Qaaf

ق

سہیل عباس خان بدھ اکتوبر

Qaaf

پیارے بچو
ق سے قینچی ہوتی ہے، ایک سیاسی پارٹی کا نام، اس کا لاحقہ ہے، سنا ہے اب ایک ک کُتے والی بھی بننے والی ہے۔ ویسے تو ایک زبان بھی قینچی کی طرح چلتی ہے، آپ پوچھیں گے کس کی تو پاس بیٹھی ہے ابھی بتا نہیں سکتا، ویسے تو آپ سمجھ گئے ہوں گے۔ نظیر اکبر آبادی نے اپنی ایک نظم میں محبوب کو قینچی مار کر گرایا تھا، اگر کسی دوست کے پاس وہ ویڈیو ہو تو مہربانی کر کے اپ لوڈ کرکے یا لنک فراہم کرکے ثواب راتین حاصل کریں۔


لاھور میں ایک قینچی سٹاپ بھی ہے، اس کے پل کا افتتاح سنا ہے قینچی گروپ نے کیا تھا۔ ویسے تو سب سے زیادہ مشہور قبضہ گروپ ہے۔
پیارے بچو
ق سے قطری شہزادہ ہوتا ہے، اس کے خطوط مرزا غالب کے خطوط سے زیادہ مشہور ہیں، سنا ہے اس کی بہن کے خطوط انگریزوں نے دیکھ رکھے ہیں۔

(جاری ہے)

قطری شہزادہ تلور کی آڑ میں شکار کھیلتا ہے۔
ق سے قبل مسیح ہوتا تھا، اب قبل از وقت ہوتا ہے۔


ق سے جو چیز آسانی سے بن جاتی ہے اسے قریشی کہتے ہیں، اب قریشی دوست مجھ سے ناراض نہ ہوں ورنہ میں نے بھی بن جانا ہے۔
پیارے بچو
ق سے قیمتی چیز ہوتی ہے، سنا ہے فیض احمد فیض نے یہ ملکہ نور جہاں سے مانگی تھی، تو اس نے کہا تھا کہ فیض صاحب آپ نے بہت بڑی چیز مانگ لی ہے، فیض نے کہا اچھا اتنی بڑی ہے تو رہنے دیں۔
ق سے قربان علی بیگ سالک بھی ہے، جس کا شعر ہے
تنگ دستی اگر نہ ہو سالک
تندر ستی ہزار نعمت ہے
یہ مرزا غالب کا شاگرد تھا
اس شعر کا تعلق جمشید دستی سے نہیں ہے۔


پیارے بچو
ق سے قربانی ہوتی ہے، سنا ہے قربانی سے پہلے قربانی ہوگئی ہے، ہمیں تو قربانی کا مطلب زینت امان نے دکھایا تھا۔ قربانی میں بڑے جانور کے گوشت کے قیمہ کو بڑا قیمہ اور چھوٹے جانور کے گوشت کے قیمے کو چھوٹا قیمہ کہتے ہیں، اب زندہ معدہ دارین لاھور بتا سکتے ہیں کہ گدھے کا گوشت چھوٹا ہوگا یا بڑا۔ شاید وہ کہیں چھوٹے گدھے کا چھوٹا اور بڑے کا بڑا ہوگا۔


پیارے بچو
ق سے قمیص بھی ہے اگر اس کا بٹن ٹوٹا ہوا ہو، اگر وہ بٹن لگا دیں تو قمیض بنا لیں۔
ق سے قبول ہے بھی ہوتا ہے، یہ تین بار کہنا پڑتا ہے پھر اس کے بعد بندہ نہ تین میں رہتا ہے نہ تیرہ میں۔
پیارے بچو
ق سے قرض بھی ہوتا ہے، پہلے اس کی مے پی جاتی تھی اب یہ لیا تو قوم کے نام پر جاتا ہے لیکن کام اس سے وہی کیا جاتا ہے۔ پھر کہا جاتا ہے قرض اتارو، مجھے سنوارو۔


