Retired Husband

ریٹائرڈشوہر

جمعرات ستمبر

Retired Husband
احمد جاوید جیلانی
ریٹائر شوہر ہونا بھی اک قیامت صغریٰ سے کم نہیں ‘ریٹائرڈشوہر تنخواہ یک دم کم ہوجانے سے بھونچکا سا ہوجاتا ہے۔جبکہ اخراجات پہلے کی طرح سے اس کے آنگن میں آگے پچھلے رقصاں رہتے ہیں وہ گویا خود کو ہر وقت پنشن حاصل کرنے کے انتظار میں قطار کے اندر کھڑا محسوس کرتا ہے۔
ریٹائرڈ آدمی کی سب سے بڑی خواہش یہی ہوتی ہے ، کہ پنشن کا چیک خود بخود ہر ماہ اس کے گھر آجایا کرے۔

اکثر بیویاں ریٹائرڈ شوہر کے کان میں کھسر پھسر کرتی رہتی ہیں۔
وہ میں نے کہا جی پینو بھی ماشاء اللہ سے جوان ہورہی ہے اور گھر کے اخراجات معہ مہمان داری کے جوں کے توں ہیں ریٹاڈشوہر جی کچھ تو سوچو “اگر ریٹائرڈ شوہر کے بچے ابھی کالجوں اور سکولوں میں زیر تعلیم ہوں تو ، بس ریٹائرڈ شوہر کی حالت قابل رحم ہے۔

(جاری ہے)


جس طریقہ سے میاں بیوی‘ بچوں کی پرورش کرتے ہیں اور ان کا مستقبل سنوارتے ہیں اور ان کا مستقبل سنوارے میں تن دہی دے کوشاں رہتے ہیں۔

یہ انہی کاکام ہے کچھ بچے زیور تعلیم سے آراستہ ہوتے ہیں کچھ زیرتعلیم سے ناآراستہ رہ جاتے ہیں۔
بیوی ریٹائرڈشوہر کادم ناک میں کرتی رہتی ہے اور شہر کو کسی کروٹ چین نہیں لینے دیتی۔وہ اسے دوسری نوکری کامشورہ دیتی ہے اور اسکی بار بار یہی رٹ ہوتی ہے۔
پنشن ملا کر دوسری نوکری کے ساتھ پھر ہی گھر کی گزار اوقات ہوگی میرے ریٹائرڈشوہر جی کچھ تو کرو میرے میں حضور۔


پرائیوٹ اداروں میں ریٹائرڈشوہر تجربہ کی بنا پر واقعی ہاتھوں ہاتھ لیا جاتا ہے اور یوں وہ پرائیوٹ اداروں کی غذابن جاتا ہے۔
کئی ریٹائرڈشوہروں میں سبکدوشی کے بعد بھی سرکاری ملازمت کی بو آخر دم تک رہتی ہے اور کئی میں آہستہ آہستہ دور بھی ہوجاتی ہے۔کئی بیوی کے کہنے پر دوسری نوکری کی تلاش کے لیے سرگرداں ہوجاتے ہیں۔
جب ریٹائرڈشوہر دوسری نوکری کرتا ہے تو کرسی سے چپک کرنوکری کرتا ہے۔

تاکہ مالک پر اس کے کام کی دھاک بیٹھ جائے اور کوئی یہ نہ کہے کہ موصوف سبکدوش شدہ میں کام کے قابل نہیں رہے یا بوڑھے ہوگئے ہیں۔
ریٹائرڈ شوہر دفتر کاکام نہایت دل سے کرتا ہے۔جس سے مالک کے دل میں زیادہ عزت ہوجاتی ہے۔
اگر ریٹائرڈ شوہر ملازمت سے سبکدوش ہونے کے بعد کوئی کام نہ کرے تو اجل کے فرشتے اس کا تیزی سے پیچھا کرنے لگتے ہیں ،اور وہ جانتا ہے کہ اجل کے فرشتے اس کاتعاقب کام نہ ہونے کی وجہ سے کررہے ہیں۔


