Qissa Aik Shair Ka Aik Pagal Ka

قصہ ایک شاعرہ اور ایک پاگل کا!

بدھ جنوری

Qissa Aik Shair Ka Aik Pagal Ka

عطاء الحق قاسمی:

بات پرانی ہے لیکن خدا جانے میرے ذہن میں ابھی تک کیوں تازہ ہے؟آپ نوشی گیلانی کو جانتے ہیں نا؟ایک گڑیا سی لڑکی ہے اور خوب صورت شعر کہتی ہے اسلام آباد میں اس کے اولین شعری مجموعے کی تقریب رو نمائی ہوئی تواگلے روز قومی اسمبلی کے بعض اراکین نے اس بات پر خاصی لے دئے کی کہ اس تقریب میں پانچ مرکزی وزراء آخر کس خوشی میں شریک ہوئے؟نیز یہ کہ خبرنامے میں اس تقریب کو اتنی کوریج کیوں دی گئی؟خبر میں یہ بھی بتایا گیا تھا کہ وزیر اعظم نے اس معاملے کی تحقیقات کا حکم دئے دیا ہے مجھے یقین ہے کہ قومی اسمبلی کے اراکان کے اعتراض اور اس اعتراض کی پانچ کالمی خبر کے پیچھے الحمد والے عزیزی صفدر کا ہاتھ ہے کہ اس سے نوشی گیلانی اور ان کی کتاب کی خوب پبلسٹی ہوئی ہے ویسے میں یہ خبر پڑھ کر خاصا محفوظ ہوا کیونکہ جس روز پہ تقریب منعقد ہوئی اس روز اتفاق سے میں بھی اسلام آباد میں موجود تھا تقریب میں جو”کالعدم“وزراء موجود تھے ان میں سے ایک تو جناب فخر امام تھے جو تقریب کی صدارت کرہے تھے دوسرے جناب عبدالستار لالیکا تھے تیسرے جناب جناب صدیق کانجو اور چوتھے جناب جاوید ہاشمی تھے یہ چار وزیر تو میں نے اپنی آنکھوں سے دیکھے اور ان کی تقریریں بھی سنیں پانچوں وزیر وہاں مجھے کوئی نظر نہیں آیاحالانکہ شیخ رشید کی گنجائش موجود تھی اور وہاں اکیڈمی آف لیٹرز کے چئیرمیں جناب غلام ربانی آگرو اور ڈائریکٹر جنرل جناب افتخار عارف بھی مقررین میں شامل تھے جناب چئیرمین نے تو اکیڈمی آف لیٹرز کی طرف سے محترمہ نوشی گیلانی کو کتاب اور قلم کا تحفہ بھی پیش کیا جس سے اہل محفل کو اندازہ ہوا کہ ادبی تنظیم”آئینہ“نے یہ تقریب دراصل اکیڈمی آف لیٹرز کے تعاون سے منعقد کی تھی۔

(جاری ہے)

وزراء اور اکیڈمی کے ادیب افسران کے علاوہ متعد دداشوروں نے بھی اس محفل میں خطاب کیا حاضرین کی بہت بڑی تعداد بھی یہاں موجود تھی فاضل ایم این اے نے قومی اسمبلی میں یہ سوال بھی اٹھایا کہ وزراء کے علاوہ اکیڈمی کے افسران دانشور اور اتنے سارے حاضرین اس تقریب میں کیا کررہے تھے؟میرے خیال میں اس سوال کی گنجائش بھی موجود تھی اگر پوچھ لیا جاتا تو کیا حرج تھا؟اتفاق سے اس تقریب کو کوریج بھی میں نے اسی روز ٹیلی وژن سے دیکھی جس میں نوشی گیلانی کے کاندھے پر بندوق رکھ کر چلائی گئی تھی یعنی حسب معمول یا حسب پالیسی یہ خبربھی دراصل وزیر نامہ تھی اور اس می کسی دانشور کا نام میں لیا گیا تھا بعض”کمزور دل“خواتین و حضرات اپنی تقریبات میں وزراء کو بلاتے ہی اس لیے ہیں کہ ٹی وی پر کوریج ممکن ہوسکے کیونکہ صدارت اگر پاکستان کاسب سے قابل احترام ادیب بھی کررہا ہو تو ٹی وی پر اس کی کوریج ٹی وی کی اخلاقیات کی منافی ہے لالیکاصاحب کو بھی غالباً اسی لیے بلایا گیا تھا اس روز لالیکا صاحب کی تقریر سے اندازہ ہوا کہ علم و ادبج سے انہیں خاصا گہرا لگاؤ ہے اور ظاہر ہے اس میں نوشی گیلانی کا کوئی قصور نہیں تھا ویسے ارباب حکومت میں اگر کوئی دانشور ہو تو اسے ٹی وی کی اس واہیات پالیسی کا نوٹس ضرور لینا چاہیے ورنہ یہی سمجھا جائے گا کہ دانشوروں میں آکر دانشوروں جیسی بات کرنے والا شخص ہی اندر سے بس وزیر ہوتا ہے۔

