Taleem Ya Information

تعلیم․․․․ یا انفارمیشن

جمعرات مارچ

Taleem Ya Information
حافظ مظفر محسن:
ابراہیم لنکن ․․․․سابق امریکی صدر نے کہا تھا کہ علم ڈگریوں کا محتاج نہیں۔ موجودہ دور میں کمپیوٹر کی آمد اور کتاب سے دوری نے کچھ نئے سوالات کو جنم دیا ہے ۔ کہ کیا․․․․․ہرڈگری والے کے پاس علم ہوتا ہے کیا تعلیم آج کے دو ر میں چلنے والی مشہور عام اصطلاع ” انفارمیشن“ کا دوسرا نام رہ گیا ہے کیاکمپیوٹر وہ کام کر رہا ہے جو کہ کتاب سے لیا جاتا رہا ہے اکبربادشاہ نے کمپیوٹر کے بغیر ہی پچاس سال تک برصغیر پر حکومت کی۔

یہ وہ سوالات ہیں جو دانشور طبقہ سوچ رہا ہے جن پر غور کررہا ہے اور کچھ سمجھنے سے قاصر ہے۔ بہت سے بڑے عہدوں پر موجود کچھ لوگ محض اس لئے ملک چھوڑ کر بھاگ گئے کہ مخبری ہو جانے پر جب ان کی ڈگریاں چیک ہوئیں تو جعلی نکلیں۔

(جاری ہے)

کچھ لوگوں نے ڈگریاں حاصل کر لینے کا تکلف نہیں کیا مگر علم کا سمندر ثابت ہوئے۔ بابا بھلے شاہ رحمتہ اللہ علیہ خوا جہ غلام فرید رحمتہ اللہ علیہ‘ خوشحا ل خان خٹک رحمتہ اللہ علیہ استاد دامن وغیرہ کاکلام آج بھی زبان زد خاص وعام ہے۔

ان پرمقالے لکھے گئے۔ ان کے کام پر ریسرچ ہورہی ہے۔ احسان دانش باقاعدہ عمارتیں بنانے والے کے ساتھ بطور مزدور کام کرتے رہے ہیں۔ ایک عالم دین جو اکہ اللہ والے تھے اور نہایت سادہ طبیعت رکھتے تھے ان کے بیٹے نے آٹھ سال میں دو سال میں ہوجانے والی ایم اے کی ڈگری حاصل کی اور باپ پھر بھی مطمئن تھا۔ ہمارے دور مین بچے بظاہر لحاف میں بیٹھے موٹی موٹی کتابیں پڑھ رہے ہوتے تھے مگر اصل میں کوئی فلمی رسالہ پڑھنے میں رات دیر تک مگن رہتے تھے اور گھروالوں کو یوں لگتا ہے کہ بیٹھا علم کے سمندر میں غرق ہوا ہے۔

مائیں دودھ کے گلاس چپکے سے پاس رکھ جاتیں کہ بچہ ڈسٹرب نہ ہواور پڑھائی میں خلل نہ پڑے۔ آج اسی طرز کمپیوٹرکھولے۔بچہ دیگر مشاغل میں مصروف ہوتا ہے مگر ماں باپ سمجھ ہوتے ہیں کہ بچہ کمپیوٹر پر تعلیم حاصل کرنے میں مگن ہے ۔ رات تین بجے تک طریقہ کاربدل گیامگر اندازوہی ہے۔ پہلے نوجوان شعروں سے بھرے اپنے خون سے لکھے خطوط ادھر سے ادھر کیا کرتے تھے۔

اس دور میں بھی قصاب کی دوکان سے بکرے کا خون دھوکے باز عاشقوں کے کام آجاتا تھا اور آج SMSکے ذریعے یہ دھوکے بازیاں ہورہی ہیں اور رنگین فوٹو کاپی یا کلرپرنٹر کے ذریعے مقاصد حاصل کئے جارہے ہیں۔ لوگ اس دور میں بھی دھوکہ کھاتے تھے لوگ آج بھی دھوکہ کھانے کو تیار ہیں۔
اب انفارمیشن ٹیکنالوجی کی باتیں ہیں” مار نہیں پیار“ کاحکم بھی جاری ہوچکا ہے اور انٹری ٹیسٹ کی سہولت “ بھی موجود ہے اورلوگ اس سہولت سے بے بہافائدے اٹھا رہے ہیں․․․․․ جی ․․․ کیا فرمایا۔

