Super Model Ki Diary

سپر ماڈل کی ڈائری

ہفتہ مئی

Super Model Ki Diary
30جولائی 1990
میری پیدائش کا دن اماں کو دائی نے بتایا تھا کہ اس دفعہ تمہارے بیٹا پیدا ہو گا ۔اماں اس بات پر بہت افسردہ تھیں کیوں ،یہ مجھے پتہ نہیں ۔ابا بھی دائی کی اس بات پر خوش نہیں تھے،جب میں رات کے اڑھائی بجے پیدا ہوئی تو ابا اور اماں کی دیدنی خوشی تھی جبکہ دائی کا منہ اترا ہوا تھا لیکن جب ابا نے اس کو پیسوں سے مالا مال کر دیا تو اس نے کہا ”میں ایویں منڈے کا کہہ رہی تھی مجھے کیا پتہ تھا کہ آپ کے لئے بیٹی بھی منڈا ہی ہے “۔


30جولائی 1995
میری پانچویں سالگرہ کا دن ،ابا نے خصوصی اہتمام کیا تھا کافی ڈانس ،وانس ہوتا رہا مہمانوں کی تواضع بھی دیسی اور والایتی مشروبات سے ہوتی رہی محلے کے کافی کن ٹٹے ابا کے خصوصی مہمان تھے ۔

(جاری ہے)

میرے پاس کھلونوں اور پیسوں کاڈھیر سا لگا ہوا تھا ابا نے اپنے پاس بیٹھے ہوئے ایک نجومی نما شخص کو میرا ہاتھ دکھایا اس نے میرے ہاتھ میں پر بنی ہوئی ننھی ،منی لکیروں کو دیکھ کر کہا ”بھئی بہت پیسہ ہے اس کے ہاتھوں میں ،اسے اپنے ہاتھوں سے جانے نہ دینا “اور یہ سن کر ابا اور اماں کی کوخوشی دیدنی تھی ۔


30 جولائی 2000
ابا نے میرے لئے گاناسیکھنے کا اہتمام کیا لیکن استاد صاحب نے بتایا کہ اس کا ”گلا “ گانے کے لئے نہیں بنا آپ اس کے لئے اداکاری یا کیٹ واک جیسے دوسرے میدان میں کوشش کریں ،انہوں نے مجھے چلا کر دیکھا پھر انہوں نے ابا سے کہا ،بچی جیسے پاؤں رکھ رہی ہے یہ کیٹ واک میں فٹ رہے گی ،ایک دفعہ ریمپ پر پاؤں رکھ دے تیریاں لہراں ،بہراں کروا دے گی ۔


30جولائی 2005
تعلیم کے ساتھ ساتھ ابا نے میرے لئے شوبز سے جیدی میڈم جیسی چست مخلوق بھی ہائر کی جس نے مجھے نہ صرف کیٹ واک کی تربیت دی بلکہ ڈانس کے مختلف سٹپ بھی سکھاتا رہا وہ جب ریمپ پر مجھے چلاتا تو پھر خوشی سے میری بلائیں لینے لگتا میری رنگت سانولی سی تھی جس کے لئے ابا پریشان تھے وہ مختلف کریمیں ملا کر مجھے دیتے تاکہ میرا رنگ گورا ہو جائے ۔


30جولائی 2009
میں نے انیس سال کی عمر میں ڈی گریڈ میں میٹرک کر لیا تھا ابا کو اتنی خوشی میرے میٹرک میں پاس ہونے کی نہیں تھی جتنی انہیں میرے ایک کیٹ واک میں شرکت کا دعوت نامہ ملنے کی تھی یہ کیٹ واک لاہور ہی ایک بین القوامی فرم کروا رہی تھی ابا نے کہا بیٹی اب اپنی فیلڈ پر توجہ دے باقی ڈگریاں ہم خرید لیں گے ۔
30جولائی2013
میں کیٹ واک کی فیلڈ میں اس قدر آگے نکل آئی ہوں کہ اپنے گھر والوں کو بھی پیچھے چھوڑ دیا ہے ،پیسہ شائد مجھ پر عاشق ہے اتنے بین القوامی ٹور مل رہے ہیں کہ میں خود حیران ہوں سیاسی لوگوں سے بھی واقفیت بن رہی ہے بلکہ بعض تو مجھے پاکستان کی سیاست میں بھی کوئی اہم مقام دلوانا چاہتے ہیں اور میں صرف کیٹ واک کی شہزادی بن کر رہنا چاہتی ہوں شائد یہی میری زندگی کا حاصل ہے جسے میں کھونا نہیں چاہتی اب تو لوگ بطور گلوکار میری آواز بھی پسند کرنے لگے ہیں۔


