Sufaid Posho Ky Liye Qeemtie Mashwre

سفید پوشوں کے لئے قیمتی مشورے

عطاالحق قاسمی جمعرات فروری

Sufaid Posho Ky Liye Qeemtie Mashwre

لیکن سفید پوش بھی ان مشوروں کی برکات سے بہرحال مستفید ہوئے چنانچہ آج روٹی کپڑا اور مکان میں سے جو چیز چاہیں وہ رقم ادا کرکے بازار سے خرید سکتے ہیں تاہم روٹی کپڑا اور مکان اور دیگر ضروریات زندگی کے سلسلے میں یہ سہولتیں صرف سفید پوشوں ہی کو مہیا نہیں کی گئیںبلکہ اس ضمن میں ان اشیاءکے اجارہ داروں کو بھی برابر کے مواقع فراہم کیے گئے تاکہ وہ سفید پوشوں سے ان اشیاءکے منہ کے مانگے دام وصول کرسکیں چنانچہ اس انقلابی سکیم پر عمل پیرا ہونے سے آج شیر اور بکری ایک گھاٹ پر پانی پیتے نظر آتے ہیں اور یوں نوشیرواں عادل کے دور کی یاد تازہ ہوگئی ہے سفید پوشوں کی فلاح و بہبود کا یہ کام صرف سرکاری سطح ہی پر نہیں ہوا بلکہ بعض نجی سیکڑوں میں بھی اسی نوع کے منصوبوں پر کام جاری ہے چنانچہ وطن عزیز کے مختلف حصوں میں اس نوع کے بھی خواہ سفید پوشوں کو یہ مشورے دیتے ہیں کہ پنجابی سندھی بلوچی اورپٹھان مسلمان غریب عوام مل کر اپنے حقوق کے لیے آواز نہ اٹھائیں بلکہ زبان اور نسل کے اختلاف پر وہ ایک دوسرے کے خلاف صف آرا ہوجائیں کیونکہ اس میں ان کی بھلائی ہے اس نوع کے مشورے بھی ابھی تک ان مشورے دینے والوں کے لئے بہت مفید ثابت ہوئے ہیں چنانچہ مشرقی پاکستان کو انہوں نے بنگلہ دیش بنالیا اور خود وہاں حاکم بن کربیٹھ گئے ہیں تاہم بنگالی سفید پوشوں کو یہاں بھی کچھ نہ کچھ فائدہ ضرور ہوا ہے کیونکہ اب انہیں پنجابی نہیں لوٹتا بنگلی لوٹتا ہے یا بھارت کا ہندولوٹتا ہے ہم یہ سطور یہاںتک لکھ چکے تھے کہ اچانک خیال آیا کہ ہم کن چکروں میں پڑگئے ہیں ہمیں ادار یہ نہیں فکا ہی کالم لکھنا ہے اورفکا ہی کالم نگار اخباری بھانڈ ہوتا ہے جس کا کام لوگوں کو ان کے مسائل یا ددلانا نہیں بلکہ اپنی مخولیا باتوںسے یہ مسائل بھلانا ہوتے ہیں ایسا کرنے پر قیمتی سوٹوں میں ملبوس عوام نہ صرف یہ کہ خوش ہوتے ہیں بلکہ جی بھر کر ویلیں بھی دیتے ہیں اورظاہر ہے دو چار لتر کھاکر بھاری رقوم پرمشتمل ویلیں وصول کرنا کوئی گھاٹے کا سودا نہیں سومولا خوش رکھے ہم سفید پوشوں کو اب ایسے مشورے دینے چلے ہیں جن سے کوئی مسئلہ حل ہو نہ ہو بہر حال کوئی مسئلہ پیدا نہ ہوگا چنانچہ ان کے لئے ہماری پہلی تجویز یہ ہے کہ اگر وہ اپنے معاشی حالات کی بنا پر دوپہر کا کھانا ماسی برکتے کے تندور سے کھاتے ہیں توا نہیں یہ سلسلہ جاری رکھنا چاہیے البتہ اپنا معاشرتی بھرم قائم رکھنے کے لیے ضروری ہے کہ وہ ماسی برکتے کے تندور سے کھانا کھاکر ہوٹل انٹر کانٹینٹل کے شالیمار روم کے سامنے جاکھڑے ہوں اور وہاں کم از کم آدھ گھنٹے تک خلال کرتے رہیں اسی طرح کی اور بہت سی تجاویز ہمارے ذہن میں ہیں جن پر عمل پیرا ہونے سے غریب عوام سینہ تان کر اس دھرتی پر چل سکتے ہیں لیکن ہمیں خدشہ ہے کہ ہماری کسی تجویز پر بھی ان کی طرف سے عمل درآمد ممکن نہیں ہوگا چنانچہ ہم بیان کردہ ایک تجویز اور دیگر ناگفتگی تجاویز کو واپس لیتے ہوئے صرف یہ تجویز ان کے سامنے رکھتے ہیں کہ تمام سفید پوش سفید لباس پہننا چھوڑدیں اور اس کی جگہ سیاہ لباس پہننا شروع کردیں یہ لباس کسی احتجاج کے طور پر نہیں ہوگا بلکہ اس سے مقصود یہ ہے کہ لوگ انہیں سفید پوش کہنا چھوڑدیں جس سے ان کے معاشرتی وقار میں خاصا اضافہ ہوگا نیز اس سے پوری دنیا میں پاکستان کا وقار بھی بلند ہوگا کیونکہ دنیا میں ہمیں یہ کہنے کا موقع ملے گا کہ پاکستان میں ایک بھی سفید پوش نہیں مولا خوش رکھے ہم نے اپنا کام دکھایا ہے اب کچھ دوائیاں بھی ملیں ہم نے اگر نرے ”لتر“کھانے ہوتے تو تھانے چلے جاتے یہ مخولیا باتیں کرنے کی کیا ضرورت تھی؟

Your Thoughts and Comments