ریٹائرڈشوہر نوکری سے فارغ ہونے کے بعد فوری طور پر دوسری نوکری کی تلاش خوف کی وجہ سے کرتا ہے۔کہیں اللہ میاں کے فرشتے اس کوکام سے فارغ سمجھتے ہوئے دبوچ نہ لیں۔
ریٹائرڈ شوہر کے بچے اپنا مستقبل بنانے میں پیش پیش ہوتے ہیں۔کیونکہ وہ والدین کی مجبوریاں خوب سمجھتے ہیں اور اپنا مستقبل بنانے میں کمال محنت سے کام لیتے ہیں جس سے والدین کی بھی پوری پوری امداد ہوتی ہے۔

یہ بچے اللہ کی نگاہ میں بھی قابل احترام ہوتے ہیں۔
اگر ریٹائرڈ شوہر دفتری ملازمت کے سواکوئی کام نہ کرے تو جیسی اس کی عادات واطوار وخصائل دوران ملازمت تھیں۔وہ سبکدوشی کے بعد بھی انہیں عادات کو برقرار رکھنے کی کوشش کرے گا۔وہ صبح وقت پراٹھتا ہے، اور تیار ہوتا ہے۔چاہے ریٹائرڈ شوہر میں دم خم ہویانہ ہو۔اس کے لیے خود کوکسی نہ کسی کام میں مشغول رکھنا ہی اس کی زندگی کا اولین فرض ہوتا ہے۔

ریٹائرڈمنٹ کے بعد چھڑی ہاتھ میں رکھنا اس کی زندگی کا حصہ بن جاتا ہے۔
اب وہ چھڑی ہاتھ میں ‘صبح کی سیر کے لیے اپنے ریٹائرڈ دوستوں کے ساتھ نکل جاتا ہے یانماز پڑھنے کے بعد گھر سے اکیلا نکل جاتا ہے پھر اک جگہ جہاں ملازمت سے ریٹائرڈحضرات کا ایک مخصوص اکٹھ ہوتا ہے۔جہاں ریٹائرڈشوہر کے ساتھ ساتھ اس کے ساتھی اپنے ماضی کودہراتے جاتے ہیں۔

اپنی ملازمت کی کہانیاں ایک دوسرے کولہک لہک کرسناتے ہیں۔بچوں کے مستقبل کے بارے میں گفتگو کرتے ہیں۔
اپنے اپنے مسائل بیان کرتے ہیں اور کئی ریٹائرڈحضرات آپس میں رشتہ دار بھی بن جاتے ہیں۔ اس گفتگو کے دوران ہلکی پھلکی سیر بھی ہوجاتی ہے۔ریٹائرڈشوہر اپنے آپ کو ہر وقت مشغول رکھنے کے لیے کوئی نہ کوئی کتاب بھی پڑھتا ہے۔
ریٹائرڈ شوہر اس تاڑ میں رہتا ہے کہ کوئی اس کی باتیں سنے، مگر اس کو اس کا بہت کم موقع میسر آتا ہے، اور پھر وہ خاموش ہی اور بیچارہ سا بیٹھا رہتا ہے اور اندر ہی اندر کڑھتا رہتاہے‘بغیر مقصد کے گھومتا ہوا بھی دکھائی دیاہے۔


ریٹائرڈشوہر بچوں کے ساتھ کھیلتا ہوا دیکھا گیا ہے اور بچے والدین سے زیادہ ریٹائرڈ شوہر سے مانوس ہوتے ہیں۔اگر پوتا پوتی، نواسا‘نواسی چلے جائیں تو ریٹایرڈشوہر بہت رنجیدہ ہوجاتاہے۔کئی بار اس غم میں بیمار بھی ہوجاتاہے۔
ریٹائرڈمنٹ کے بعد ریٹائرڈ شوہر نہایت پارسابن جاتے ہیں چونکہ ریٹائرڈ شوہر کو کچھ نہ کچھ مصروف رکھنے کے لیے شغل چاہیے وہ دوسروں کے کاموں میں کودکود کے اور بلاوجہ مداخلت کرتا ہے۔


