Shair Likhwa Lijye Ya Panchar Lgawa Lijiye

شعر لکھوالیجیے یا پنکچر لگوالیجیے!

منگل جنوری

Shair Likhwa Lijye Ya Panchar Lgawa Lijiye
ابنِ انشاء:
لاہور لاہور میں اس کے قائل ہم اب کے لاہور جاکر ہوئے ادب اور کلچر اس کی گھٹی میں پڑے ہیں ہم ایبٹ روڈسے داہنے ہاتھ منٹگمری روڈ کو مڑے ہی تھے کہ غالب آٹوز کا بورڈ نظر آیا معلوم ہوا وہاں موٹریں اور کاریں مرمت کرنے والے بھی دیوان غالب سے فال لیتے ہیں تھوڑی دور آگے میر ہیئر کٹنگ سیلون تھا ہم نے ٹھنک کر سنا تومعلوم ہوا کہ استاد ایک گاہک کہ شہ رگ پر استرا رکھے اسے میر تقی میر کے ابیات سنار ہے ہیں اور باقی لوگ آہیں بھر رہے ہیں اور آگے گئے تو مصحفی انجینئرنگ ورکس نظر آیا جہاں ٹیوب ویل کے پرزے بنتے ہیں اوربارعایت نرخوں پر سپلائی کیے جاتے ہیں ناسخ فرنیچر اسٹور اور آتش لانڈری اور حالی سویٹ مارٹ بھی نظر آئے حتیٰ کہ گڈیوں کی ایک دکان دیکھی جس پر شائقین کا ہجوم تھا معلوم ہوا کہ یہ شبلی نغمانی پتنگ اسٹور ہے اور مالک اس کے ادیب فاضل پاس ہیں ادبی ذوق کی یہ ریل پیل کچھ اب کے نظرآئی ورنہ اس سے پہلے تو یہی ہوتا تھا کہ مزنگ میں ایک صاحب نے دکان کھولی اور اس کا نام رکھا ”حاجی دی ہٹی“ چند دن بعد اس کے سامنے دوسری دکان کھل گئی وہاں چارپائی کا بان بکتا تھا نام تھا ”حاجی دے ابّے دی ہٹی“ایک اور بات جو مشاہدہ میں آئی وہ یہ تھی کہ دکان ایک ہوتی ہے لیکن اس پر کاروبار کئی کئی ہوتے ہیں مثلاً انارکلی میں ایک دکان ہے جس کا عنوان ہے مرزا عینکوں والے اور دانتوں والے پہلے ہم کو تعجب ہوا کہ یہ کیا پہچان کرانے کا طریقہ ہے عینک تو ہم بھی لگاتے ہیں اور دانت خدا کے فضل سے ہمارے بھی سلامت ہیں اس میں مرزا صاحب کی تشخیص کیا ہے پتا چلا کہ نہیں نہ مرزا صاحب عینک لگاتے ہیں نہ ان کے منہ میں دانت ہے یہ تو ان کا کاروبار ہے جس کا جی چاہے ان سے عینک لگوالے جس کا جی چاہے دانت اکھڑوالے یا بنوالے آگے ایک اسٹور نظر آیاجہاں ہر قسم کے عطریات اور گھوڑوں کے لیے چارہ ملتا ہے اکبری منڈی میں گڑ شکر کے ایک تاجر سے ملاقات ہوئی جو فالتو وقت میں اصطلاحی فلمیں بناتے ہیں میکلوڈ روڈ پر ایک شخص کو دیکھا کہ سائیکلوں کے پنکچر لگاتا ہے لیکن اس کے بورڈ پر جہاں ہر دلعزیزسائیکل ورکس لکھا ہے وہیں ایک کونے میں شاعری کالج بھی مرقوم ہے ہم جواز راہ تجسس ان کے قریب رکے تو بولا فرمائیے کیا خدمت کروں سائیکل کو پنکچر لگوانا ہے یا مشاعرے کے لیے غزل لکھوانی ہے پنکچر کا ریٹ چار آنے ہے اور غزل کا ریٹ تین آنے فی شعر ہم نے دریافت کیا کہ پنکچر کا ایک آنا زیادہ کیوں ہے شعر کے برابر کیوں نہیں فرمایا پنکچر میں تو ولایتی سیلوشن استعمال ہوتا ہے جو خاصا مہنگا ہوتا ہے شعر لکھنے میں کون سا مسالا لگتا ہے راستہ بہر صورت ندیم صاحب ہی کے کمرے میں سے جاتا تھا لوگ پہلے آکر انہی کے پاس بیٹھتے وقفے وقفے سے ندیم صاحب اعلان کردیتے کہ جو حضرات کھانسی زکام وغیرہ کے سلسلے میں آئے ہیں دوسرے کمرے میں تشریف لے جائیں ان کے پاس فقط ادب کے مریض رہ جاتے ایک روز کی بات ہے کہ بہت سے لوگ تو یہ اعلان سن کر اندر چلے گئے ایک صاحب اجنبی صورت بیٹھے رہ گئے قاسمی صاحب نے فرمایا آپ شاید کوئی غزل یا نظم لے کر آئے ہیں اس پر چے میں تو گنجائش نہیں اگلے پرچے کے لیے غور کریں اگر آپ کا تب ہیں تو نمونہ چھوڑجائیے اور اگرایجنٹ ہے تو بتائیے آپ کے شہر میں کتنے فنون کی کھپت ہوسکتی ہے اور اگر آپ مالک مکان کی طرف سے کرایہ وصول کرنے آئے ہیں تو ایک مہینے کی مہلت اور دیجیے قاسمی صاحب نے اپنی دانست میں اس شخص کی منطقی ناکہ بندی کردی تھی لیکن وہ مرد شریف سنی ان سنی کرکے ان کے کان کے پاس منہ لاکر بولا حکیم صاحب دوروز سے دست آرہے ہیں ان کے بند کرنے کی کوئی ترکیب کیجیے۔