14مارچ 2015
میں نے ذیادہ تر بین القوامی ٹورز رات کے اوقات میں ہی کئے ہیں جو لوگ مجھے اس کام کے لئے ہائر کرتے تھے ان کی بھی یہی ڈیمانڈ ہوتی تھی ۔وفاقی دارلحکومت کا انٹرنیشنل ائرپورٹ، سب کچھ ٹھیک لگ رہا تھا رات اڑھائی بجے کا وقت تھا میں کسی طرح بھی نروس نہیں تھی میں نے یونہی وی آئی لاونج کا استعمال کر لیا بس وہاں لگے سکینرز نے میرا بھانڈا پھوڑ دیا کسٹم حکام نے مجھے پکڑ لیا اور مجھ سے غیر ملکی کرنسی بر آمد کر لی گو کہ بہت اوپر تک لوگوں کے فون آئے لیکن کوئی شنوائی نہ ہو سکی مجھے کسٹم حکام سے پتہ چلا کہ میں پانچ لاکھ ڈالر لے کر جا رہی تھی جب انہوں نے اسے پاکستانی کرنسی سے ضرب دے کر بتایا تو میری آنکھیں کھلی کی کھلی رہ گئیں۔

سب سے پہلا کام میں نے یہ کیا کہ دونوں فونز کا ڈیٹا اڑا دیا اس کی تربیت مجھے پہلے ہی دی جا چکی تھی۔ ائر پورٹ لگے ہوئے ٹی وی سیٹ پر چینلزمیری خبر نام لئے بغیر بریک کر رہے تھے۔
15مارچ 2015
مجھے ناشتے میں انڈا پراٹھہ دیا گیا جسے میں نے شکریہ کے ساتھ واپس کر دیا تب مجھے نان اور چنے بھی دیئے گئے میں نان اٹھا کر دیکھا میں نے پوچھا یہ نان ہے یا پلیٹ، ایک پلیٹ میں گنتی کے پانچ چنے ،میں نے جیل حکام کو تنک کر بتایا کہ میں ناشتے میں صرف جوس پیتی ہوں ۔

سارا دن کرکٹ میچ کی اپ ڈیٹس نھی لیتی رہی بلکہ دوبئی کی ایک سٹہ والی پارٹی سے میچ پر سٹہ بھی کھیلادوپہر میں کھانا چاول کے ساتھ چنے کی دال تھی جو شائد اکھٹے ہی پکائے گئے تھے میں نے پھر انکار کر دیا اتنے فون آ رہے تھے کہ پھر مجبورا ً رات کو بازارسے اچھا کھانا منگوا کر دینا پڑا۔ اس کیس میں اپنے ،اپنے نام صیغہ راز میں رکھنے کے لئے فون بھی آ رہے ہیں اور ملاقاتیں بھی بہت آ رہی ہے لیکن میڈیا کے ڈر سے یہ سب کچھ خفیہ رکھنے کی کوشش کی جا رہی ہے
31مارچ 2015
میں نے برقعہ میں عدالت جانے کا فیصلہ کیا وہی میڈیا جن کے کیمرے ہماری جان ہیں ان سے بچنے کے لئے میں نے کئی کیمروں کو تھپڑ مارے میرا اگلا ،پچھلا سارا حساب عدالت کو بتادیا گیا مجھے بھی اس دن پتہ چلا کہ میں بیرونی چالیس دورے کر چکی ہوں اکتالیسویں دورے پر پکڑی گئی عدالت نے میری درخواست ضمانت مسترد کرکے دوبارہ جیل بھیج دیا کئی لوگ مجھے مولوی عبدالعزیز کہہ کر چھیڑتے رہے۔


11اپریل2015
میں عدالت میں پیشی کے لئے برقعہ اتارنے کا فیصلہ کر لیا ہے میں عدالت کے یوں تیار ہوئی جیسے کیٹ واک کے لئے تیار ہوئی ہوں مجھے میری مرضی کی خاتون میک اپ آرٹسٹ مہیا کر دی گئی ہے جس نے مجھے تیار کیا اور میں ایک روپ میں عدالت کے لئے روانہ ہوئی میری وجہ سے جیل کا ماحول بھی کافی بہتر ہو گیا ہے گالی گلوچ کا کلچر کافی کم ہو گیا ہے بلکہ کئی پولیس والوں کی دبی ،دبی آوازیں میں نے کافی دفعہ سنی ہیں ”اوئے، ایان علی کیا سوچے گی“میری تیاری دیکھ کر چینلز بھی خوش ہو گئے اور وہاں پر موجود لوگ بھی ،عدالت نے مجھے ایک مرتبہ پھر واپس بھیج دیا ۔