اگر زیادہ عرصہ تک گھر میں رہے تو پھر باورچی خانہ میں خاتون خانہ سے چھپ چھپا کے اگر ہنڈیاپک رہی ہو‘چینی اٹھا اٹھا کر دیکھنے سے گریز نہیں کرتا کئی بار اس کی اس حرکت سے اس کا ہاتھ جل جاتا ہے۔کافی دیر تک اوئی اوئی ہائے میری ماں کہتاہے۔
ریٹائرڈ شوہر کام میں تنقید کرنا بھی ریٹائرڈ منٹ کا حصہ سمجھتا ہے۔ریٹائرڈ شوہر جب پہلی باراپنی ملازمت سے سبکدوش ہونے کے بعد گھر بوٹتا ہے تو وہ اپنے ہی گھر کی درودیوار کو حسرت بھری نگاہوں سے دیکھتا ہے اسے شاید محبت کی کمی نظر آرہی ہوتی ہے یااس کو اپنا ذہن ہلکاہلکا محسوس ہوتا ہے۔

گھروالے بھی اس کو حسرت بھری نگاہوں سے دیکھتے ہیں اور وہ بھی گھروالوں کوکن اکھیوں سے دیکھتا ہے اور ہر کے دل کا حال جان لیتا ہے۔
اگردرمیانے طبقے یاغریب قسم کاریٹائرڈشوہر ہے تومنجانب باحیات بیوی طنزیہ فقرے روز مرہ کا معمول اس کی قسمت میں لکھ دیا جاتا ہے۔وے ٹٹ پینہیاں چھڈمنجی‘عقل نوں ہتھ مار۔کیونکہ وہ چلاہوا کارتوس ہوتا ہے یا چلا ہوا پٹاخہ پیار سے کئی حضرات ریٹائرڈشوہر کو چھلکا بھی پکارتے ہیں۔

مطلب پرست لوگ نوکری کے دوران ریٹائرڈ شوہرکی بڑی عزت کرتے ہیں گھٹیااطوار کے لوگ عہدے کے پرستارہوتے ہیں۔
ریٹائرڈ شوہر اگر اپنی ملازمت کے دوران پھوپھاں میں مبتلا تھا تو پھرا س کو ملنسار ہونے میں کافی وقت کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ریٹائرڈشوہر اکثر اپنی بیوی کے حملوں کی زد میں رہتاہے۔اس کی بیوی اچھل اچھل کر اس پر حملہ آور ہوتی ہے اور طنزیہ فقروں سے ناشتہ کرواتی ہے۔


نوکری میں تم نے کیا کیا‘کیا بنایا‘ ریٹائرڈبھی ہوگئے ہوتو گھر میں کوئی ڈھنگ کی چیز تک نہیں ہے۔
اب وہ حسرت بھری نگاہوں سے بیوی کودیکھ کرایک لمبی آہ بھرتا ہے اور جیب کوٹٹولنا شروع کردیتا ہے۔
ریٹائرڈآدمی ریٹائرڈمنٹ کے بعد صبح صبح چھت پر کھڑا ہوا بھی پایاگیا ہے اور صبح صبح آتے جاتے لوگوں کو السلام علیکم کہتا یا صرف مسکراہٹ ہی چھت پر دے پھینکتا رہتا ہے۔


اگرریٹائرڈ شوہر کھاتے پیتے گھرانے سے تعلق رکھتا ہے تو اس کی آمدنی اس کے کھیتوں سے یاجائیداد سے آجاتی ہے۔
اس کے سبکدوش ہونے پر بیوی بچے بھی اس کا شاندار استقبال کرتے ہیں۔کئی بار تو بیوی کے منہ سے یہ جملہ بھی نکل جاتا ہے۔
خواہ مخواہ آپ نے نوکری کرکے اپنے آپ کو جھنجھٹ میں پھنسائے رکھا۔بھلاکس چیز کی کمی تھی میرے سرتاج کو؟
”چل جھوٹی کسی تھاں دی“
گویا ریٹائرڈشوہر کے ابتدائی دن اس کے لیے کسی عذاب سے کم نہیں ہوتے شروع شروع میں اس کادل کسی چیز میں نہیں لگتا ۔

