Syasi Gadhagar

سیاسی گداگر

جمعہ مارچ

Syasi Gadhagar

ڈاکٹر محمد یونس بٹ
صاحب! گداگری میں ہمیں تو اس کے علاوہ کوئی خوبی نظر نہیں آتی کہ یہ واحد پیشہ ہے جس میں آپ کسی تعارف کے بغیر کسی بھی راہ چلتی خاتون کو کھڑا کرکے اس سے بات کرسکتے ہیں لیکن نیویارک کے عدالت کو پتہ نہیں اس میں کیا نظر آیا ہے کہ اس نے آئین کی پہلی ترمیم کے تحت اسے آزادی اظہار قرار دے دیا ہے بلکہ یہاں تک کہہ دیا ہے کہ اگر ووٹ مانگنے میں کوئی قباحت نہیں تو پھر بھیک مانگنے میں کیوںہو؟
ہم تو بھیک مانگنے کو ایک سماجی برائی سمجھتے ہیں بھکاریوں کی بڑھتی ہوئی تعداد اس کا ثبوت ہیںاگر یہ نیکی کا کام ہوتاتو دن بدن بھیک مانگنے والوں کی تعداد کم نہ ہوجاتی۔

مانگنا دنیا کا دوسرا قدیم ترین پیشہ ہے۔پہلے قدیم ترین پیشے کے” اصرار وزموز“جاننے والے جانتے ہیں کہ اس کا ووٹ مانگنے والوں سے کیا خوبصورت رشتہ ہے،یاد رہے خوبصورت رشتہ وہ رشتہ ہوتا ہے جو کسی خوبصورت سے ہو لیکن عدالت نے بھیک مانگنے اور ووٹ مانگنے والوں کا اکٹھا ذکر کیا ہے جس کی وجہ شاید یہ ہو کہ فی زمانہ انہی دو طبقوں کی تعداد میں اضافہ ہورہا ہے۔

(جاری ہے)

آپ مجھے جتنے سیاستدان دکھائیں گے ہم آپ کو اتنے بھکاری دکھادوں گا۔کہتے ہیں مردہ سیاستدان زندہ بھکاری سے بہتر ہوتا ہے ہمارے ہاں تو مردہ سیاستدان زندہ سیاستدان سے بھی بہتر اور قابل اعتماد ہوتا ہے۔کسی نے پوچھا ایک سیاستدان سے زیادہ ناقابل اعتبار کوئی ہے؟”کہا“ہاں ہے دو سیاستدان ہمیں بھکاری پسند نہیں ہے جس کی ایک وجہ تو یہ ہے کہ بھکاری پسند کرنے کے لیے ہوتے ہی نہیں۔

وہ تو بھیک مانگنے کے لیے ہوتے ہیں؟آپ کو کسی مرد یا عورت کے بارے میں حتمی رائے قائم کرنا ہو تو یہ نہ دیکھیں اس کے پاس کیا ہے یہ دیکھیں وہ مانگتا ہے؟ ان انشاءلکھتے ہیں ایک مولانا صاحب نماز کے بعد دعا مانگ رہے تھے یا اللہ مجھے ایمان دے مجھے ہدایت دے۔پاس ہی ایک بندہ دعا مانگ رہا تھا یا اللہ مجھے دولت دے مجھے روپے دے۔مولانا صاحب نے ڈانٹ کر کہا تو یہ کیا مانگ رہا ہے خدا سے مانگنا ہی ہے تو یہ مانگ کہ مجھے ایمان دے مجھے ہدایت دے تو روپے پیسے مانگ رہا ہے تو وہ بولا بندہ وہی مانگتا ہے جو اس کے پاس نہیں ہوتا ہمارے ہاں بھیک یوں مانگتے ہیںجیسے اپنا حق مانگ رہے ہوں۔

اس پر ہمیں اعتراض نہیں اعتراض اس پر ہے کہ حق یوں مانگتے ہیں جیسے بھیک مانگ رہے ہوں۔شہروں میں تو یتیموں کو صبح سویرے ہی ان کے والدین بھیک مانگنے کے لیے بھیج دیتے ہیں۔بھکاری اور رشتہ داری میں یہ فرق ہوتا ہے کہ بھکاری یہ تو نہیں کہتا کہ آپ کے پاس کچھ نہیں تو کسی سے ادھار لے کر دے دیں۔
بینکرز کی ڈکشنری میں جو شخص پانچ دس روپے مانگے وہ بھکاری اور جو پانچ دس کروڑ مانگے وہ زرداری۔

سیاستدان غریبوں کہ یہ کہہ کر کہ تمہیں امیروں سے بچائیں گے ووٹ لیتے ہیں اور امیروں کویہ کہہ کے کہ تمہیں غریبوں سے بچائیں گے‘ پیسے لیتے ہیں کہتے ہیں کولمبس جب سفر پر نکلا تھا تو اس کے پلپے کچھ نہ تھا لوگ اس کے ساتھ تھے مگر کسی کو پتہ نہ تھا وہ ا نہیں کدھر لے جارہا ہے رقم وہ لوگوں سے مانگ کر نکلا تھا آج ایسے کولمبس کو انتخابی امیدوار کہتے ہیں صاحب الیکشن پڑھائی اور ایک میں کامیابی کے لیے فل بیک ضروری ہے۔

ہمارے ہاں رہنما مہنگائی کی طرح بڑھ رہے ایک پشتو حکایت ہے ایک بزرگ کسی گاﺅں سے گزرے گاﺅں والوں نے اچھا سلوک کیا تو انہوں نے دعا کی اللہ تمہارے ہاں ایک رہنما پیدا کردے۔اگلے گاﺅں والوں نے براسلوک کیا تو بددعا دی کہ خدا آپ کے گھر گھر میں رہنما پیدا کردے۔عدالت نے ہمارے ہی نہیں دنیا بھر کے سیاستدان کو بھکاریوں کے ساتھ ملادیا ہے جس پر احتجاج ہونا چاہئے لیکن کس کی طرف ہونا چاہیے اس کا ہمیں پکا پتہ نہیں۔معاملہ ایسا ہی نہ ہو جو کرنل محمد خان صاحب لکھتے ہیں کہ جہاز میں کسی ائیر ہوسٹس کو چڑیل کہہ دیا تو ایک صاحب نے احتجاج کیا کہ یہ ائیر ہوسٹس کو چڑیل کس نے کہا تو دوسرے صاحب احتجاجاً چلائے یہ چڑیل کو ائیر ہوسٹس کس نے کہا۔

Your Thoughts and Comments