Roshan Khayaal

روشن خیال

بدھ اگست

Roshan Khayaal

میرے دوست چودھری علی محمد باتونی حجاموں سے بہت ڈرتے ہیں اور اس معاملے میں وہ حق بجا نب ہیں کیونکہ ان کا حجام جس کے خاندان میں سوپشت سے ”حجامی“یایوں کہیے”خلافت“ چلی آتی ہے اسی طرح ان کا مزاج شناس ہے جس طرح اُس کے باپ دادا چودھری صاحب کے آباؤ اجداد کے مزاج شناس تھے جہاں خط بناتے بناتے استرا شہ رگ کے قریب پہنچا‘ خلیفہ نے کہا۔


”چودھری بھینس کے لیے گھاس چاہئے“
چودھری بے چارہ اس حالت میں انکار کرنے سے تو رہا۔چہرے پر مسکراہٹ کے آثار پیدا کرنے کی ایک ناکام کوشش کرتے ہوئے جواب دیا!”لے جائیو“
خلیفہ نے پانی دیکھ کر پاؤں پسارے اور کہنے لگا۔
”چودھری اب کے دھان سے ہمیں کوئی حصہ نہیں ملا۔“
چودھری بولے”ملے گا ‘ضرور ملے گا“
غرض خلیفہ نے خط بناتے بناتے چودھری کو مونڈلیا۔

(جاری ہے)


میں باتونی حجاموں سے کبھی نہیں ڈرا تھا لیکن پارسال ایسا واقعہ پیش آیا جس نے ان کی ہیبت میرے دل پر بٹھا دی، شام کا وقت تھا اور میں ایک دعوت میں شریک ہونے جا رہا تھا رپن اسٹریٹ سے آگے بڑھا تو سامنے ایک حجام کی دکان نظر آئی جس پر ہئیر کٹنگ سیلون لکھا تھا۔ میں نے دو دن سے حجامت نہیں بنوائی تھی دکان دیکھ کر میرا بایاں ہاتھ بے اختیار ٹھوڑی پر پہنچ گیا اور میں نے جی میں کہا کہ لاؤ اس سے دو منٹ میں حجامت کیوں نہ بنوا لیں۔


مجھ سے پہلے دکان میں صرف ایک لمبے قد اور چوڑے ہاڑ کا آدمی بیٹھا خط بنوا رہا تھا۔ اس کے بڑے بڑے گلچھے اس طرح معلوم ہوتے تھے جیسے کنویں کی جگت پر آرپار دو کوے بیٹھے ہوں خلیفہ نے میری طرف دیکھے بغیر کہا”تشریف رکھیئے میں ابھی فارغ ہوا چاہتا ہوں۔“
یہ حجام چھوٹے قد اور گھٹے ہوئے جسم کا آدمی تھا ۔ میری طرف تو اس کی پشت تھی لیکن آئینے میں سے اس کا چہرہ صاف نظر آرہا تھا اس کے گال پچکے ہوئے اور آنکھیں اندر کی طرف دھنسی ہوئی تھیں خط بنانے سے فارغ ہو کر اس نے میری طرف توجہ کی اور کہنے لگا:
”فرمایئے آپ بال کٹوائیں گے یا صرف داڑھی منڈوانے کا ارادہ ہے؟“
میں نے جواب دیا ، بال تو پھر کبھی کٹواؤں گا اس وقت مجھے صرف داڑھی منڈوانا ہے!“
”آپ کی داڑھی کے بال ذرا سخت معلوم ہوتے ہیں اور میں ہمیشہ اصول فن کو مد نظر رکھتا ہوں اس لیے داڑھی منڈوانے میں آپ کو ذرا دیر تو ضرور لگے گی لیکن حجامت ایسی ہوگی کہ گنٹہ بھر کھونٹی ٹٹولتے رہے اور سراغ تک نہ ملے۔

اصل میں یہ فن ایسا آسان نہیں کہ جس کسی کو استرا پکڑنا آگیا حجام بن بیٹھا۔“
”میاں حجام کوئی کوئی ہوتا ہے ورنہ جو لوگ کسوت بغل میں دابے پھرتے ہیں اور حجام اور خلیفہ اور خدا جانے کیا کیا کہلاتے ہیں گھسیارے ہیں گھسیارے۔ دراصل گھسیارے اور حجام کھرپے اور استرے میں بڑا فرق ہے مگر اس فرق کو وہی لوگ سمجھتے ہیں جنہیں اللہ نے سوجھ بوجھ دی ہے۔

