Qoum Ka Dard Ya Kam Ka Dard

قوم کا درد یا کا م کا درد

بدھ اکتوبر

Qoum Ka Dard Ya Kam Ka Dard

ڈاکٹر تنویر حسین
ہمارے ایک دوست ہیں ،جو اکثر یہ کہتے ہیں کہ خدا غریب دشمن کو بھی ڈاکٹروں کے پاس نہ لے جائے۔ہم نے انھیں ایک روز کہا کہ سب لوگ اگر صحت مند ہو جائیں تو ڈاکٹر حضرات آخر کیا کریں گے ۔وہ کہنے لگے کہ میں صرف یہ کہنا چاہتا ہوں کہ ڈاکٹر کی کلینک اور پنکچر لگانے اور گوشت والی دکان میں کچھ فرق ہونا چاہیے۔پرانے طبیب طب کے پیشے کو کمائی کا ذریعہ نہیں بناتے تھے ۔

ان کے پاس کوئی غریب مریض آتا تو وہ نہ صرف تسلّی سے اس کا علاج کرتے بلکہ کچھ پلے سے بھی دے دیا کرتے تھے ۔آج کل ڈاکٹروں کے پاس مریض کو چیک اَپ کرنے کے لیے وقت ہی نہیں رہا۔
ڈاکٹروں کے ہاں جتنا رش ہوتا ہے ،انھیں اخبارات میں ضرورتِ فرصت کے اشتہارات چھپوانے چاہییں ۔میرے خیال میں ڈاکٹر حضرات مریض کو اتنا بھی چیک نہیں کرتے ،جتنا پنکچر لگانے والا موٹر سائیکل یا سائیکل کی ٹیوب کو پانی والی تگاری میں کرتا ہے بلکہ بعض اوقات توڈاکٹر مریض سے مرض کے بارے میں کم اور سیاست اور حالاتِ حاضرہ کے بارے میں زیادہ گفتگو کرتے ہیں ۔

(جاری ہے)

پچھلے دنوں نصیب دشمناں ہمارے دوست کو آنکھیں دکھانے کے لیے ایک ڈاکٹر کے پاس جانا پڑا۔آنکھوں کے موضوع پر شعراء کرام نے ہمیشہ طبع آزمائی کی ہے ۔
شاعر جب کسی خوب صورت انسانی آنکھ کو تشبیہ دیتے ہیں تو ہمیشہ اسے کسی جانور کی یا پودے کی آنکھ سے تشبیہ دیتے ہیں ۔مثلاً غزالی آنکھیں ،نرگسی آنکھیں اور بادامی آنکھیں وغیرہ ۔ویسے مالی آنکھیں بھی اچھی تشبیہ ہے ۔

ہمارے دوست اور ڈاکٹر صاحب کے درمیان جو مکالمہ ہوا،وہ قارئینِ کرام کی خدمت میں حرف بحرف اور زیر زبر کے ساتھ پیش ہے۔
مریض: مجھے چند دن سے صاف نظر نہیں آرہا ۔
ڈاکٹر: آپ صاف چیزیں دیکھتے ہی نہیں ہوں گے۔
ڈاکٹر: (مریض سے آنکھیں چار کر تے ہوئے )آپ کی آنکھوں میں شرم وحیا کے علاوہ موتیا اتر رہا ہے۔
مریض : (مسکراتے ہوئے)ڈاکٹر صاحب آپ شرم وحیا کی تشخیص بھی کر لیتے ہیں ۔


ڈاکٹر: بھئی ! یہ الفاظ تو میں نے ازراہِ تفنن کہتے ہیں ۔
مریض: اس کا مطلب یہ ہے کہ لوگوں کو آیندہ میرا نام لینے کی بڑی سہولت ہو گی ،وہ مجھے ”موتیا والی سرکار“کہا کریں گے ۔ویسے داکٹر صاحب! اگر بندے کی آنکھ میں موتیا اتر آئے تو اسے گلاب چہرے نظر آنے بند ہوجاتے ہیں ۔
ڈاکٹر: ملکی حالات کے پیشِ نظر گلاب چہروں کو تو آنکھیں ترستیاں ہیں۔

آج کل تو صرف زرد گلاب چہرے ہی دیکھے جا سکتے ہیں ۔
مریض:”مجھے کتنے دن آرام کرنا پڑے گا؟“
ڈاکٹر: (مسکراتے ہوئے)ہمارے ہاں مریض کو اپنے علاج کی فکر نہیں ہوتی،جتنی اسے آرام کی ہوتی ہے ۔قوم کا درد اب دلوں میں نہیں ہوتا بلکہ کام کا درد پیٹ اور سر میں ہوتا ہے ۔لوگ ڈاکٹروں کی مُٹھیاں ،جیبیں اور پرس گرم کرکے اپنے اپنے محکموں سے چھٹیاں کرتے اور درخواستوں میں کوئی امید بر نہیں آتی ،کوئی صورت نظر نہیں آتی ،وغیرہ کے مضمون باندھتے ہیں ۔


