Ray

ر

سہیل عباس خان جمعرات جولائی

Ray

پیارے بچو جی ر سے رات ہوتی ہے، آپ کو معلوم ہوگا دنیا میں ایسی جگہیں ہیں جہاں چھ ماہ دن ہوتا ہے اور چھ ماہ رات لیکن آپ کو یہ معلوم نہیں ہوگا کہ دنیا میں ایک جگہ ایسی بھی ہے جہاں 69 سال سے رات ہے، اس جگہ کا نام پاکستان ہے۔ ویسے سب سے لمبی رات وہ شب فراق ہے جو آٹھ سو سال قبل اردو شاعری میں شروع ہوئی تھی اور اب تک ختم نہیں ہوئی۔ رات کو الٹا کریں تو تار بنتا ہے، جس کا مطلب تاریک بھی ہوتا ہے اور بجلی والا تار بھی، پاکستان میں بجلی والا تار دونوں معنی میں استعمال ہوتا ہے۔

وہ خود الٹا نہیں ہوتا اس سے عوام کو الٹا لٹکایا جاتا ہے۔

آپ کو یہ بھی پتہ ہوگا کہ امریکہ میں دن ہوتا ہے تو پاکستان میں رات ہوتی ہے، لیکن اتنا فرق ہے کہ پاکستان میں کبھی دن نہیں ہوتا۔ پیارے بچو!!! پروفیسر کرار حسین کہتے ہیں، تہذیب فطرت سے کچھ زیادہ کا نام ہے، تو شب آفریدی چراغ آفریدم، تو گل آفریدی ایاغ آفریدم، یعنی خدا نے رات بنائی تو میں نے یعنی انسان نے چراغ بنا لیا، اسی طرح خدا نے مٹی بنائی تو انسان نے پیالہ بنا لیا، ورنہ سب جانور پانی سے منہ لگا کے پیتے ہیں، انسان پانی کو اوک کے ذریعے منہ تک لایا، پیالہ اسی اوک کی ترقی یافتہ شکل ہے۔

(جاری ہے)

پیارے بچو آج کل ہم سب اسی طرح پاکستانی تہذیب کی بنیاد مضبوط کر رہے ہیں، "ر" سے رسہ تھا، ہم نے اس سے رسہ گیر بنا لیا۔ "ر" سے روڈ تھا، ہم نے وہاں روٹ لگا دیا۔

جب کوئی ہمارے خلاف "ر" سے راء کا اظہار کرتا ہے تو ہم اسے وہ رگڑا لگاتے ہیں کہ اس کی سات نسلیں، وہ بھی اگر ہو سکیں تو جس کی امید نہیں، یاد رکھیں گی۔ "ر" سے رنگ تھا، ہم نے اس سے رنگ بازی شروع کر دی، اگر یقین نہیں آتا تو ہمارے ایوان بالا و زیریں میں جا کر دیکھ لیں۔

"ر" سے دنیا نے راکٹ بنایا، ہم نے صرف راکٹ سائنس بنائی ہے، جب بھی کوئی مشکل کام ہو، ہم کہتے ہیں اس میں کون سی راکٹ سائنس ہے لیکن وہ کرتے کبھی نہیں، بس کہنے کے لئے ہی استعمال کرتے ہیں۔

"ر" سے ریل بھی ہوتی تھی، پہلے یہ سبز رنگ کی ہوتی تھی، جب سے پاکستان میں مالٹے زیادہ ہوئے ہیں اس نے اس کا رنگ پکڑ لیا ہے، مالٹا نامی جزیرے کا اس سے کوئی تعلق نہیں اور اگر ہو بھی تو ابھی منظرعام پر نہیں آیا، ابھی ہم دوسرے جزیروں پر مصروف ہیں۔

"ر" سے ریڑھی ہوتی ہے، یہ ہماری معیشت میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتی ہے، اگر سٹیفن ہاکنگ پاکستان میں ہوتا تو تین چار ہزار کی روز دیہاڑی لگاتا۔ "ر" سے روزن بھی ہوتا ہے، بعض صحافی اسے حکومتی دیوار میں لگاتے ہیں۔

"ر" سے ریوڑی ہوتی ہے، ممتاز مفتی کہتے ہیں نیک بیوی اس ریوڑی کی طرح ہوتی ہے جس میں کڑاکا نہیں ہوتا۔ ویسے ہم زیادہ تر ریوڑیاں اپنوں میں بانٹا کرتے ہیں۔

"ر" سے رویت ہلال کمیٹی بھی ہوتی ہے، اردو شاعری میں چونکہ محبوب کو چاند سے تشبیہ دی جاتی تھی اس لیے ہر کمیٹی کا اپنا اپنا چاند ہوتا ہے لیکن یہ الگ بات ہے کہ وہ ایک دن میں اکٹھا نظر نہیں آتا۔ "ر" سے ریوڑ ہوتا ہے، جسے عوام بھی کہتے ہیں۔

جس طرح "س" سے ایک محل ہوتا ہے اس طرح "ر" سے بھی ایک محل ہوتا ہے، ان دونوں محلات کی وجہ سے پاکستانی عوام ہر وقت ریں ریں کرتے رہتے ہیں۔

"ر" سے رسی ہوتی ہے جو جل جاتی ہے لیکن بل نہیں جاتا وہ ہم ہیں۔ ہمیں "ر" اتنی پسند ہے کہ ہم ہر وقت اس کا شکریہ ادا کرتے رہتے ہیں۔ رب کا شکر ادا کر بھائی، جس نے ہماری گائے بنائی سے شکریہ۔۔۔۔ "ر"، "ش" تک۔ پیارے بچو!! "ر" سے راگ الاپو کہ اب یہی ہماری قسمت میں ہے۔ بلاول ٹھاٹھ کا کیدارا اور اس میں آمروہی: رے نی سا دھا پا ما پا دھا ما رے سا

Your Thoughts and Comments