22اپریل 2015
وہ جوکہتے تھے ”میں ہوں ناں “ انہوں نے فی الحال مجھے ڈائری اور زبان بند رکھنے کو کہا ہے ،عدالت نے بھی مجھے مرکزی ملزم قرار دے دیا ہے ۔عدالت سے باہر میرے کھلے ڈھلے سٹائل کو چینلز اور تھڑوں پر چڑھے ہوئے تماش بین مجھے غور سے دیکھتے ہوئے تنقید کا نشانہ بناتے رہے ۔کچھ لوگوں نے تو نعروں کے سٹائل میں ”پردے میں رہنے دو“ کی گردان کی میں نے اس سے یہی نتیجہ اخذ کیا کہ یہ سب ان شخصیات کے بندے ہیں جن کے نام اس کیس میں آ رہے ہیں اور مجھ سے استدعا کر رہے ہیں کہ ان کے ناموں پر پردہ رہنے دو۔


28اپریل 2015
جیل سے عدالت تک چینلز مجھے مکمل کوریج دیتے رہے کیمرہ مین میرے ٹیٹوز،میک اپ اور لباس کو بطور خاص دکھاتے رہے میں نے میڈیا کو بتایا کہ میں جیل میں قیدیوں کی مشکلات پر ایک فلم بناؤں گی جیل کی زندگی کو میں بہت باریک بینی سے دیکھ رہی ہوں عدالت کو بتایاگیا کہ میں نے پندرہ بار دوبئی اور چھتیس بار دوسرے ممالک میں کرنسی سمگل کی ہے۔


8مئی 2015
جیل سے ایک نئے روپ میں کورٹ تک ایان علی واک اور پھر تاریخ پہ تاریخ ۔
18مئی 2015
رات اڑھائی بجے کا وقت آنکھ مچھروں کی بھیں،بھیں سے کھل چکی ہے باہر سے کسی خاتون پولیس اہلکار کے خراٹوں کی آواز آ رہی ہے ۔مچھر منہ سے اڑاتی ہوں تو ہاتھ پر جا بیٹھتے ہیں ہاتھ سے اڑانے کی کوشش کرتی ہوں تو پھر بھی نہیں اڑتے ۔

جلیبی جل کر راکھ ہو چکی ہے لیکن مچھر جوں کے توں ہیں شائد ان کی بھی شفٹ تبدیل ہو چکی ہے کیونکہ سبھی تازہ دم ہیں ۔رات کی ادھ بچی سبزی جسے میں باوجود کوشش کے پہچان نہیں پائی کہ کونسی سبزی تھی ایک روٹی کے ساتھ سرہانے رکھے بنچ پر پڑی ہے موبائل سرہانے ضرور ہے مگر خاموش، سگنل پورے ہیں لیکن مجھے فون کرنے والوں کے سگنل اڑ چکے ہیں ۔نیند آنکھوں سے کوسوں دور ہے اس کیس میں مجھے سات سے دس سال سزا ہوسکتی ہے دس سال بعد کیا ہو گا میرا ایک اچھا دور تو جیل میں ہی گزر جائے گا میں نے جیل میں قیدی عورتوں کو خارش کی عجیب و غریب بیماریوں میں مبتلا دیکھا ہے ۔

جیل سے دس سال بعد کس حالت میں اس کا تصور ہی دل دہلا دینے والا تھا ایک قیدی عورت ریشماں کی رات کے سناٹے، جیل کی تنہائی میں آواز دل پر اتنا اثر کر رہی تھی کہ بے اختیار آنکھیں نم اور حلق میں نمکین سا پانی محسوس ہو رہا تھا۔
اکثر شب تنہائی میں۔۔۔کچھ دیر پہلے نیند سے
گزری ہوئی دل چسپیاں۔۔۔بیتے ہوئے دن عیش سے
بنتے ہیں شمع زندگی۔۔۔اور ڈالتے ہیں روشنی
میرے دل صد چاک پر

Your Thoughts and Comments