Swalaat

سوا۔۔۔۔۔لات

منگل مارچ

Swalaat

ڈاکٹر محمد یونس بٹ
صاحب! مقامی کالج میں بی اے پنجابی کے پرچے پر اعلانیہ بوٹی مافیا نے پانچ سو روپے فی سوال ریٹ کا اعلان کیا تو ہمیں دکھ ہوا ہم جانتے ہیں سوالاتوں کے بھوت باتوں سے نہیں مانتے پھر بھی ہم سمجھتے ہیں یہ طلبہ سے زیادہ پنجابی زبان کے ساتھ زیادتی ہے کہ اسی سینٹر پر انگریزی کے پرچے میں فی سوال نقل کرانے کا ریٹ دو تین ہزار روپے رہا تو پنجابی کو اتنی سستی زبان کیوں سمجھا گیا؟اس کی وجہ شاید یہ ہو کہ انگریزی میڈان انگلینڈ اور پنجابی یہاں کی بنی ہوئی ہے انگریزی سے ہمارے لیڈروں کو بھی اتنا لگاﺅ ہے کہ ہمارے ایک وزیر ایسے ہیں جنہوں نے جب بھی بی اے کا امتحان دیا انگریزی کا پرچہ ضرور دیا ویسے انگلینڈ میں انگریزی کا یہ حال ہے کہ جو کوئی وہاں سے گرائمر کے حساب سے صحیح انگریزی بول رہا ہو فوراً پتہ چل جاتا ہے یہ مقامی نہیں ہم زبانوں کے بارے میں اتنا ہی علم رکھتے ہیں کہ ہمیں علم ہے لاہور میں کسی سری پائے کی دکان پر اعلیٰ زبان ملتی ہے بحیثیت پاکستانی ہم سمجھتے ہیں بندے کے منہ میں اپنی زبان ہونا چاہیے کسی اور کی زبان ہوض تو مخاشی کے زمرے میں آتا ہے اس کے باوجود ہرمنہ میں کسی انگریز کی زبان ملتی ہے صاحب ہمارے لوگ تو فقرے کے آخر میں جی بھی کہیں تو لہجہ ایسا ہوگا کہ جیسے یہ جی انگریزی کا ہے انگریزی سے ہمیں چھٹی کا دودھ یاد آگیا جب ہم نے چھٹی جماعت مید دودھ دوہنے کی انریزی واشنگ ملک لکھی تو ٹیچر نے کہا بڑی غلط زبان لکھی ہے تب سے ہم انگریزی کو غلط زبان سمجھتے ہیںجہاں تک پنجابی کا تعلق ہے تو جماعت اسلامی کے سابق امیر میاں طفیل محمد صاحب نے ایک بار کہا کہ پنجابی گالیوں کی زبان ہے یہ بات انہوں نے پنجابی میں کی ہم نے اپنے بچوں کو انگریزی اردو پڑھانے کے لیے ٹیوٹر اور پنجابی بھلانے کے لئے ممی رکھی ہوتی ہے پنجابی تو پنجابیوں کے گھر کی لونڈی ہے اور اس کے مساوات وہی سلوک ہورہا ہے اس کے باوجود ہم پنجابی زبان پر ماہرانہ رالے نہیں دے سکتے مگر امتحانوں پرر دے سکتے ہیں کیونکہ ہم اتنی مرتبہ کلاس روم میں نہ گئے ہوں گے جتنی بار کمرہ امتحان میں گئے اس کا مطلب یہ نہیں کہ ہمیں پڑھنے کا شوق نہیں رہا ہمیں تو اتنا شوق تھا کہ کمرہ امتحان میں بھی جہاں دوسرے لکھ رہے ہوتے ہم وہاں بھی پرچہ پڑھ ہی رہے ہوتے فی زمانہ امتحانوں میں صرف یہی خوبی ہے کہ یہ ملتوی ہوجاتے ہیں جیسے بقول یوسفی ہر آمر میں یہی خوبی ہوتی ہے کہ وہ گزر جاتا ہے ہمارے ملک میں قوم اور طالب علموں کو بار بار امتحانوں سے اس لئے گزارا جاتا ہے کہ نگراں کا کاروبار چلے۔

