Roos Bhai Jaan Wapis Aa Jaye

روس بھائی جان‘واپس آجاؤ!

جمعرات جنوری

Roos Bhai Jaan Wapis Aa Jaye
عطاء الحق قاسمی
ایک بہت پرانا لطیفہ ہے بلکہ بقول منیر نیازی اس لطیفے کی مونچھیں بھی سفید ہوچکی ہیں کہ ایک کفن چور رات کو قبرستان سے مردوں کا کفن اتارلیا کرتا تھا جب وہ مراتو اس کے بیٹے نے یہی کام شروع کردیا بلکہ وہ نہ صرف یہ کہ کفن چراتا تھا بلکہ جاتی دفعہ مردے کو قبر سے باہر بھی پھینک جاتا تھا اس پر گاؤں کے لوگوں نے اس کفن چور کے باپ کو اچھے لفظوں میں یاد کرنا شروع کردیا کہ اللہ جنت بخشے مرحوم بہت نیک دل انسان تھا وہ مردے کا کفن اتارتا تھا اسے بے حرمت تو نہیں کرتا تھا!بس کچھ اسی قسم کی صورتحال موجودہ خلیجی جنگ کی وجہ سے پیدا ہوئی ہے امریکہ اپنے اتحادیوں سمیت عراق کی اینٹ سے اینٹ بجانے پر تلا ہو اہے اور عراق کے وسیلے وہ سعودی عرب کوعمر بھر کے لیے اپاہج بنانا چاہتا ہے چنانچہ وہ لوگ بھی جو روس کی عالمی غنڈہ گردی سے تنگ تھے اس سابقہ غنڈے اور موجودہ شریف شہری کو یاد کرتے ہیں کہ اگر آج موصوف بھی میدان میں ہوتے تو امریکہ کو اس کھلی بدمعاشی کی جرات نہ ہوتی دراصل بھلے وقتوں میں ہوتا یوں تھا کہ دو عالمی غنڈے بقائے باہمی کے اصولوں کے مطابق زندگی بسر کرتے تھے جب کسی نے کسی کمزور پر ہاتھ اٹھانا ہوتا تھا تو وہ اپنے ہم عصر غنڈے سے مشورہ کرلیتا تھا اور پھر اس باہمی مشاورت کے مطابق کوئی قدم اٹھایاجاتا تھا مثلاً مشرقی پاکستان علیحدگی پر دونوں غنڈوں متفق تھے چنانچہ پاکستان کے عظیم دوست امریکہ کا ساتواں بحری بیڑہ ان باہمی سمجھوتوں کے پیچ و خم میں کھوکر رہ گیا مگر جب مغربی پاکستان بھی ہتھیا نے کی کوشش کی گئی تو امریکہ نے این او سی جاری کرنے سے انکار کردیا کہ یہ کام اس کے مفاد میں نہیں تھا اسی طرح روس بھی امریکہ کو ایک حد سے آگے نہیں جانے دیتا تھا اور جہاں اس نے روکنا ہوتا ب آواز بلند بالٹ کہتا جس کے نتیجے میں امریکہ کے قدم و ہیں رک جاتے ان دو غنڈوں کی ان پالیسیوں کا ایک فائدہ بھی تھا اور وہ یہ کہ عالمی جنگ کا خطرہ ٹل جاتا تھا نیز اقتدار کا توازن برقرار رکھنے کے چکر میں کئی کمزور ملک ان دو غنڈوں میں سے کسی ایک غنڈے کی “تڑی“ کی وجہ سے بچ جاتے ہیں مگر روس کے کمزور پڑنے کی وجہ سے اب امریکہ پوری دنیا کے لیے شیدا پستول بنا ہوا ہے اور جگا ٹیکس وصول کرنے کے لیے جس کا چھابڑی چاہتا ہے الٹا دیتا ہے چنانچہ اب لوگ روس کو یاد کرنا شروع ہوگئے ہیں کہ اللہ جنت بخشے موصوف بہت خوبیوں کے مالک تھے ان کی وجہ سے کئی چھابڑی فروش شیدا پستول کے چنگل سے بچ نکلنے میں کامیاب ہوجاتے تھے!