تاہم یہ کالم میں ایک اہم مسئلے کی طرف توجہ دلانے کی غرض سے لکھ رہا ہوں اور وہ مسئلہ یہ ہے کہ ہمارے اہل سیاست ادب و دانش کو ایک گٹھیا اور کم تر چیز کیوں سمجھتے ہیں اپنی تقریروں کو خوب صورت لفظوں اور شعروں سے مزین کرنے والے سیاست دانوں کارویہ عمومی طور پر اہل دانش کے ضمن میں زیادہ سے زیادہ مریبانہ ہی ہوتا ہے وہ اگر کسی علمی و ادبی تقریب میں شمولیت فرمائیں تو ان کا سارا زور بیان اہل دا نش کو مشورے دینے ہی پر صرف ہوتا ہے کہ انہیں یہ لکھنا چاہیے اور یہ نہیں لکھنا چاہیے حالانکہ یہ اہل دانش ہیں جن کے لفظوں سے اہل سیاست کو روشنی حاصل کرنی چاہیے قومی اسمبلی میں اٹھائے جانے والے سوال کے پس منظر میں بھی یہی لاشعوری سوچ کار فرما تھی کہ وزراء حضرت ان ویلوں کے ٹبر میں کیوں گئے جو لوگوں کو مثالی معاشرے کے خواب دکھاتے ہیں اور یوں اہل سیاست کی نیندیں حرام کرتے ہیں وزراء حضرت روزانہ بیسیوں تقریبات میں شرکت کرتے ہیں جن میں سے بیشتر جہالت کے فروغ میں اہم کردار ادا کرتی ہیں لیکن ان کی کوریج پر کبھی تنقید نہیں ہوئی مخالف دائرے کی طرف سے صرف یہ کہا جاتا ہے کہ فروغ جہالت کے ضمن میں ان کی کوششوں کو بھی ٹی وی نظر انداز نہ کرے اس ضمن میں دوسری اہم بات یہ ہے کہ دانش کے علاوہ خواتین کو بھی ہمارے ہاں کم تر درجے کی مخلوق سمجھا جاتا ہے اور ان کی عزت افزائی پوری طرح ہمیں ہضم نہیں ہوتی اور یوں اگر دیکھا جائے تو کالعدم وزرائے کرام نے اسلام آباد کی جس محفل میں شرکت کی تھی اس میں بیک وقت دو لعنتیں اکٹھی تھیں ایک یہ کہ یہاں علم و دانش کا تذکرہ تھا اور دوسرے یہ محفل ایک خاتون کی شعری کاوشوں کے حوالے سے تھی چنانچہ قومی اسمبلی میں ان وزراء کے پیٹی بند سیاست دانوں کی طرف سے ان کی کھچائی ہونا ہی چاہیے تھی کہ سائیاں کدھرتے ودھائیاں کدھرے؟ان حالات میں خود ادیبوں اور دانشوروں کو سوچنا چاہئے کہ ان کی عزت ارباب سیاست کا مقتدی بننے میں ہے یا ان کی حیثیت امام کی سی ہے ان میں سے جونسی حیثیت وہ اپنے لیے خودمنتخب کریں گے زمانہ اسی کے مطابق ان سے برتاؤ کرے گا۔

میں نہیں جانتا کہ سابق وزیر اعظم نے اس سکینڈل کے ضمن کیا اقدامات کئے یوں تو یہی مضحکہ خیز صورت حال کی لیپا پوتی کے لیے اہل سیاست کو گول مول سی باتیں کرنا پڑتی ہیں کہ یہ بھی اہل سیاست کی خود ساختہ مجبوری ہے ورنہ سابق وزیر اعظم اعتراض کرنے والے رکن اسمبلی سے کہہ سکتے تھے کہ بھائی پہلی وفعہ میرے وزراء کسی ڈھنگ کی محفل میں گئے ہیں اور یوں انہیں عقل کی باتیں سننے اور کرنے کا موقع ملا ہے تم نے اس پر بھی اعتراض کردیا؟ایک وزیر صاحب پاگل خانے کے دورے پر گئے جب وہ پاگلوں سے خطاب فرمارہے تھے ایک پاگل اپنی جگہ سے اٹھا اور وزیر صاحب کی طرف اشارہ کرکے کہنے لگا تم جھوٹ بولتے ہو جلسے کے اختتام پر وزیر صاحب پاگل خانے کے سپرنٹنڈنٹ پر برس پڑے کہ تم نے اس پاگل کو روکا کیو ں نہیں تو پیارے قارئین سپرنٹنڈنٹ نے وزیر صاحب کو وہی جواب دیا جو میں نے تھوڑی دیر پہلے سابق وزیر اعظم صاحب کی طرف سے اعتراض کرنے والے اسمبلی کے ممبران کے لیے تجویز کیا ہے۔

Your Thoughts and Comments