Sadiq Bhatti Janay Bashir Sahab Janay Ya

صادق بھٹی جانے․․․ بشیر صاب جانے یا ٹریفک پولیس جانے

پیر مارچ

Sadiq Bhatti Janay Bashir Sahab Janay Ya
حافظ محمد محسن:
میں مین گیٹ پر کھڑا تھا کہ ایک نہایت معزز مہذب شخصیت کامالک نوجوان جو بظاہر پڑھالکھا بھی محسوس ہوتا تھا‘ گیٹ سے گزرنے کہ ایک سکیورٹی گارڈ آگے بڑھا اور اس نے نوجوان کی جامہ تلاشی لی۔ ایسے لگ رہاتھا کہ نوجوان کسی اسلحہ ساز فیکٹری سے باہر نکلا ہے کہ جہاں یورینیم افزودہ ہوتی ہے مگر جب تفصیل معلوم کی توپتہ چلا کر فیکٹری میں سے خیمے بنتے ہیں۔

کیا فیکٹری میں کام کرنے والامزدور اپنی قمیض کے نیچے خیمہ چھپاکے لے جائے گا؟ معمول کے مطابق اس کے جسم کوجگہ جگہ سے ٹٹول کر محض اس کی تذلیل کرنا مقصود تھا؟ ہر فیکٹری سے باہر آنے والے کے ساتھ ایسا ہی سلوک ہورہا تھا شاید ہمارے ہاں اس جدید دور میں بھی فیکٹری مزدوروں کے ساتھ یہی سلوک روارکھا جاتا ہے؟ اسی دن میرا گزرایک معروف سڑک سے ہوا۔

(جاری ہے)

میں نے دیکھا اشارے پر ایک نوجوان رکا۔ ٹریفک پولیس کے ایک کانسٹیبل نے آگے بڑھ کراس کی موٹرسائیکل بندکردی اور چابی نکال لی(وہ بے چارہ پولیس والے کامنہ تکنے لگا) اور اس کو مجبور کردیا کہ وہ دونوں پاؤں سے گھسیٹتا دھکیلتا ہوا موٹر سائیکل سائیڈ پر لگادے تاکہ ” سرعام “ مذاکرات کاعمل جاری ہوسکے؟ آپ نے دونوں پاؤں سے موٹر سائیکل گھسیٹتے ہوئے نوجوان اور پھر ان کے پولیس کے ساتھ سرعام مذاکرات عمل اکثر دیکھا ہوگا۔

اسی شام میں نے کینٹ کی ایک دوکان پر ایسا ہی ایک منظر دیکھا۔ ایک دس گیارہ سال کا بچہ اپنی ماں کے ساتھ کھڑا کھسرپھسر کررہا تھا۔ ماں کو شاید سمجھ نہ آئی وہ چیخی۔ اونچی بکواس کرو؟ ماماآئس کریم “ یہ تین فظ بے چارے بچے کے منہ سے نکلنے پائے تھے کہ تڑاخ سے ایک تھپراس کے بچے کے منہ پر پڑا اور وہ رویا نہیں بلکہ پریشانی میں اور شرمندگی کے ساتھ ارد گرد کھڑے لوگوں کو بے چارگی کے عالم میں دیکھنے لگا۔

اسے اپنے بازار میں ماں کے ہاتھوں بے عزت ہونے کا بڑادکھ تھا۔ ماں پھر بولی الو کے پٹھے (میں نے اردگرد نظر دوڑائی مجھے الوکہیں نظر نہ آیا بس پٹھہ ہی بے عزت ہوتا ہوا دکھائی دے رہاتھا) پھر زبان کھولی تو الٹا لٹکادوں گی؟ میں دل ہی دل میں سوچنے لگا کہ شاید محترمہ پہلے پولیس میں رہ چکی ہیں؟ میں دوکان سے نکلتے ہوئے گیٹ سے گزررہاتھا کہ ایک بدحواس شخص سے میری مڈبیڑھ ہوگئی ایک تین سال کابچہ اس نے گود میں بمشکل اٹھارکھا تھا اور دوسرے موٹے سے بچے کو اس نے بازو سے پکڑا ہوا تھا۔

پتلوں ڈھیلی اور نیچے کو لٹک رہی تھی۔ وہ پتلوں کودونوں ہاتھوں سے کھینچ کراپنی اصلی جگہ پر پہنچانا چاہتھا تھا مگر دونوں بچوں نے اسے بری طرح جکڑ رکھا تھا۔ میں سمجھ یہ ہی الو ہے۔ کیونکہ اس عورت نے اسے دوکان کے اندر بچوں سمیت داخل ہوتے دیکھا تو قہر آلود نظروں سے گھورتے ہوئے غرائی”بشیر صاب․․․ آپ گاڑی کے پاس ٹھہریں۔ بس جائیں اور بشیر صاحب بے چارہ الٹے پاؤں باہر نکل گیا اس دوران میری نظر” بشیرصاب“ پرپڑی جس بچے کو انہوں نے گوداٹھا رکھا تھا اس نے ان کی ٹائی زور سے پکڑرکھی تھی بلکہ اسے اپنی طاقت کے مطابق کھینچ رہاتھا اور وہ بے چارے اس بچے کی طرف للچائی ہوئی نظروں دے دیکھ رہے تھے” اس دوران پارکنگ ایریا میں میں نے دیکھا بشیر بے چارہ اپنے بے چارے ڈرائیور سے دودو ہاتھ کررہاتھا“ انسان کہاں کہاں بے عزت ہوتا ہے کیا انسان اپنی خوش سے بے عزت ہوتا ہے یامعاشرتی پابندیاں یاحالات اسے بے عزت ہونے پر مجبور کردیتے ہیں ایک طرف مارنہیں پیار کاسلوگن چلا رہا ہے۔

