Taawun

تعاون

ہفتہ اگست

Taawun

چا لیس پچاس لٹھ بند آدمیوں کا ایک گروہ لوٹ مار کے لیے مکان کی طرف بڑھ رہا تھا ۔دفعتہ اس بھیڑ کو چیر کر ایک دبلا پتلا ادھیڑ عمر کا آدمی نکلا ۔پلٹ کر اس نے بلو ائیوں کو لیڈ رانہ انداز میں مخاطب کیا۔” بھائیو“ اس مکان میں بے انداز دولت ہے ۔بے شمار قیمتی سامان ہے ۔آؤ ہم سب مل کر اس پر قا بض ہوجائیں اور مال غنیمت آپس میں بانٹ لیں ۔ہوا میں کئی لاٹھیاں لہرائیں ‘ کئی مکے بھینچے اور بلند بانگ نعروں کا ایک فوارہ سا چھوٹ پڑا ۔

چالیس پچاس لٹھ بند آدمیوں کا گروہ دبلے پتلے ادھیڑ عمر کے آدمی کی قیادت میں اس مکان کی طرف تیزی سے بڑھنے لگا ۔جس میں بے انداز دولت اور بے شمار قیمتی سامان تھا ۔مکان کے صدر دروازے کے پاس رکھ کر دبلا پتلا آدمی پھر بلو ائیوں سے مخاطب ہوا ۔

(جاری ہے)

” بھائیو ‘ اس مکان میں جتنا مال بھی ہے تمہارا ہے ‘ لیکن دیکھو چھینا جھپٹی نہیں کرنا ....آپس میں نہیں لڑنا ....آؤ ۔

“ ایک چلا یا ” دروازے میں تالا ہے ۔“ دوسرے نے با آواز بلند کہا ”تو ڑ دو !“ ” توردو ....تو ڑ دو ۔“ ہوا میں کئی لاٹھیاں لہرائیں ‘ مکے بھینچے اور بلند بانگ نعروں کا ایک فوارہ ساچھوٹ پڑا ۔دبلے پتلے آدمی نے ہاتھ کے اشارے سے دروازے توڑنے والوں کو روکا اور مسکر ا کر کہا ۔” بھائیو تھہرو ....میں اسے چابی دیتا ہوں ۔“ یہ کہہ کر اس نے جیب سے چا بیوں کا گچھا نکالا اور ایک چابی منتخب کرکے تالے میں ڈالی اور اسے کھول دیا ۔

شیشم کابھاری بھر کم دروازہ ایک چیخ کے ساتھ وا ہوا تو ہجوم دیوانہ وار اندر داخل ہونے کے لیے آگے بڑھا ۔دبلے پتلے آدمی نے ماتھے کا پسینہ اپنی آستین سے پو نچھتے ہوئے کہا ۔” بھائیو ‘ آرام سے ‘ جو کچھ اس مکان میں ہے سب تمہارا ہے پھر اس افراتفری کی کیا ضرورت ہے ؟“ فوراََ ہجوم میں ضبط پیدا ہوگیا ۔ایک ایک کرکے بلوائی مکان کے اندر داخل ہونے لگے لیکن جو نہی چیزوں کو لوٹ کھسوٹ شروع ہوئی پھر دھاندلی مچ گئی ۔

بڑی بے رحمی سے بلوائی قیمتی چیزوں پر ہاتھ صاف کرنے لگے ۔دبلے پتلے آدمی نے جب یہ منظر دیکھا تو بڑی دکھ آواز میں لٹیروں سے کہا ۔” بھائیو ‘ آہستہ آہستہ ....آپس میں لڑنے جھگڑنے کی کوئی ضرورت نہیں ۔نوچ کھسوٹ کی بھی کوئی ضرورت نہیں ۔تعاون سے کام لو۔ اگر کسی کے ہاتھ زیادہ قیمتی چیز آگئی ہے تو حاسد مت بنو ۔ اتنا بڑا مکان ہے ‘ اپنے لئے کوئی اور چیز ڈھونڈ لو ۔

مگر ایسا کرتے ہوئے وحشی نہ بنو .....مار دھار کرو گے تو چیزیں ٹوٹ جائیں گی اس میں نقصان بھی تمہار ا ہی ہے ۔“ لٹیروں میں ایک بار پھر نظم پیدا ہوگیا ۔بھرا ہوا مکان آہستہ آہستہ خالی ہونے لگا ۔دبلا پتلا آدمی وقتا”فوقتا“ ہدایت دیتا رہا ۔” دیکھو بھیا یہ ریڈیو ہے ․․․․․ آرام سے اٹھاؤ ‘ ایسا نہ ہو ٹوٹ جائے ․․․․․ یہ اس کے تار بھی ساتھ لیتے جاؤ ۔

“ ” تہہ کر لوبھائی ․․․․اسے تہہ کرلو ۔اخروٹ کی لکڑی کی تپائی ہے ․․․․ہاتھی دانت کی پچی کاری ہے ۔بڑی نازک ہے ․․․․ہاں اب ٹھیک ہے !“ ” نہیں نہیں ․․․․یہاں مت پیو ‘ بہک جاؤ گے ․․․اسے گھرلے جاؤ ۔“ اتنے میں ایک کونے سے شور بلند ہو ا۔چار بلوائی ریشمی کپڑے کے ایک تھان پر چھینا جھپٹی کررہے تھے ۔دبلا پتلا آدمی تیزی سے ان کی طرف بڑھا اور ملامت بھر ے لہجے میں ان سے کہا ۔

” تم کتنے بے سمجھ ہو ۔چندی چندی ہوجائے گی ایسے قیمتی کپڑے کی ۔گھر میں سب چیزیں موجود ہیں ۔گز بھی ہوگا ۔تلاش کرو اورماپ کر کپڑا آپس میں تقسیم کر لو۔“ دفعتا کتے کے بھونکنے کی آواز آئی ۔” عف عف عف “ اور چشم زون میں ایک بہت بڑا گدی کتا ایک جست کے ساتھ اندر لپکا اور لپکتے ہی اس نے دو تین لٹیروں کو بھنسبھو ر دیا ۔دبلا پتلا آدمی چلا یا ۔

” ٹا ئیگر ٹائیگر !“ ٹائیگر جس کے خو فناک منہ میں ایک لٹیرے کا نچا ہو گر یبان تھا ۔دم ہلا تا ہوادبلے پتلے آدمی کی طرف نگا ہیں نیچی کیے قدم اٹھا نے لگا ۔کتے کے آتے ہی سب لٹیرے بھاگ گئے تھے ۔صرف ایک باقی رہ گیا تھا جس کے گر یبان کا ٹکڑہ ٹا ئیگر کے منہ میں تھا ۔اس نے دبلے پتلے آدمی کی طرف دیکھا اور پوچھا ” تم کون ہو ؟“ دبلا پتلا آدمی مسکرایا ” اس گھر کا مالک ․․․․دیکھو دیکھو ․․․․تمہارے ہاتھ سے کانچ کا مر تبان گررہا ہے ۔“

Your Thoughts and Comments