Sainkron Saal Pehlay So Saal Baad

سینکڑوں سال پہلے․․․․․ سوسال بعد

جمعرات اپریل

Sainkron Saal Pehlay So Saal Baad
حافظ مظفر محسن:
ہمارے بچپن میں ہمیں تاریخ کی کتاب میں پڑھایاجاتا تھا۔
سکنداعظم یونان کی ایک چھوٹی سی ریاست مقددنیا میں پیداہوا اس نے چھوٹی سی عمر میں دنیا کو فتح کرنے کا عزم کیا اور یہ عظیم فاتح 34سال کی عمرمیں تلمبہ کے قلعہ میں زخمی ہو کرمخدوم پورکے قریب ابدی نیند سوگیا۔
ہم پوری کلاس کے لڑے باآواز بلند اپنا یہ سبق یاد کرتے ” رٹا لگاتے اور صاف ظاہر ہے پندرہ بیس منٹ کے رٹے کے بعد ہمیں یہ سبق ازبر ہوجاتا پھر ماسٹر صاحب کلاس میں تشریف لاتے اور ہمیں اپنے مخصوص اندازمیں چھڑیاں کلاس کے دروازے پر زور زور سے مارتے ہوئے نہایت غصے میں کہتے۔

ابھی تم لوگوں نے کیاشور مچارکھا تھا․․․․․ سکندراعظم کے ہاتھیوں والا واقعہ سناتے اورتلمبہ کے قریب اس عظیم فاتح کی زندگی کے آخری لمحات کی دردبھری داستان سناتے اور ہم سب اداس اداس واپس گھروں کو چل پڑتے کیونکہ یہ آخری پیریڈہوتا تھا۔

(جاری ہے)

ہمیں اس کی فتوحات سے سروکارنہ ہوت34سال کی عمرمیں وفات پردکھ ہوتا۔ پھر ہم کالج میں گئے جہاں ہمیں جی الانہ کی کتاب پڑھائی جاتی جس میں انہوں نے قائداعظم محمد علی جناح  کے بارے میں انگریزی زبان میں نہایت عالیٰ شان انداز اپنایا۔

مگر ہم دوست وہاں بھی اکٹھے مل کر پڑھتے اور یوں یہ بات ہمارے دلوں میں نقش ہوگئی۔ قائداعظم محمد علی جناح کراچی کے ایک تاجر پونجاجناح کے ہاں پیدا ہوئے محلے کے لڑکے ایسی کھیلیں کھیلتے کہ جن سے ہاتھ اور کپڑے گندے ہوتے تھے۔ محمد علی جناح رحمتہ اللہ علیہ نے بچوں کو کہا کہ آؤ ہم کرکٹ کھیلیں۔ بانی پاکستان قائداعظم رحمتہ اللہ علیہ نے قانون کی ڈگری حاصل کی اور بمبئی میں وکالت کاپیشہ اختیا کرکے بہت نام کمایا۔


اس جی الانہ کی انگریز تحریر کوہم نے سینے میں بسالیا اور یہ حرف بحرف آج بھی ہمارے سینے میں محفوظ ہے ایک توتحریربڑی دلنشین تھی دوسری بات یہ کہ ہمیں جان سے پیارے قائداعظم رحمتہ اللہ کے بارے میں تھی ایسے ہی ماہ وسال گزرہے ہیں لوگ کچے گھروندوں میں رہتے تھے‘ مکئی کی روٹی اورساگ کھا کر زندگی بسرکرتے تھے اور کچی لسی پی کردل کو ٹھنڈک پہنچاتے تھے پھر دنیا میں بڑی بڑی بلڈنگیں بننے لگیں۔