(جاری ہے)

ادھر حکیم حبیب اشعر صاحب کو شکایت ہے کہ ندیم صاحب اپنے مریضوں کو میرے پاس بھیجتے ہیں فرماتے ہیں کہ ایک روز ایک بزرگ تشریف لائے میں نے ان کی نبض پر ہاتھ رکھا اور کہا زبان دکھائیے اس نے کہا جناب میری زبان پر آپ حرف نہیں رکھ سکتے میرے گھرانے کی زبان سے ایک دنیا سند لیتی ہے یہ غزل میں لایا ہو ں آپ خود ہی اندازہ کرلیں گے۔“حکیم صاحب نے کہاغزل کی بات تو مجھے معلوم نہیں لیکن آپ کو قبض معلوم ہوتی ہے یہ نسخہ لے جائیے نہارمنہ طبا شیر کے ساتھ استعمال کیجیے انشاء اللہ صحت ہوگی حکیم صاحب کا کہنا ہے کہ شفا تو اللہ کے ہاتھ میں ہے لیکن اس مریض کو واقعی صحت ہوگئی اس کے بعد اس نے کوئی غزل نہیں لکھی۔

بھائی دروازے کے سامنے سے گزریے تو ایک جگہ پہلوان لسی اسٹورج و بک سیلرز کا بورڈ نظر آئے گا ہم نے پہلوان صاحب سے ملاقات کی ا نہوں نے لسی کا یک قد آدم گلاس پیش کرتے ہوئے بیان کیا کہ لسی بناناان کا خاندانی پیشہ ہے اور کتابیں اس لیے بیچتے ہیں کہ خود بھی تصنیف و تالیف کے شوقین ہیں انہوں نے ہمیں ایک پمفلٹ بھی دیا فوائد لسی اس کا نام ہے اور دیدہ زیب چھپا ہے معلوم ہواوہ لسی گزٹ کے نام سے ایک ماہوار رسالہ بھی جاری کرنا چاہتے ہیں اور ڈیکلریشن کے لیے درخواست دے رکھی ہے ہم نے فوائد لسی کا سرسری مطالعہ کرتے ہوئے کہا کہ آپ نے بعض اہم نکات چھوڑدیے ہیں ہمہ تن توجہ ہوکر بولے فرماہ ئیے ہم نے کہا حکما کا قول ہے کہ لسی پینے والے کے گھر میں کبھی چوری نہیں ہوسکتی لسی پینے والے کو کتا نہیں کاٹتا اورلسی پینے والا کبھی بڈھا نہیں ہوتا ہے ہمہ تن اشتیاق ہوکر بولے اس اجمال کی تفصیل ارشاد کیجیے ہم نے جان کی امان پاکر عرض کیا کہ لسی پینے والوں کو مسلسل کھانستے دیکھا ہے سو جس گھر میں ایک بھی آدمی رات بھر کھانستا ہے وہ چور کے کام کا نہیں پھریہ کہ بادی کی وجہ سے چند دن میں اس کا بدن جڑ جاتا ہے اور ہاتھوں میں رعشہ آجاتا ہے لاچار اسے چلنے کے لیے ہاتھ میں چھڑی یا لاٹھی لینی پڑتی ہے آپ جانتے ہیں کتا لاٹھی سے ڈرتا ہے اب استاد نے پوچھا کہ بڈھا کیوں نہیں ہوتا ہم نے کہا لسہ پینے والا اس عمر کو پہنچ ہی نہیں سکتا جہاں بڑھاپا شروع ہوجاتا ہے اس سے بہت پہلے خالق حقیقی سے جا ملتا ہے۔

Your Thoughts and Comments