Sood Be Sood

سود بے سود

پیر اگست

Sood Be Sood
علی رضا احمد:
ایک بات پر سب متفق ہیں کہ سود سے بڑی برائی لعنت اور روگ دنیا میں کوئی نہیں اگرسود پر سود یہودی کو بھی دینا پڑے تو وہ بھی اس کو حرام قرار دے گا۔ پوٹاشیم سائی نائیڈکی طرح اس کاذائقہ بھی کوئی نہیں جانتا۔ اس کانقصان اس وقت پتا چلتا ہے جب یہ اپنے پنجے گاڑ چکا ہوتا ہے۔ اگر آپ کسی سے تلوار ادھار لیتے ہیں تو اس کے بدلے آپ کو خون کاسودا اداکرنا پڑے گا‘ یاآپ نے کسی بے بندرقرض لیا ہوتو آپ کو بن مانس واپس کرنا پڑے گا۔

اگرآپ اس قرض کو چکانے میں مزید تاخیر کر بیٹھے تو کسی گوریلے کاانتظام کرنا بھی لازم ہوسکتا ہے۔
سود کی بربادی کے بارے میں مزید عرض ہے کہ اگرآپ نے کسی سے ایک عام شاعر کو قرض کی صورت میں لیا ہوتو ہوسکتا ہے بعد میں آپ کو غالب یامیرواپس کرنا پڑجائے۔

(جاری ہے)


سود کے بل بوتے پر پلنے بڑھنے والی ہرشے بلکہ ہر انسان اندر سے کھوکھلاہوتا ہے وہ ورلڈ ٹریڈ سنٹر کی عمارت کی طرح ڈبکی کھاسکتا ہے اور سود کا سوداگر ہمیشہ خوار ہی رہتا ہے کیونکہ سود کبھی سود مند نہیں ہوا کرتا۔


یہودی کہاکرتے ہیں کہ اگر کوئی ہم سے سال دوسال یااس سے زیادہ کے لئے بکری ادھار مانگے تو ہم اس کی یہ خواہش بڑے شوق سے پوری کردیتے ہیں کیونکہ ہمیں یہ معلوم ہوتا ہے کہ وہ نہ صرف ہماری بکری کاخیال رکھے گا بلکہ ہم اس بکری کو چارہ ڈالنے اور اس کی حفاظت سے بھچ جائیں گے لیکن بکری ادھار لینے والا غریب ہمارے جال میں پوری طرح پھنس جائے گا حالانکہ وہ طے شدہ عرصے تک اس کے دودھ سے لطف اندوز بھی ہوتا رہے گا‘ لیکن جب وہ ہماری بکری کو واپس کرے گا تو اسے یقینا بکری کے ساتھ اس کے آٹھ دس بچے بھی واپس کرنا ہوں گے۔


اگر یہی بکری ادھار لینے والا” بزدھندہ“ بکری کی واپسی کی تاریخ کسی وجہ سے ری شیڈول کروائے گاتو اس بکری کے بچوں کے بچوں کی ایک سود در سود فوج بھی ہمار ے ہاتھ لگے گی۔ یہودی سے مستعارلی گئی بکری کا دودھ یقینا بڑے دل گردے اور ایک بڑے معدے اور منی کاکام ہے۔
یہودیوں نے اپنی اس بکری کا دودھ پینے کی عادت نہ جانے کسے کسے ڈال دی ہے فقط دود گھونٹ دودھ کے لئے ” بزخواہ“ کونہ جانے کیاکیا محنت کرنا پڑتی ہے اور وہ طے شدہ عرصے کے مطابق ادھار دھندہ سے بکری کاایک آسان معاہدہ طے کرکے قوموں اور ملکوں کو بیوقوف اور مقروض بنارہے ہیں۔

پھر کئی قرض تلے دبے ہوئے قرض خواہ یعنی ” بزدھندہ “ تو یہاں تک کہنے پر مجبور ہوجاتے ہیں کہ ” بزخواہ میں نے کون ساتیری بکری کوہاتھ لگایا ہے جو تواپنے قرضے کی بکری کے لئے اتنا چلارہاہے۔
قرضہ بکری اور سود کی بھی کئی قسمیں ہیں۔ ان میں سے ایک پہاڑی بکری کہلاتی ہے جوسائز میں تو سب سے چھوٹی ہوتی ہے اور اس کا دودھ بھی باقی دوسری اقسام کی بکریوں سے نسبتاََ کم ہوتا ہے لیکن یہ بچے بہت دیتی ہے۔

کچھ ہی عرصے میں اس کے سود درسود بچوں کی تعداد میں حیران کن اضافہ ہوتا ہے۔ جس کو پالنا بھی بزدھندہ یعنی بکری ادھار لینے والے کے لئے مشکل ہوجاتا ہے۔ ایک اور نسل کی بکری جسے ہم دیسی بکری کہتے ہیں وہ سائز میں سب سے بڑی بکری کہلاتی ہے وہ دودھ بھی وافر دیاکرتی ہے لیکن اس کے بچے نسبتاََ کم ہوتے ہیں۔ کسی خوش نصیب کے لئے یہودی کی طرف سے لیاگیا یہ سب سے اہم قرضہ ہوتا ہے۔

چونکہ یہ دودھ زیادہ دیتی ہے اس لئے اس کا سودی ریٹ سب سے زیادہ ہے لیکن یہودی اپنا کام نکلانے کے لئے اس پر شرح سودیامدت کیلئے کمی بیشی بھی کردیتے ہیں کئی دفعہ تو وہ اس بکری کا بطور امداد بھی دے دیتے ہیں‘ لیکن اس کے لئے بزخواہ کو تگڑے ہو کر بزدھندہ یعنی یہودی سے وفا کرنا پڑتی ہے اور یہودی کو صرف اپنے Intrest سے ہی انٹرسٹ ہوتا ہے۔ آخر بعد میں پتا چلتا ہے کہ وہ بکری کی بجائے سورنی تھی کیونکہ سوداور سئور میں معمولی فرق ہے۔


ورلڈ ٹریڈ سنٹر اپنے ساتھ بکریوں کے بھی ان گنت ریکارڈ لے کرہمیشہ کے لئے Write off یعنی معافی دے چکا ہے۔ یہ وہ New Yark شہر ہے کہ جسے یہودی نیو یارک کی بجائے Jew Yark کہتے ہیں۔
میراایک دوست سعود عرف سودا کہتا ہے کہ یہودیوں نے قوموں کے ساتھ روپے کی ” ر“ لگا کر انہیں رقوموں کے چکر میں ڈال رکھا ہے اور اپنے سود سے انہیں سود خود سودائی بنادیا ہے۔

ایک چیز ثابت شدہ ہے کہ سود یقینی اورحمتی طور پر بے سود اور بے سواد ہے۔ اس کا استعمال میں لاکر کون اپنے خدا اور رسول ﷺ سے جنگ کر سکے گا۔ آپ نے محسوس کیاہوگا کہ ہمارے ملک کے وہ ادارے جو اسی سودبے سود کے بل بوتے پرپروان چڑھ رہے تھے وہ بھی ایک ایک کرکے ورلڈ ٹریڈ سنٹر بن رہے ہیں۔ اب خطرہ ہمارے ملک کی ایک بڑی بینک عمارت کولگاہوا ہے۔ لہٰذا ابھی وقت ہے کہ اس عمارت کو کسی حلال رسی سے باندھ لیاجائے ورنہ وہ بھی ورلڈ ٹریڈ سنٹر ثابت ہوسکتی ہے۔

Your Thoughts and Comments