سوسو منزلہ عمارتیں تعمیر ہونے لگیں۔لوگوں نے ساگ مکئی کی روٹی‘ کچی لسی سے تعلق تقریباََ ختم کرلیا ( برڈفلونے ویسے پھر سے واپسی پر مجبور کردیا ہے) کلرک دفتروں سے فارغ ہونے لگے کیونکہ کمپیوٹر نے کئی کئی بندوں کاکام سنبھال لیاہے ہزاروں توپیس اورٹینک جوکام کرتے تھے وہ ایک ایٹم بم نے کرنا شروع کردیا۔ بلکہ اب تو توپیں اور ٹینک کھڑے ہی رہ جاتے ہیں اور صرف ایٹم بم کاڈراا ہی سارا کام کردینے کیلئے کافی ہے۔


پہلے زمانے میں ہم گھر میں ناشتہ رات کی بچی ہوئی روٹی جیسے اماں پانی میں بگھوکرگرم کر دیاکرتی تھیں رات کے بچے سالن کے ساتھ کھالیا کرتے تھے۔ یہ بڑی مزیدارڈش ہوتی تھی۔ اس وقت ہم پیالی میں دوکان سے ایک پاؤدہی بھی لے کرآتے تھے․․․․ آج کل ہم ناشتہ میں ڈیڑھ سلائس اور آدھاکپ چائے پیتے ہیں مگر سینے میں پھر بھی جلن سی محسوس ہوتی ہے۔

پہلے سیاستدان ہر موڑ پرقوم کو ساتھ لے کرچلتے تھے اور راہنمائی کرتے تھے۔اب سیاست دان کہتے ہیں آپ کے ووٹوں کی کوئی خاص ضرورت نہیں۔ دولت ہے توسب مل سکتا ہے پہلے لوگ بیٹیوں کومناسب قسم کا جہیز دے کررخصت کردیاکرتے تھے۔ اب لوگ جہیز یں ایک بحری جہاز اور دوہلی کاپٹرتک مانگنے کاسوچ رہے ہیں۔ پہلے دعوت ولیمہ میں نمکین چاول اور میٹھے چاول کھلائے جاتے تھے۔

اب لوگ دعوت ولیمہ میں کم ازکم پچاس ڈشز کھانا چاہتے ہیں جیسے آخری ولیمہ ہواس لئے عدالت عالیہ کواپنا فرض اداکرنا پڑا۔ اور ولیمہ کی روڑی بند․․․․․ ہزار روپیہ دولہا کو سلامی دو‘ ایک لڈوکھاؤاور گھر کوجاؤ۔
یہ دن بھی نہیں رہیں گے۔ یہ وقت بھی گزرجائے گا اور کئی سال بعد اسکولوں کالجوں میں بچے بذریعہ کمپیوٹر پڑھیں گے اوررٹالگائیں گے کیونکہ” جہاں مارنہیں پیار” رائج ہوچکا ہے وہیں امتحان والا سسٹم بھی امید ہے ختم ہوجائے گا۔

بچے مل ک پڑھیں گے اور غور کریں گے ان کے سامنے یہ تحریر ہوگی ہے۔
ہمارے پیارے ملک پاکستان میں سوسال پہلے ڈاکٹر عبدالقدیرخان ہوتے تھے‘ ایک سائنسدان جنہوں نے پاکستان سے بہت پیا کیاتھا۔ ذوالفقار علی بھٹونے انہیں پاکستان بلوایا تھ‘ ضیاء الحق نے اپابنایا تھا‘ بینظیر بھٹونے احترام سے بلایاتھا۔ میاں نواز شریف نے آنکھوں پہ سجایاتھا‘ ڈاکٹرعبدالقدیر خان نے ایٹم بم بنایاتھا اور قوم نے ہرسال”یوم تکبیر“ منایاتھا۔ مگر اس کے بعد پتہ نہیں وہ کہاں ہیں۔
بچے رٹا لگارہے ہونگے‘ آخر پیریڈ ہوگا‘ گھنٹی بجے گی اور بچے بھاگم بھاگ اپنے گھروں کو روانہ ہوجائینگے۔

Your Thoughts and Comments