ق سے قلی بھی ہوتا ہے، یہ تو مشہور نہیں ہوتا اس کی فلم مشہور ہو جاتی ہے۔
آہ ایک بچاری قندیل تھی جسے میڈیا نے بجھا دیا۔ اب اسے باغی کے روپ میں پیش کیا جا رہا ہے اور وہ بھی جاوید ہاشمی کے ہوتے ہوئے، کیا قیامت ہے۔
پیارے بچو
ق سے قطار بھی ہوتی ہے، باہر کے ملکوں میں یہ بنائی جاتی ہے، ویسے تو ہم سے بھی بنوائی جاتی ہے، لیکن ہمیں اس کی صورت میں کچھ نہ کچھ مل جاتا ہے۔


ق سے قلم دوات بھی ہوتی تھی، جب سے پنڈت دیا شنکر نسیم نے اسے تشبیہ کے طور پر استعمال کیا ہے، اسے نصاب سے خارج کر دیا گیا ہے۔
پیارے بچو
ق سے قل بھی ہوتے ہیں، یہ اس نظام پر بھی پڑھے جائیں گے اور اس کے نتیجے میں پوری قوم کو ایک پلیٹ بریانی کی ملے گی۔
ق سے قالین بھی ہوتا ہے، الہ دین اس پر بیٹھ کر اڑتا تھا، ایک شیر قالین بھی ہوتا ہے، اسے دیکھ کر لوگ نعرہ لگاتے ہیں، دیکھو دیکھو کون آیا۔


ق سے ویسے تو قوم بھی ہوتی ہے، ہوتی ہوگی دوسرے ملکوں میں، ہم تو ابھی تک ہجوم ہیں۔
ق کی سب سے بڑی مشکل، اس کا صحیح مخرج سے آواز نکالنا ہے، ویسے گلہ خراب ہو تو نمک کے غرارے کرتے وقت اس کی صحیح آواز نکلتی ہے۔
پیارے بچو
ق سے قیلولہ بھی ہوتا ہے، ایک صاحب کو ڈاکٹر نے کہا کہ کم از کم روز تین گھنٹے کیا کریں، اس نے بڑھئی سے بنوایا، اور ڈاکٹر کی منتیں کیں کہ یا وقت کم کریں یا پندرہ منٹ کرکے دکھا دیں۔


ق سے قبلہ ہوتا ہے، ہمیں اسے درست کرنے کی ضرورت ہے۔ ویسے تو ایک مرغ قبلہ نما بھی ہوتا تھا، اور شاعر اس کے تڑپنے کا مزہ آشیانے میں لیتے تھے۔
ہمارے شاعر بھی عجیب تھے، وہ اپنے قمر کی کمر ساری عمر تلاش کرتے رہے، یہی کوئی ڈھنگ کی چیز تلاش کر لی ہوتی، کمر کے اوپر نیچے بھی تو کئی چیزیں ہوتی ہیں۔
پیارے بچو
ق سے قانون ہوتا ہے، اس کے ہاتھ بہت لمبے ہوتے ہیں، یہ کسی بھی غریب کو لمیاں پا سکتا ہے، سنا ہے قانون اندھا ہوتا ہے، تو پھر یہ بھیک کیوں نہیں مانگتا، ہم سے کیوں منگواتا ہے۔

منٹو نے نیا قانون لکھا تھا، وہ اب تک نیا کا نیا ہے۔
سنا ہے قانون کی حکمرانی ہوتی ہے لیکن اس کے لیے وزیر قانون بننا پڑتا ہے۔ ہم دستور ساز اسمبلی کے ممبر قانون بنانے کے لیے بھیجتے ہیں اور وہ نالیاں اور سڑکیں بناتے رہتے ہیں۔ شاید وہ استاد ذوق کے اس مصرع کی ترجمانی کرتے ہیں
پل بنا، چاہ بنا، مسجد و تالاب بنا
پیارے بچو
ق سے قصور ہوتا ہے، پہلے یہ بلھے شاہ، نور جہاں اور فالودہ کی وجہ سے مشہور تھا، اب میرا کیا قصور ہے؟ کی وجہ سے مشہور ہے۔
ق سے قلب بھی ہوتا ہے، یہ سنا ہے الٹا لٹکا ہوتا ہے، جو اس کا کہا مانے یہ اس کا بھی یہی حال کرتا ہے۔

Your Thoughts and Comments