کچھ لوگ آنسو بہارہے ہیں۔ یہ توازل سے ہوتا ہے؟
فہیم انور چغتائی اور درمحمد شاہ آف تلمبہ نے چنددن پہلے تلمبہ میں موجودہ قلعہ جو کہ فاتح عالم سکنداعظم المروف الیگزینڈردی گریٹ کی موت کاباعث بنادکھایا۔ مشہور عالم قصبہ تلمبہ میں سکندراعظم نے ہٹ دھری کے باعث اس قعلہ کی فیصل پر ہرحال میں چڑھنا چاہا مگرتیر کھاکر گر اور زخمی ہوگیا زہر آلودہ تیرنے کام دکھایااور سکندراعظم ابدی نیند سوگیا۔

اس دور میں جب کاغذ قلم بھی ابھی شائد صحیح حالت میں نہ تھے۔ یونان سے اٹھنے والا یہ شخص کہ جسے عظیم فلسفی کی صحبت حاصل ہوئی دنیا کو فتح کرنے کے مشن پر روانہ ہوا اور سکندر اعظم اصل میں اکبر بادشاہ سنا ہے (دل نہیں مانتا) ان پڑھ تھا مگر اس کے گرد اس کے نورتن موجود تھے جنہوں نے اسے نئے مذہب کی ایجاد پر اکسایا اور ” دین الٰہی“ بنوایا۔

یہ ابو الفضل اور فیضی کا کما تھا یا پھر اکبر کے اتالیق بیرم خان وغیرہ کی کوششوں سے یہ سب ہوا۔
پھر انڈیا کا موجودہ صدر عبدالکلام لے لیں یاڈاکٹر عبدالقدیرخان کو دیکھ لیں کہ جنہو ں نے کیا سے کیا کر دیا۔
اصل میں یہ سب اللہ کی عطا کردہ ذہانت کاکمال ہے․․․․ اچھے استاتذہ کی صحبت کا اثر ہے اور یا پھریوں کہہ لیں کہ بہت زیادہ علم حاصل کرلینے کی شدید خواہش ہے کہ جس کے باعث لوگ علم کی معراج تک پہنچ جاتے ہیں۔

ارسطو ‘ بوعلی سینا‘ سقراط‘ افلاطون‘ علامہ اقبال رحمتہ اللہ علیہ وغیرہ کے نام سامنے رکھیں قدموں کی تقدیر بدل دیں ان لوگوں نے ․․․․․ آپ کہیں گے کہ ان فلسفہ ‘ سائنس‘ کیمیا کے عالموں میں منطق کی معراج پر پہنچنے والوں میں حضرت علامہ اقبال کانام کیسے شامل ہوا۔
این میری شمل آف جرمن کولے لیں۔ وہ اقبال کو ایک عظیم الشان فلسفی ‘ مفکر اور عالم تسلیم کرتی ہیں۔

پھر اس گزری صدی کے بہت بڑے بڑے انقلابات کو دیکھ لیں۔ ایران کا اسلامی انقلاب کہ جس کے روح رواں حضرت علامہ آیت اللہ خمینی تھے۔ امام خمینی نے فرمایا کہ میں نے انقلاب کا فلسفہ حضرت علامہ اقبال رحمتہ اللہ علیہ کی تعلیمات اور شاعری سے حاصل کیا۔
گویا․․․․ ڈگریاں عالم نہیں بناتیں علم حاصل کرلینے سے ہی عالم بنتا ہے۔ ٹاٹ پر بیٹھ کر پڑھنے والوں تک بھی علم اسی انداز میں پہنچ رہا ہے۔

ہم نے الف انار‘ ب بکری پڑھا ہے اور مقابلے کے امتحان پاس کئے۔ ہمیں جم جانے کی سہولت میسر نہ تھی مگر آئی ایس ایس بی میں کامیابی حاصل ہوئی۔ گویا․․․․ آج تعلیم کو انفارمیشن کانام دیا جارہاہے۔ انفارمیشن ٹیکنالوجی کے چرچے عام ہیں۔ مگر دیکھنا یہ ہے کہ انفارمیشن کاحصول․․․․ علم کے حصول کا ہی دوسرا نام ہے۔ یاتعلیم کوئی علیحدہ چیز ہے اور انفارمیشن علیحدہ۔ ماں باپ اس بارمیں فکرومند ہیں؟

Your Thoughts and Comments