Talash E Gumshuda Kutta

تلاشِ گمشدہ کتا

پیر جون

Talash E Gumshuda Kutta
مستنصر حسین تارڑ:
فرقان بھائی․․․․․“
ہاں یرقان بھائی․․․․“
تمھاری ناک کیسی ہے؟
کیا مطلب میری ناک کیسی ہے․․․․․․․ اونچی ناک ہے بھاتی۔
تو کیا یہ سونگھ سکتی ہے؟
تو پھر مجھے سونگھ کربتاؤ کہ تمھارے آس پاس کوئی ۱۱سیشن بھگیاڑی نسل کے کتے ہیں؟
سونگھنا تو کتوں کاکام ہوتا ہے․․․․․؟
نہیں اب یہ کام انسان کریں گے․․․․․․ اور ہاں یہ کتنے اوپر سے کالے اور نیچے سے براؤن ہیں خدا کے واسطے فرقان بھائی میری مددکریں اور ناک کوکام میں لاکر بتائیں کہ ایسے کتے اس وقت کہاں ہونے چاہییں․․․․․․․ یادرہے کہ ان کتوں کے منہ لمبوترے سے ہیں․․․․․“
کیاتمھارے کتے ہیں؟
ہاں یہ ہم سب کے کتے ہیں اور میرے بھی تو ہیں۔

(جاری ہے)


اولڈ بوائے تمھارے دماغ چل گیا ہے․․․․․․ کیا ہوا کوئی پاکستانی فلم دیکھ لی یاٹیلیویژن کاکوئی ڈرامہ نظر کے سامنے آگیا کہ یوں بولائے پھرتے ہو اور ” کتا کتا“ پکاررہے ہو۔
میرا دماغ بالکل ٹھیک ہے فرقان بھائی․․․․․ بس مجھے دوکتے درکار ہیں جو۱۱ سیشن بھگیاڑی نسل کے ہوں اوپر سے کالے نیچے سے براؤن لمبوترے منہ والے اور آواز گرجداربھونکتے اورروتے ہیں اور کاٹتے ہیں۔


اوہو یہ تو بہت خطرناک کتے ہیں۔
نہیں یہ تو بہت قیمتی کتے ہوئے فرقان بھائی․․․․․ا ور ہاں ان کی ایک اور نشانی بھی ہے․․․․․ وہ یہ کہ ایک کی زبان پر کالا نشان ہے۔
اگر وہ گرجدار بھونکتے اور کاٹنے والے ہیں تو ذرا یہ فرمائیے کہ ان کامنہ کھول کر ان کی زبان کون دیکھے گا اور بتائے گا اس پر ایک کالا نشان بھی ہے۔
بہر حال بچے بہت اداس ہیں۔


کس کے بچے․․․․․․ تمھاری توشاید شادی بھی نہیں ہوئی تو بچے کیسے اداس ہوگئے یرقان بھائی۔
اوہو آپ سمجھتے نہیں ہیں میرے بچے نہیں ان کے بچے اداس ہیں جن کے کتے گرجدار بھونکتے ہیں اور کاٹتے ہیں۔
یرقان یاتو مجھے پوری بات بتاؤ ورنہ میں چلا․․․․․“
سنوفرقان بھائی․․․․․․ میں آج صبح دفتر نہیں گیا بلکہ شہر بھر میں گھومتا رہاں ہوں اور لوگوں کے گھروں میں جھانک رہاہوں دکانوں کے تھڑوں کے نیچے دیکھتا رہاہوں کہ شاید مجھے وہ کتے مل جائیں جن کا ” کتے تلاش گمشدہ پانچ ہزارروپے کاانعام“ کے عنوان سے اشتہار شائع ہوا ہے اور مجھے انعام کے پانچ ہزار مل جائیں۔

