Puchty Hy Woo K Ghalib Kon Hy

پوچھتے ہیں وہ کہ غالب کون ہے

بدھ دسمبر

Puchty Hy Woo K Ghalib Kon Hy
ابنِ انشاء:
آج کل شہر میں جسے دیکھو پوچھتا پھررہا ہے کہ غالب کون ہے؟اس کی ولدیت سکونت اور پیشے کے متعلق تفشیش ہورہی ہے ہم نے اپنی سی جستجو کی،ٹیلی فون ڈائریری کو کھولا اس میں غالب آرٹ اسٹوڈیو تو تھا لیکن یہ لوگ مہ رخوں کے لیے مصوری سیکھنے اور سکھانے والے نکلے ایک صاحب غالب مصطفےٰ ہیں جن کے نام کے ساتھ ڈپٹی ڈائریکٹر فوڈ لکھا ہے انہیں آٹے دال کے بھاؤ اور دوسرے مسائل سے کہاں فرصت ہوگی کہ شعر کہیں غالب نور اللہ خاں کا نام بھی ڈائریکٹری میں ہے لیکن ہمارے موکل کا نام تو اسد اللہ خاں تھا جیسا کہ خود فرمایا ہے۔


”اسد اللہ خاں تمام ہوا“
”اے دریغاوہ رندِ شاہد باز“
بے شک بعض لوگ اس شعر کو غالب کا نہیں گنتے ایک بزرگ کے نزدیک یہ اسد اللہ خاں تمام کوئی دوسرے شاعر تھے ایک اور محقق نے اسے غالب کے ایک گمنام شاگرد دریغادہلوی سے منسوب کیا ہے لیکن ہمیں یہ دیوان غالب ہی میں ملا ہے ٹیلی فون ڈائریکٹری بند کرکے ہم نے تھانے والوں کو فون کرنے شروع کیے کہ اس قسم کا کوئی شخص تمہارے روزنامچے یا حوالات میں ہو تو مطلع فرماؤ کیو نکہ اتنا پم نے سن رکھا ہے،کہ کچھ مرزا صاحب کو اک گونہ بیخوری کے ذرائع شراب اور جوئے وغیرہ سے دلچسپی تھی اور کچھ کو تو ال ان کا دشمن تھا بہر حال پولیس والوں نے بھی کان پر ہاتھ رکھا کہ ہم آشنا نہیں نہ ملزموں میں ان کا نام ہے نہ مفروزوں میں نہ ڈیفنس رولز کے نظربندوں میں نہ اخلاقی قیدیوں میں نہ تین میں نہ تیرہ میں۔

(جاری ہے)

مرزا ظفر الحسن ہمارے دوست نے مرزا رسوا کو رسوائی کے مقدمے سے برائی کرانے کے بعد اب مرزا غالب کی یاد کا بیٹا اٹھایا ہے۔
”مرزا کو مرزا ملے کرکر لمبے ہاتھ“
پچھلے دنوں انہوں نے ایک ہوٹل میں ادارہ یادگار غالب کا جلسہ کیا تو ہم بھی کچے دھاگے میں بندھے پہنچ گئے ظفر الحسن صاحب کی تعارفی تقریر کے بعد صہبا لکھنوی نے تھوڑا سا تندی صہبا سے موضوع کے آبگینے کو پگھلایا اس کے بعد لوگوں نے مرزا جمیل الدین عالی سے اصرار کیا کہ کچھ تو کہییہ کہ لوگ کہتے ہیں وہ نہ نہ کرتے رہے ادب شرط منہ نہ کھلواؤ لیکن پھر تاب سخن نہ کرسکے اور منہ سے گھنگنیاں نکال کر گویا ہوئے غالب ہر چند کہ اس بندے کے عزیزوں میں تھا لیکن اچھا شاعر تھا لوگ تو اسے اردو کا سب سے اونچا شاعر کہتے ہیں مرزا ظفر الحسن مبارک باد ہیں کہ اس کے نام پر منظوم جلسہ یعنی بیت بازی کا مقابلہ کرارہے ہیں اور اسے کسوٹی پر بھی پرکھ رہے ہیں لیکن اس عظیم شاعر کی شایان شان دھوم دھامی صدر سالہ برسی کے لیے ہندوستان میں لاکھوں روپے کے صرف کا اہتمام دیکھتے ہوئے ہم بھی ایک بڑے آدمی کے پاس پہنچے کہ خزانے کے سانپ ہیں اور ان سے کہا کلہ گل پھینکے ہے اوروں کی طرف بلکہ ثمر بھی کچھ غالب بام آور کے لیے بھی ہونا چاہیے ورنہ!
”طعنہ دیں گے بت کہ غالب کا خدا کوئی نہیں ہے“
ان صاحب نے کہا۔