یہ کہہ کر اس نے اپنے نائب کو اشارہ کیا اور وہ برش لے کر میری طرف بڑھا حجام استرا تیز کرتے ہوئے بولا:
آپ کو معلوم ہے کہ ہمارے پچھواڑے جو ہوٹل ہے وہاں کل رات ایک خون ہو گیا۔ سنا ہے لکھنو کے ایک نوجوان سیٹھ کو کسی ظالم نے چھری بھونک کر مار ڈالا مقتول کی نوجوان بیوی اس کے ساتھ تھی وہ کہتی ہے کہ آدھی رات کو کسی نے ہمارے کمرے کا دروازہ کھٹکھٹایا میرا شوہر بارہ نکلا کوئی آدمی کمبل اوڑھے کھڑا تھا۔

کچھ دیر دونوں آہستہ آہستہ باتیں کرتے رہے پھر مجھے اپنے شوہر کی چیخ سنائی دی اور ساتھ ہی ایسا معلوم ہوا کہ چند لوگ بڑے زور سے بھاگ رہے ہیں۔
”میں نے خود لاش دیکھی ہے معلوم ہوتا ہے کہ ایک ہی وار میں آنتیں باہر نکل آیں اور مقتول تڑپ تڑپ کر ٹھنڈا ہو گیا اور عجیب بات یہ ہے کہ جس کرسی پر آپ بیٹھے ہیں ابھی دو دن ہوئے بچارا سیٹھ یہاں بیٹھا ہنس ہنس کر مجھ سے باتیں کر رہا تھا!“
یہ سن کر میرے سارے جسم میں کپکپی سی دوڑ گئی۔

حجام نے استرا میری کنپٹی پر رکھ دیا اور کہنے لگا”میں نے یہ بھی سنا ہے کہ جس عمارت میں یہ ہوٹل ہے اس میں بھوتوں کا بسیرا ہے۔ اکثر لوگوں نے رات کے وقت ایک سیاہ پوش کو پھرتے دیکھا ہے اس کا ایک ہاتھ کٹا ہوا ہے اور اس میں سے خون بہتا ہوا نظر آتا ہے۔ دوسرے ہاتھ میں تلوار ہے جسے گھماتا ہواوہ ہوٹل میں سے گزر تا چلا جاتا ہے۔“
یہ کہتے کہتے خلیفہ نے استرے کو گھمایا تو میں سہم گیا۔

تھوڑی دیر وہ چپ چاپ حجامت کرتا رہاپھر کہنے لگا:
”کبھی آپ نے سوچا کہ اگر کوئی حجام حجامت کرتے کرتے پاگل ہوجائے تو کیا ہو؟دیکھئے نا !اس وقت استرا آپ کے حلق پر ہے اگر میں چاہوں تو۔۔۔۔“یہ کہہ کر اس نے اس طرح میری طرف دیکھا کہ میرے منہ سے ہلکی سی چیخ نکل گئی۔ وہ داڑھی مونڈ چکا تو کہنے لگا“۔ اب ذرا آئینے میں اپنی صورت ملاحظہ فرمایئے اور میری ہنر مندی کی داد دیجئے“۔


”میں تو پہلے ہی بھرا بیٹھا تھا کڑک کر کہا:
”بھاڑ میں گئے تم اور تمہاری ہنر مندی “۔
وہ بولا ”کیا ہوا؟“
میں نے کہا”چے خوش!ابھی کچھ ہوا ہی نہیں تم سے یہ جنوں بھوتوں کی کہانیاں اور قتل و خون کے قصے سنانے کو کس نے کہا تھا:“
وہ کہنے لگا اچھا تو آپ میری باتیں سن کر پریشان ہو گئے حالانکہ میری ہنر مندی استرے کی باڑھ میں نہیں انہی باتوں میں ہے آپ نے اتنا تو سنا ہوگا کہ خوف و دہشت کے عالم میں انسان کے رونگٹے کھڑے ہو جاتے ہیں یہ کوئی دوراز کا ر خیال نہیں بلکہ اس میں بہت حد تک واقعیت ہے بلکہ میرا تو تجربہ ہے کہ جب انسان پر ہیبت و دہشت کی کیفیت طاری ہوتی ہے تو اس کے جسم کے تمام بالوں میں ایک تناؤ سا پیدا ہو جاتا ہے ایک حجام کے نقطئہ نظر سے یہ تناؤ بہت مفید ہے کیونکہ اس حالت میں وہ باآسانی حجامت بنا سکتا ہے۔

اگر میں آپ کو یہ قصے نہ سناتا تو آپ کی داڑھی کیسے مونڈ سکتا تھااور مونڈ بھی لیتا تو جگہ جگہ سے چھل جاتی۔ ذرا آئینے کو دیکھئے کہیں کوئی ہلکی سی خراش بھی تو نہیں۔ در حقیقت آپ کو آج تک کسی تعلیم یافتہ اور روشن خیال حجام سے واسطہ نہیں پڑا۔ بہر حال اگر آپ کو مری باتوں سے کسی قدر تکلیف ہوئی ہے تو اس کے لیے میں معافی کا خواستگار ہوں:۔

Your Thoughts and Comments