Susraliyon Ka Khauf Aur Sultan Rahi Ki Wig

”سسرالیوں کا خوف اور سلطان راہی کی وگ“

پیر جنوری

Susraliyon Ka Khauf Aur Sultan Rahi Ki Wig
مگر ”افسوس“ وگ لگانے کی ضرورت محسوس نہیں کی۔ ہمیں لوگوں کے وگ لگانے پر بھی اعتراض نہیں اور نہ ہی ہمیں لوگوں کے وگ لگانے سے کوئی پریشانی محسوس ہوتی ہے مگر وگ پر کنگھی کرنے پر ہمیں اعتراض بھی ہے اور اس سے ہمیں الجھن بھی محسوس ہوتی ہے۔ آج کل کے گانے والے جب پبلک میں گاتے ہیں تو ٹیپ چلا دیتے ہیں اور خود سامنے کھڑے ہو کر بس منہ ہلائے جاتے ہیں اور لوگ سمجھتے ہیں کہ گلو کار سامنے اسٹیج پر کھڑا گارہا ہے(دھوکے باز کہیں کے) اس دوران اگر پل بھر کے لیے لائٹ بند ہو جائے تو راز کھل جاتا ہے اور لوگ بے چارے ہال والوں کی مفت میں کرسیاں توڑ دیتے ہیں اور پھر گلوکار کے سردیوں میں پسینے چھوٹ جاتے ہیں اور انتظامیہ کی دوڑیں لگ جاتی ہیں تو (ملاوٹ اور دونمبری کا کیا شاندار امتراج ہے)۔

(جاری ہے)


ہم ایک جگہ بیٹھے تھے کہ باہر سڑک پر ہمیں دو صاحبان کھڑے دکھائی دیتے۔ ایک کو تو میں بالکل نہیں جانتا تھا جبکہ دوسرا چہرہ شنا سا لگا۔ مگر مجھے پہنچاننے میں خاصی مشکل پیش آرہی تھی کیونکہ وہ اپنے پورے سر پر موجود بالوں میں کنگھی رک رہا تھا۔ یار یہ طارق فاروق لگتا ہے ؟ میں نے اپنے ساتھی سے پوچھا۔ نہیں مظفر صاحب یہ کوئی اور ہے طارق فاروق تو پورے کا پورا گنجا ہے جبکہ اس کے تو سارے سر پر گھنے بال ہیں؟ مجھ سے نہ رہا گیااور میں تیز تیز قدم اٹھاتا ہوا بارہ نکلا تو اس نے مجھے اچانک سامنے دیکھ کر منہ دوسری طرف پھیر لیا۔

میں نے اس طرف گھوم کر آنکھیں چار کرنا چاہیں تو اس نے آنکھیں بند کر لیں۔۔؟
ارے طارق فاروق۔ احمق شخص یہ کیا ڈرامہ کر رہے ہو۔ تم تو پورے گنجے ہو اور اس قدر گھنے بالوں والی وگ لگا کر اس پر کنگھی بھی پھیر رہو ہو۔ بہتر ہے یہ وگ اتار لو نہ جانے کس جانور کی ہے اگر تمہیں خارش پڑگئی تو علاج نہ کر پاوٴ گے؟“
میں نے جلدی میں یہ سب کچھ کہہ ڈالا اور وہ مجھے خوامخواہ بغل گیرہوتا ہوا میرے کانوں میں آہستہ سے بولا۔

یار بس کرو، یہ ساتھ میرا ہونے والا سالا ہے۔ اس دوران جو میں نے اس لڑکے کے ہاتھ ملانا چاہا تو اس نے منہ دوسری طرف کیا اور آہستہ آہستہ چلتا ہوا سڑک پارکر گیا (گویا سالا صاحب کا موڈ آف ہو گیا اور میرا بولا ہوا سچ اس پہ فوراََ اثر کر گیا) میرا دوست سٹرک پر بنے ایک کارپوریشن کے بیچ پر بیٹھ گیا اس نے وگ اتاری اور سر پر دونوں ہاتھ رکھ کر منہ نیچے کر لیا۔


یار! طارق مجھے معاف کردو۔ مجھے نہیں پتہ تھا کہ وہ تمہارا ہونے والا سالا ہے ۔ سوری یار میں نے تمہارا بنابنایا کام خراب کر دیا۔ جس طرح تمہارا متوقع سالا تمہیں چھوڑ کر سڑک پار کر گیا ہے یقینا یہ رشتہ ٹوٹنے کی واضح علامت ہے۔
طارق فارو ق اٹھا اور زور زور سے قہقے لگانے لگا میں گھبرا گیا کیونکہ مجھے یقین تھا کہ میرا دوست رشتہ ٹوٹنے کا غم برداشت نہیں کر سکا اور ذہنی توازن کھو بیٹھا ہے ۔

میں خود پر چار حرف بھیج رہا تھا اور صحیح معنوں میں شرمندہ ہو رہا تھا اور بے حد پریشان بھی۔
”آوٴ یار مظفر۔ تمہیں کسی اچھے سے ہوٹل میں کھانا کھلاوٴں (اس دوران اس نے سر پر زور زور سے خارش کرنا شروع کردی)میں نے اس کی آنکھوں میں آنکھیں ڈالیں کیونکہ میرے سائیکار ٹیسٹ دوست ڈاکٹر گلزار حسین نے بتایا تھا کہ جب بندہ اچانک پاگل پن کا شکار ہو تا اس کی آنکھیں ٹیڑھے پن میں بلد جاتی ہیں۔