مگر آہستہ آہستہ خود کوننے ماحول کو عادی بنالیتا ہے۔اگر اس کے بچے جواں ہیں یا شادی شدہ ہیں تو پھر وہ ایک جگہ نہیں نکتا۔ایک پاؤں میں چکر پیدا ہوجاتاہے۔
اگر ریٹائرڈ شوہر کے گھر میں وسیع آنگن ہے تو اس کی پھلواری کی دیکھ بھال اس کے فرائض میں داخل ہوتی ہے وہ دوسرے جوتوں کے علاوہ فلیٹ بوٹ پہنے دیکھا گیا ہے۔ریٹائرڈ شوہرریٹائرد منٹ سے کچھ عرصہ پہلے کود بخود ہر ایک کوکہنا شروع کر دیتاہے کہ میں فلاں سن فلاں تاریخ کوریٹائرہورہاہوں بس جی بہت خدمت کرلی سرکار کی ‘ریٹائرڈشوہر اپنے پرانے کپڑے جوسائز میں چھوٹے ہوچکے ہوتے ہیں۔

ریٹائرڈمنٹ کے بعد پھر سے پہننا شروع کردیتا ہے۔ریٹائرڈشوہر بغیر کسی کے پوچھے اپنا تعارف کراتاہے کہ میں فلاں عہد ے سے ریٹائرڈ ہواہوں۔یہ اس اک عادت سی بن جاتی ہے۔
وہ باتوں باتوں میں اپنی ریٹائرڈمنٹ کاٹانکا ضرور لگاتا ہے۔جب سرکاری ملازم تھا بس صاحب کیا بتاؤں اس وقت حالات ہی کچھ اور تھے بس اب تو اللہ بچائے۔
اب تو قدم قدم پر رشوت ہے
بغیر کسی موضوع تقریر کرتا ہے
ریٹائرڈ شوہر خط کاجواب فوری طور پر دیتا ہے اور لمبے لمبے خط تحریر کرتاہے۔

چھوٹی چھوٹی باتوں کو مسئلہ بنا لینا ریٹائرڈشوہر کی عادت سی بن جاتی ہے جو کہ اس کے گھر کے افراد کے لیے عذاب بن جاتی ہے۔
اگرریٹائرڈ شوہر کا حسن سلوک ریٹائرڈہونے سے پہلے دفتر کے عملے کے ساتھ بہترتھا اور اہل محلہ میں بھی اس نے اپنی افسری کی داغ بیل منڈھے نہیں چڑھائی تھی تو پھر اہل محلہ دکھ درد میں اس کا ساتھ دیتے ہیں۔
اگر محترم ریٹائرڈ شوہر دوران ملازمت اپنے آپ ہی میں گم تھے تو لوگ اس کے مرنے پر گم ہو جاتے ہیں۔


یہاں تک کہ اس کے جنازے پر بھی دفتر کے لوگ بہت کم شمولیت اختیار کرتے ہیں۔
اخلاق اچھا جنازے میں شمولیت اچھی۔
گویا کہ ریٹائرڈ شوہر شہد کی مکھی کی ماننداپنے آپ کو ہر وقت مصروف رکھنے ہی میں اپنی عافیت سمجھتا ہے۔
بچاؤ کے طریقے
بیوی کو چاہیے میاں حضور سے ہنڈیا پکوائیں گھر کا سودامنگوائیں۔شوہر سے پرانے قصے کہانیاں سنیں‘ ریٹائرڈشوہر کوسفر پر رکھو۔
احتیاطی تدابیر
نیند کی گولی رات کو دینا نہ بھولئے۔2 اس سے بحث مت کرو کیونکہ اس کے پاس بے حد فالتو وقت ہوتا ہے۔

Your Thoughts and Comments