(جاری ہے)


پھر پولیس کا علم کی اہمیت سے آگہی ہوتی ہے جب ان کی ڈیوٹی کسی امتحانی سنٹر پر لگتی ہے تو انہیں پتہ چلتا ہے علم ایک دولت ہے اور تعلیم سے تعلیم یافتہ سے زیادہ کیسے کمایا جاتا ہے؟ان سنٹروں پر پرچہ رکوانے کے لیے کچھ کرنا پڑتا ہے جو تھانوں میں پرچہ کروانے کے لیے پچھلے چند سالوں سے ان سنٹروں پر بڑی بدعنوانیاں ہونے لگی تھیں ایک ہی سوال کی نقل کے کسی سے سات سولئے جاتے اور کسی سے اسی سوال کے دو ہزار جس کا محکمہ تعلیم نے سخت نوٹس لیا اب تو بوٹی مافیا والے باقاعدہ اعلان کرتے ہیں کہ فی سوال اتنے روپے ریٹ ہے اس سے زیادہ لینے والا پولیس حوالہ نہ دے سابق وزیر تعلیم نے ایسے انتظامات کئے کہ نقل آدھی ہوگئی یہ انہوں نے ایسے کیاجہاں پہلے سال میں دس امتحان ہوتے تھے انہوں نے پانچ کردئیے یوں نقل فوری طور پر آدھی ہوگئی ان کے ہوتے ہوئے امید تھی کہ نقل سو فیصد ختم ہوجائے گی جس کا ایک طریقہ تو یہ ہے کہ نقل کو پرائیویٹ سیکٹر سے لے کر گورنمنٹ سیکٹر میں دے دیا جائے محاورہ ہے روم ایک دن میں نہیں بنا جس کی وجہ یہی ہوگی کہ روم گورنمنٹ نے بنایا ہوگا گورنمنٹ ایک دن مں روم تو کیا کلاس روم نہیں بناسکتی سو نقل کم ہونے لگے گی لیکن گورنمنٹ سیکٹر میں ہونے والی نقل ایسی یہ ہوگی جیسے ایک طالب عمل کا پرچہ دیکھنے کا ہمیں بھی موقعہ ملا اس نے لکھا تھا مولانا ابو الکلام آزاد کھیم کرن کے میدان میں پیدا ہوئے۔


طلبہ آج کل جو سیکھتے ہیں کمرہ امتحان سے ہی سیکھتے ہیں ورنہ کلاس میں تو ہم نے بھی یہی سیکھا تھا کہ ہونٹ ہلائے بغیر سیٹی کیسے بجاسکتے ہیں؟پنجابی سے ہمیں محبت ہے ہمارے ہاں ہر اس کسے محبت ہوتی ہے جسے اپنا نہ سکیں ہم کبھی پنجابی میں فیل نہیں ہوئے جس کی ایک وجہ تو یہ ہے کہ ہمیں پنجابی بہت آتی ہے اور دوسری وجہ یہ ہے کہ ہم نے پنجابی کا کبھی امتحان ہی نہیں دیا ویسے ہوسکتا ہے بوٹی مافیا نے پانچ سو روپے فی سوال پنجابی زبان سے محبت کی وجہ سے رکھا ہوتا کہ سستے داموں پنجابی کی تعلیم کو فروغ مل سکے اور زیادہ سے زیادہ لوگ پنجابی کا امتحان دیں ممکن ہے وہ پنجابی سے اور محبت کا اظہار کرتے ہوئے یہ اعلان کریں کہ جو ہر سال بی اے انگریزی کا پرچہ ہم سے کروائے گا اس کا پنجابی کا پرچہ مفت کروایا جائے گا۔

Your Thoughts and Comments