مریض: ڈاکٹر صاحب! آپ کو تو مریضوں سے زیادہ محکموں سے ہمدردی ہے ۔
ڈاکٹر: بھئی! ہمارے جھنڈے میں ہرا رنگ ضرور موجود ہے لیکن ہم نے ستر برسوں سے اپنی آنکھوں پر ہری پٹی باندھ رکھی ہے ۔کبھی ہمارے آنکھوں میں جمہوریت اتر آئی ،کبھی قوم کی بینائی تیز کرنے کے لیے سرمہ مارشل لاء تیار کیا گیا اور کبھی قوم کی آنکھوں کو نگرانی کی عینک تجویز کی گئی ۔


مریض : ڈاکٹر صاحب! جمہوریت،مارشل لاء اور نگرانی کے ادوار میں عام آدمی کی آنکھیں ہی کھلتی ہیں ۔آپ بُرا نہ مانیں تو میں آپ کو ایک اور ڈاکٹر کا ایک پیارا سا واقعہ سناؤں ۔یاد رہے کہ مریض کی سوچ مریضانہ اور ڈاکٹرکی ڈاکٹرانہ ہوتی ہے ۔ایک مریض نے کہا کہ ڈاکٹر صاحب آپ دوائی کے علاوہ سیری بیماری کی وجوہات کے اسباب اور نتائج وغیرہ وسمجھا دیں ۔

یہ بھی بتا دیں کہ مجھے کن کن اشیاء سے پر ہیز کرنا ہے ۔
ڈاکٹر صاحب نے جب ایک نظر اپنے مریضوں کی قطار دیکھی تو انھوں نے کہا کہ جن بیماریوں کے اسباب ،نتائج اور علاج جاننے کے لیے میں نے اپنی زندگی کے قیمتی تقریباً اٹھارہ سو پچیس دن ،ساٹھ ماہ یعنی پانچ سال صر ف کیے ہیں ۔آپ کو میں ایک منٹ میں کیسے سمجھادوں ۔
ڈاکٹر: ”بات کدھر سے کدھر نکل گئی ۔

ویسے آپ آنکھوں سے اتنا ہی دیکھا کریں ،جتنا ضروری ہے ۔“
مریض: ”یعنی میں نظر کی لوڈشیڈنگ یا بچت کیا کروں ۔ویسے یہ نظر بچت سکیم قومی بچت سکیم سے کافی مِلتی جُلتی ہے ۔“
ڈاکٹر: ”پیارے مریض ! آ پ ذرا اپنے دن بھر کے کھانے کا شیڈول بتا دیں ۔آپ کی بیماری پکڑی جا سکتی ہے۔“
مریض: صبح نا شتہ کرنے کے بعد میں کا م پر چلا جاتا ہوں ۔

وہاں دس بچے سے لے کر بارہ بچے تک نظر کا ہی کام کرتا ہوں ۔اس کے بعد دو پہر کے کھانے کی فکر پڑجاتی ہے ۔کھانے سے قبل ہمیشہ سوچتا ہوں کہ آج کوئی ایسی چیز کھاؤں گا،جو صحت بخش ہو یعنی دن کو بھی تارے نظر آنے لگیں ۔جو ں جوں کھانے کا وقت قریب آتا ہے ۔آنکھوں کے آگے صرف نان چنے یا نان حلیم ہی آتی ہے ۔“
ڈاکٹر : ”ویسے جس طرح آپ کے نان چنوں اور نان حلیم کا ذکر کیا ہے ،آپ کی آنکھوں میں موتیے کی بجائے حلیم یا چنے اترنے چاہییں تھے۔

نان ایک ایسا لفظ ہے ،جو پیٹ میں پہنچ کر ہمیشہ بھیگی بلی بن جاتا ہے اور ہمیشہ منفی اثرات پیدا کرتا ہے ۔ویسے جس طرح آپ سخت نان کھاتے ہوں گے ،یقینا ان کا لقمہ توڑنے کے لیے آپ کی انگلیاں جواب دے جاتی ہوں گی اور آپ کسی سائیکل والی دکان سے پلاس منگوا کر نان کھال کھینچ کھینچ کرکھاتے ہوں گے ۔
مریض : ” ڈاکٹر صاحب! آپ کی خدمت میں کتنی فیس پیش کروں ۔“
ڈاکٹر : ”ایک ہزار روپے“
مریض : ”ڈاکٹر صاحب ! مجھے آپ کی شکل صاف دکھائی دینے لگی ہے ۔آپ کا بہت شکریہ۔“

Your Thoughts and Comments