یہی وجہ ہے کہ موجودہ خلیجی جنگ میں کم از کم مجھے تو روس بہت یاد آیا ہے اگر آج آنجہانی میں کوئی دم خم ہوتا تو وہ پہلے مرحلے پر ہی عراق کے خلاف طاقت استعمال کرنے کی قرارداد کو ویٹو کردیتا اور یوں اس ہولناک جنگ کا آغاز ہی نہ ہوتا جس کا مقصد عالم اسلام کو ایک دوسرے سے بھڑا کر تباہ کرنے کے سوا کچھ نہیں ہے روس عالم اسلام کو نقصان پہنچانے میں کبھی امریکہ سے پیچھے نہیں رہا خصوصاًپاکستان تو اس کی مربانیوں کا ہمیشہ سے ہدف رہا ہے مگر آج ایک پاکستانی مسلمان کے طور پر بھی مجھے روس کی قدر محسوس رہ رہی ہے اور یہ بدمعاش بہت یاد آرہا ہے ویسے کہنے والوں کا یہ بھی کہنا ہے کہ روس راتوں رات اتنا کمزورنہیں ہوسکتا کہ امریکہ کا ہاتھ نہ پکڑ سکے بلکہ وہ اپنی کمزوری کا جعلی تاثر دئے رہا ہے تاکہ امریکہ اپنی ساری طاقت خلیج میں جھونک دے اور اس کے نتیجے میں اتنا کمزور ہوجائے کہ اس انکل ٹکام سے چھڑی کے بغیر نہ چلاجائے دوسرے لفظوں میں اس کے ساتھ وہی ہو جو خود روس کے ساتھ افغانستان میں ہوا ہے بات بھی دل کو لگتی ہے تاہم موجودہ صورتحال ظاہری طور پر یہی ہے کہ گوربا چوف گربہ چوف بنے ہوئے ہیں اور بش اس گربہ کوہش کرتا ہے تو یہ اس کا شکار سے کوسوں دور بھاگ جاتی ہے اور ظاہر ہے یہ صورتحال امن عالم کے لیے مفید نہیں کہ امن عالم کے لیے ایک غنڈہ خطرناک اور دو غندے مفید ہے بس یہی وہ صورت حال ہے کہ میرا دل دنیا بھر کے امن پسند ممالک خصوصاً اسلامی ممالک سے ایک اپیل کرنے کو چاہ رہا ہے اور وہ اپیل یہ ہے کہ ان میں سے جو ممالک امریکی بلاک سے وابستہ ہیں وہ فوری طور پر اس بلاک کو خیر باد کہیں اور اپنی وابستگیاں روس کے ساتھ استوار کرلیں تاکہ اس ٹانک سے ان کی کھوئی ہوئی طاقت اورجوانی بحال ہوجائے اور یوں وہ اس نازک موقع پر عالم انسانیت کے مشترکہ دشمن اور دنیا کے امن کو برباد کرنے والے امریکہ کے مقابلے میں خم ٹھونک کر کھڑے ہوسکیں ان دو ظالموں کا اتحاد دنیا بھر کے انسانوں کے لیے مضر ہے لہٰذا ان میں نفاق پیدا کرنے کی یہی صورت ہے کہ نظریہ ضرورت کے تحت فی الوقت روس کو مضبوط کیا جائے تاکہ وہ امریکہ کے تھلے لگنے کی بجائے خود کو اس کے برابر سمجھے اور یوں اس کے نتیجے میں گلیاں ہوون سجنیاں وچوں میرزا یاد پھرلے والی موجودہ صورت حال کا خاتمہ ہوسکے اس ضمن میں ذاتی حیثیت سے اولیت کی سعادت حاصل کرنا چاہتا ہوں چنانچہ ایڈیٹر نوائے وقت سے میری درخواست ہے کہ وہ میرے اس کالم کو اشتہار سمجھ کر شائع کریں جس کا مضمون صرف اتنا ہے کہ روس بھائی جان! واپس گھر آجائیں آپ کو کچھ نہیں کہا جائے گا!

Your Thoughts and Comments