طارق فاروق کی آنکھیں بالکل ٹھیک تھیں۔
اس وقت مجھے بھی سخت بھوک لگی تھی اس لیے بادل نخواستہ میں بھی ساتھ چل دیا۔ ہم کل تین تھے مگر اس نے چھ سات بندوں کا کھانا منگوالیا تھا۔ میرا وہم آہستہ آہستہ ختم ہو گیا کیونکہ میرا دوست بالکل انسانوں کی طرح کھا رہا تھا۔اس دوران میں نے پھر پوچھا، یا رطارق تم خو ش کیوں ہو، مجھ سے اتنی بڑی غلطی ہو گئی اور تم مجھے اس قدر پرتکلف کھانا کھلوا رہے ہو۔

شدید ناراض ہونے کی بجائے تم بے حد خوش بھی ہو، یہ سب آخر کیا۔؟
جب اس نے مجھے پریشان دیکھا تو خوب ہنسا۔ یار، اصل میں تم میرے لیے مسیحا بن کر آئے تو۔ میں کچھ دنوں سے اس عذاب میں مبتلا تھا۔ تم نے مجھے اس خوفناک مشکل سے نکال دیا ۔ جب یہ رشتہ طے ہو اتھا جب میرے سسرال میں سے کسی نے آنا ہوتا تھا تو میں وگ سر پر لگا لیتا تھا جو ایک آدھ گھنٹہ سر پر رکھنے کے بعد میرے سر پر شدید قسم کی خارش ہونے لگتی تھی ، اور میں دل میں دعا کرنے لگتا کہ یااللہ یہ سسرالی رشتہ دار جلدی سے جائے اور میں وگ اتار کر سکھ کا سانس لوں۔

تم نے یہ وگ لی کہاں سے تھی۔ ؟ میرے سوال پرہ وہ مزید ہنسا۔ اصل میں لاہور کے شاہ نور سٹوڈیو میں میرا ایک دوست ہے جس سے میں نے وگ لگوانے کی بات کی تو اس نے کہا کہ ہمار پاس سٹوڈیو میں چار پانچ ایسی ویگیں پڑی ہیں جو سلطان راہی مرحوم پنجابی فلموں کی شوٹنگ کے دوران لگایا کرتے تھے۔ میں نے پیسے بچانے کے چکر میں ان وگوں سے یہ والی پسند کر لی اور پھر سلطان راہی مرحوم کی چھوڑی ہوئی یہ وگ میرے لیے عذاب اور میرے سر کے لیے عذاب عظیم بن گئی۔

تم نہ آتے تو نہ جانے کب تک میں عذاب جھلیتا رہتا اور خارش کامرض سر سے اتر کر سارے جسم پر قبضہ کر لیتا میں واقعی تمہارا دل سے شکر گزار ہوں۔ واقعی تونے دوستی کا حق ادا کر دیا ہے۔
کچھ دن بعد ہم گنجے طارق فاروق کے سب دوست اس کے سسرالیوں کے گھر گے انہیں حقیقت حال سے آگاہ کیا اور بتایا کہ گنجا ہونے سے انسان اپنی ”صلاحیتوں“ سے محروم نہیں ہو جاتا۔

وہ پڑھا لکھا ہے اور اچھے عہدے پر فائز ہے ۔گنجاپن راستے کی دیوار بن گیا ہے۔
خیر،وہ اچھے لوگ تھے انہوں نے ہاں کر دی۔اور یوں ہم نے طارق فاروق کو سلطان راہی مرحوم کی وگ سے بچا لیا اور اس کے ہونے والے سسرالیوں کو ایک بہروپئے داماد سے نجات مل گئی ۔
اصل میں حالات اس قدر تیزی سے بدل رہے ہیں۔ پیسے کی ریل پیل نے ہمارے اند د موجود حقیقی سچے انسان کو ابدی نیند سلا دیا ہے۔

ہم ہر شعبے میں گنجے پن کا شکار ہو چکے ہیں ۔ ہم ہر برائی کے ذامہ دار حکومتوں کو ٹھہراتے ہیں ،سیاستدانوں کو ٹھہراتے ہیں۔ ہر آدمی دوسرے کو معاشرتی برائیوں کا ذمہ دار ٹھہرا رہا ہے اور خود کو وہ بری الذمہ ٹھہرانا چاہتا ہے۔ حالانکہ ہم سب اس حماس میں ننگے ہیں کوئی بھی اپنے گریبان میں جھانکنے کو تیار نہیں۔ ہر کسی نے رات کے گھٹا ٹوپ اندھیرے میں بھی سیاہ شیشوں والی عینک لگا رکھی ہے اور پورے گنجے سر پر وگ؟ اور وگ بھی وہی مرحوم سلطان راہی والی اور پھر شرم کی جگہ بے شرمی نے لے لی ہے ۔

پورے گنجے سر پر بڑے گھنے بالوں والی وگ اور پھر ہم دوسروں کی آنکھوں میں دھول جھونکنے کے لیے بیچ چوراہے میں اس وگ پر کنگھی بھی پھیر رہے ہیں۔
حالانکہ ہم اپنی اس وگ پر کنگھی پھیر نے والی حرکت سے دوسروں کو بیوقوف تو نہیں بنا پائیں گے خود پر بہروپیا ہونے کا لیبل لگوالیں گے۔ حالانکہ بہروپیا بن کر چند گھنٹے تو گزارے جا سکتے ہیں ساری زندگی نہیں۔ اللہ ہم وگ والے گنجوں پر رحم فرمائے۔ (آمین)

Your Thoughts and Comments