اور فرقان بھائی پانچ ہزار رپے میں بتائیے کیاکیا ہوسکتا ہے․․․․․ ہم خوب گوشت کھاسکتے ہیں بچوں کے کپڑے بن سکتے ہیں میری سائیکل کے دونوں ٹائر نئے آسکتے ہیں کھڑکی کے ٹوٹے ہوئے شیشوں کی جگہ ئے لگ سکتے ہیں اور وہاں میرے شوز بھی ٹوٹ رہے ہیں پانچ ہزار میں بہت کچھ ہوسکتا ہے تم کہیں سے مجھے وہ کتے تلاش کردو․․․․․․“
ہاں تم ٹھیک کہتے ہو یرقان․․․․․․․ ان دنوں تو ہم مڈل کلاس کے لوگ جس قسم کی نوکریاں کرتے ہیں اس سے بہتر ہے کہ انسان کتے تلاش کرے․․․․․․ ایک ماہ میں دونہ سہی ایک کتا بھی اگر تلاش کرلیا جائے تو ڈھائی ہزار ہوجائے․․․․․“
اور جب گمشدہ کتے تلاش کرنے کی پریکٹس ہوجائے تو پھر انسان گمشدہ بچے تلاش کرنے لگے انھیں تلاش کرنے پر بھی تو انعام ملتا ہے اخباروں میں اشتہار آتے ہیں کہ یہ حلیہ ہے پاؤں میں چپل اور گھر سے سودا لینے کے لیے نکلا اور آیا نہیں ماں پریشان اور بیمار ہے․․․․“
نہیں نہیں گمشدہ بچے تلاش کرنا زیادہ منافع بخش کاروبار نہیں ہے اگر ہوتا تو بیگارکیمپوں کا وجود نہ ہوتا گمشدہ بچوں کو گم رکھنا اور کتوں کو تلاش کرنا منافع بخش ثابت ہوتا ہے․․․․․․“
اس کا مطلب یہ ہے کہ کتے بچوں سے زیادہ قیمتی ہوتے ہیں؟
دیکھو فرقان بھائی ساری بات پیار اور محبت کی ہے․․․․․․ کسی کے کے کتے گم ہوجائیں تو وہ انھیں تلاش کرنے کے لیے پانچ ہزار کاانعام رکھ دیتا ہے اور بہت اچھی بات ہے لیکن جب کبھی ہمارے بچے گم ہوجاتے ہیں تو ہم صرف یہ اشتہار دیتے ہیں کہ ماں باپ بہت پریشان ہیں اس لیے بچہ تلاش کردیں․․․․ انعام کوئی نہیں ہوتے۔


کبھی تم نے سوشا کہ ان کے پاس انعام دینے کے لیے کچھ ہوتا نہیں․․․․․فرض کرو ہم میں کسی کا بچہ گم ہوجائے تو وہ انعام کہاں سے دے گا۔
ہاں کتا تو گم ہونا افورڈ کرسکتا ہے لیکن بچہ نہیں․․․․․“
بات کہیں اور نکلا گئی․․․․․․․ بہرحال میں تو آج صبح سے کتے تلاش کرنے کے لیے گھر سے نکلا ہوا ہوں․․․․ فرقان میرے ذہن میں ایک شاندار سکیم آئی ہے اور وہ یہ کہ اگر ہم سے کوئی ایک بھونکنا شروع کردے اور ہم میں ست کوئی ایک اسے بطور کتا پیش کرکے انعام حاصل کرے اور بعد میں بانٹ لے تو کیسارہے۔


نہیں نہیں انھیں فوراََ پتہ چل جائے گا کہ یہ کتا نہیں انسان ہے انسان تلاش کرنے پر تمھیں کچھ نہیں ملے گا۔
بھوں․․․․․․ بھوں․․․․․․ وف وف ․․․․․․․ بھوں بھوں․․․․“
ارے یرقان بھائی یہ تمھیں کیا ہوگیا․․․․․․ ہوش کرو تم انسان ہوکہ بھونک رہے ہو لوگودوڑواپنے یرقان بھائی․․․․․ کتے․․․․․پاگل خانے گئے․․․․․․․ گئے!

Your Thoughts and Comments