یہ حکومتی فیصلہ ہے یقینا اس تین لفظی سلوگن کاصرف اور صرف یہ مقصد ہے کہ بچوں کی اسکولوں میں عزت نفس مجروح نہ ہوجبکہ پولیس والا توسرکاری ملازم ہے اور موٹرسائیکل والا بھی توپاکستان کاعزت دار شہری ہے ( آپ نے کیا کہا․․․․ بشیر صاب بھی عزت دار خاوند ہے․․․ ضروری نہیں کہ میری رائے اس سلسلہ میں بھی آپ سے ملتی ہوکیونکہ میں بھی تو شادی شدہ ہوں اور ہر شادی شدہ انسان کے اندر ایک کسی نہ کونے میں کوئی نہ کوئی بشیر صاب ضرور چھپا بیٹھا ہوتاہے)
فیکٹری مزدور بھی پاکستان کاعزت دار شہری ہے اس کی ہرروزفیکٹری سے نکلتے ہوئے جامہ تلاشی لی جاتی ہے اور کوب ٹٹول ٹٹول کرلی جاتی ہے۔

ممکن ہے اکادکا چوری چکاری کا کسی فیکٹری میں واقع ہوا ہوا جس کو جواز بناتے ہوئے ہر فیکٹری میں انتظامیہ نے جامہ تلاشی کوخود ہی قانون کادرجہ دے رکھا ہو۔ جس فیکٹری میں میں نے یہ منظر دیکھا اس کے اثاثے کم ازکم بیس کروڑروپے سے زائد کے ہونگے۔ کیابہتر نہیں کہ وہ فیکٹری مین گیٹ پر سکریننگ والی مشین لگادے کہ جب مزدور بلکہ سبھی ملازمین فیکٹری میں داخل ہوں تو سکریننگ ہوجائے اور کوئی اسلحہ وغیرہ لے کر فیکٹری میں داخل نہ ہوسکے اس سے یقینا مزدوروں کی عزت نفس مجروح ہونے بچ جائیگی۔

(اگر فیکٹری مالک چاہے تو) بات کہاں سے شروع ہوئی اور گھوم پھر کرکدھرسے کہاں نکل گئی حالانکہ جب میں نے یہ تحریریکھنا شروع کی توایک دن میں دیکھنے والے چاروں واقعات کہ جن میں مختلف نوع کے انسانوں کی عزت نفس میں نے اپنی آنکھوں سے مجروح ہوتے دیکھی بیان کرنا مطلوب نہ تھا میں تو ایک خبرپر تبصرہ کرنا چاہتاتھا جس میں اخبارات میں چھپنے والا اس عورت کابیان تھا کہ جنوبی پنجاب کے ایک شہر میں (نہ جانے کیوں) صادق بھٹی نامی ایک شوہر نے اپنی بیوی کی ٹانگ کاٹ ڈالی۔

صادق بھٹی کی ٹانگ اٹھائے تصویر بھی اخبارات میں شائع ہوئی تھی۔ اب عورت نے کہا ہے کہ ” ٹانگ توشوہر نے کاٹ ڈالی۔ تکلیف بھی ہوئی۔ بے عزتی بھی ہوئی اور اب ایک ٹانگ کے بغیر بیسا کھیوں کے سہارے باقی زندگی گزارنے پر مجبور بھی ہوں مگر رہوں گی میں صادق بھٹی ہی کے ساتھ؟ اس تیس سالہ رفاقت کوکیسے بھول جاؤں؟ یہ سب کیاہے؟ میں اس سلسلہ میں اپنی رائے دینے سے قاصر ہوں۔

یہ ہرایک کااپنا اپنا مسئلہ ہے کون کیسے خوش اور کس حال میں خوش ہے․․․ آپ خود ہی غور کریں کیونکہ میں بہت مصروف آدمی ہوں صبح نوبجے سے تین بجے تک دفتر میں مکھیاں مارتے مارتے میں تھک گیا ہوں اس لئے اب” بہت ساکھانا“ کھانے کے بعد مجھ پر غنودگی طاری ہوجائیگی اور میں تین گھنٹے سویا رہوں گا․․․․ یہ آپ جانیں․․․․ بشیر صاحب جانے․․․․یا پھر صادق بھٹی کی بیوی جانے یا اس کی ایک ٹانگ کاٹ ڈالنے والا صادق بھٹی․․․․؟ رہی بات ٹریفک پولیس والوں کی تو اس سلسلہ میں تو میں بالکل ہی بے بس ہوں کیونکہ میں نے بھی موٹر سائیکل پر بیٹھ کر شہر کے سارے چوکوں میں سے دن میں کئی کئی بار گزرتا ہوتا ہے؟ ٹریفک پولیس سے بچتے پچاتے چھپے چھپاتے․․․․․ کہ یہی وقت کاتقاضا ہے اور ہر شریف شہری کی ضرورت بھی․․․․؟

Your Thoughts and Comments