آپ غالب کا ڈومی سائل سرٹیفیکٹ لائے؟یہ بولے”نہیں“فرمایا۔پھر کس بات کے روپے مانگتے ہو تو وہ کہیں آگرے دلی میں پیدا ہوا وہیں مرکھپ گیا پاکستان میں شاعری کا کال ہے۔ عالی صاحب نے کہا اچھا پھر کسی پاکستانی شاعر کا نام بتادیجیے کہ غالب کا سا ہو۔بولے میں زبانی تھوڑا ہی یاد رکھتا ہوں شاعروں کے نام اچھا اب لمبے ہوجائیے مجھے بجٹ بنانا ہے۔

خیرہندوستان کے شاعر تو ہندوستان ہی کو مبارک ہوں خواہ وہ میر ہوں یا انیس ہوں یا امیر خسرو ساکن پٹیاں واقع یوپی لیکن غالب کے متعلق ایک اطلاع حال میں ہمیں ملی ہے جس کے روشنی میں ان سے تھوڑی رعایت برتی جاسکتی ہے ہفت روزہ قندیل لاہور کے تماشائی نے ریڈیو پاکستان لاہور سے ایک اعلان سنا کہ اب اردن کے مشہور شاعر غالب کا کلام سنیے یہ بھی تھا کہ اردن کو مرزا غالب پر ہمیشہ نازرہے گا،تو گو یا یہ ہمارے دوست ملک اُردن کے رہنے والے تھے تبھی ہم کہیں کہ ان کا ابتدائی کلام ہماری سمجھ میں کیوں نہیں آتا اور عربی فارسی سے اتنا بھرپور کیوں ہے اور کسی رعایت سے نہیں تو اقرباپروری کے تحت ہی ہمیں یوم غالب کے لیے روپے کا بندوبست کرنا چاہیے کہ اُردن سے ہماری حال ہی میں رشتے داری بھی ہوگئی ہے لیکن یاد رہے کہ صد سالہ برسی فروری میں ہے فردوسی کی طرح نہ ہو کہ ادھر اس کا جنازہ نکل رہا تھا ہاتھ خالی کفن سے باہر تھا اور ادھر خدام ادب اشرفیوں کے توڑوں کا ریڑھا دھکیلتے غزنی کے دروازے میں داخل ہورہے تھے،عالی صاحب کا ارشاد تو خدا جانے عالی صاحب کا ارشاد تو خدا جانے کس کی طرف تھا کسی سیٹھ کی طرف یا کسی اہل کار کی طرف لیکن مرزا ظفر الحسن صاحب نے دوسرے روز بیان چھپوادیا کہ ہم نے حکومت سے کچھ نہیں مانگا نہ اس کی شکایت کرتے ہیں جو دے اس کا بھلا جو نہ دے اس کا بھی بھلا یہ شکوہ شکایت ادارہ یادگار غالب کے حساب میں نہیں مرزا جمیل الدین عالی کے حساب میں لکھا جائے ہم تو پنسلیں بیچ کر یوم غالب منائیں گے ہم نے پہلیہ یہ خبر پڑھی تو ”پنسلیں “سمجھے اور خیال کیا کہ کہیں سے مرزا صاحب کو ”پنسلیں“کے ٹیکوں کا ذخیرہ ہاتھ آگیا ہے بعد ازاں پتا چلا کہ نہیں وہ پنسلیں مراد ہیں جن سے ہم پاجاموں میں ازاربندڈالتے ہیں اور سگھڑیبیاں دھوبی کا حساب لکھتی ہیں خیر مرزا ظفر الحسن صاحب کا جذبہ قابل تعریف ہے لیکن دو مرزاؤں میں تیسرے مرزا کو حرام ہوتے ہیں ہم نہیں دیکھ سکتے حکومت سے غالب یا کسی اور شاعر کے نام پر کچھ مانگنا یا شکوہ کرنا کوئی جرم تو نہیں آخر یہ کسی راجے یا نواب کی شخصی حکومت تھوڑا ہی ہے خزانہ عامرہ کا پیسہ ہمارے ہی ٹیکسوں کا پیسہ ہے اب یہ تو ٹھیک ہے کہ انجمن ترقی اردو والے یا ڈاکٹر حمید احمد خان اس موقع پر کچھ کتابیں چھاپ رہے ہیں لیکن یہ تو کچھ بھی نہیں چارکتابوں کا چھپنا اور منظوم جلسے میں اہم ایسے شاعروں کا غالب کی زمینوں میں ہل چلانا حق سے ادا ہونا تو نہ ہوا وہ مرحوم تو بڑی اونچی نفیس طبیعت کے مالک تھے۔


”منزل اِک بلندی پر اور ہم بنالیتے“
عرش سے پرے ہوتا کاش کہ مکان اپنا“

Your Thoughts and Comments