کا وزن محسوس کرتے ہوئے اس نے تسخیر ماہتاب کے افسانے کا مزید تیاپانچہ کیا اور ہاتھ سے اشارہ کر کے بولی۔

چاند اتنا ساتھ ہوتا ہے اس میں انسان اور ان کی گاڑی بھلا کیسے اتری؟ ہو نہہ!!اور پھر بڑی بے یقینی کے انداز میں سر جھٹک کر وہاں سے چل دیامجھے یوں لگا جیسے یہ وہی بڑھیا ہو جو کسی زمانے میں چاند میں بیٹھ کر چرخہ کا تا کرتی تھی اور اب بے گھر ہونے پر دل کا غبار نکال رہی ہے۔حجام کی دکان پرشیو کرانے والوں کا ہجوم تھا اپنی باری کا انتظار کرنے والے گاہک بچارے مفتوح چاند کو موضوع گفتگو بنائے ہوئے تھے۔

ایک پڑھا لکھا جاہل انہیں اس امر کا یقین دلانے کی سرتوڑ کوشش کر رہا تھا کہ انسان واقعی چاند پر گیا ہے۔حجام شیو کرتے کرتے تھوڑی تھوڑی دیر کے بعد اس بے خبر کو گھور کر دیکھتا ہے اور پھر اپنے کام میں مشغول ہو جاتا۔ تھوڑی دیر بعد جب اس کی باری آئی تو نائی نے شیو بناتے بناتے استر ا اس ملحد کی شہ رگ پر لا کر روک دیا اور پوچھا۔تو بابوجی کیا خیال ہے آپ کا ‘انسان چاندپر پہنچ گیا ہے؟ یہ مردعیار اس وقت چاند سے بھی اگلی منزل پر جانے کے موڈ میں نہیں تھا چنانچہ اس نے کھسیانی ہنسی ہنسی اور کہایارو! میں تو مذاق کر رہا تھا؟ تسخیر ماہتاب کے واقعہ پر دوسراردعمل ہمارے شاعروں اور ادیبوں کا ہے سنا ہے کہ ان حلقوں میں بھی صف ماتم بچھی ہوئی ہے چنانچہ حلقہ ارباب ذوق میں امجد اسلام امجد نے تو شاعرو!ماتم کرو“ کے عنوان سے باقاعدہ ایک نظم بھی پڑھی ہے ان کے اس ماتم کرنے کی دردمندانہ اپیل پر ہوسکتا ہے شاعروں میں سے سجاد باقر رضوی اور ناصر کاظمی وغیرہ کے کان کھڑے ہوئے ہوں خیریہ تو جملہ معترضہ تھا بات شاعروں کی ہورہی تھی سو وہ اس بڑے سانحے سے دو چار ہیں کہ محبوب کے حسین چہرے کو اب وہ کس سے تشبیہ دیں گئے۔

تاہم یہ پریشانی بھی شاعروں کی نہیں بلکہ اس کا تعلق شعراء کے ایک مخصوص طبقے سے ہے۔ علامتی شاعری کرنے والوں کے لئے تو سرے سے یہ کوئی مسئلہ ہی نہیں وہ تشبیہ کے لئے اللہ تعالی کی گونا گوں مخلوق میں سے گائے اور بھینس وغیرہ کو بھی منتخب کر سکتے ہیں۔ایک نقط نظر کے حامل وہ دانشور ہیں جنہیں انسان کے چاند پر پہنچتے ہی زمین کے باسیوں کے تمام دکھ درد یاد آ گئے ہیں اور وہ ان کا نوحہ پڑھنے میں مشغول ہو گئے ہیں مگر یہ وہ لوگ ہیں جو انسانیت کے تمام دکھ درد ختم ہو جانے پر بھی اس امر کو نوحہ پڑھیں گے کہ اب وہ کسی کا نوحہ پڑھیں۔

یہ سب رویے دراصل اس ذہنی جھنجھلاہٹ کا نتیجہ ہیں جو نت نئے انکشافات اور اقدار کی شکست وریخت کے نتیجے میں جنم لیتی ہے اور اس طرزعمل کا پس منظر یہ ہے کہ ہم لوگ ابھی تک پوری فراخدلی سے حقائق کا سامنا کرنے کی تاب نہیں رکھتے۔ جب ہماری قوم کے نورے اور دانشور حقائق سے آنکھیں چارکرنا سیکھ جائیں گے اور اس دن چاند پر پاکستانی پرچم ضرور لہرائے گا!!

Your Thoughts and Comments