Tamatar

ٹماٹر

ہفتہ اپریل

Tamatar
عدالت کتنی سٹرانگ ہوتی ہے اس کا اندازا آپ ٹماٹر سے لگالیجئے ۔ ٹماٹر10مارچ 1893ء تک پوری دنیا میں فروٹ تھا۔ سپریم کورٹ کا ایک حکم آیا اور ٹماٹر پوری زندگی کیلئے سبزی بن گیا۔ اس دلچسپ کیس کی بیک گراؤنڈ کچھ یوں ہے کہ اٹھارہ سو تراسی میں امریکن کانگریس نے ٹریف ایکٹ 1883ء جاری کیا۔ اس ایکٹ کے تحت حکومت نے امریکا درآمد ہونے والی تمام سبزیوں پر دس فیصد ڈیوٹی لگا دی اس وقت جان ڈبلیو نکس نام کا ایک تاجر لیٹن امریکا سے سبزیاں اور فروٹ نیویارک درآمد کرتا تھا
وہ ٹماٹر بھی منگواتا تھا ایک دن کسی بات پر اس کا نیویارک پورٹ کے ٹیکس کلیکٹر ایڈورڈ ہڈن کے ساتھ جھگڑا ہو گیا۔

ہڈن نے انتقاماًاس کے ٹماٹر کو سبزی ڈکلیئر کر دیا اوراس پر دس فیصد ڈیوٹی لگا دی۔ نکس ہڈن کے خلاف عدالت میں دعویٰ دائر کر دیا نکس کا کیس تقریباً دس سال تک چھوٹی عدالتوں میں چلتا رہاوہاں سے یہ کیس 24اپریل 1893ء میں سپریم کورٹ پہنچااس وقت مل ویل فولر امریکن سپریم کورٹ کے چیف جسٹس تھے چیف جسٹس نے جان نکس اور ایڈورڈ ہڈن دونوں کو طلب کر لیا۔

(جاری ہے)

ایڈورڈ ہڈن سے پوچھا گیا تم بتاؤ تم ٹماٹر کو سبزی کیوں کہہ رہے ہو ہڈن نے جواب دیا جناب عالی ٹماٹر سبزیوں میں پیدا ہوتا ہے جان نکس سے پوچھا گیا۔اور تم اسے فروٹ کیوں کہہ رہے ہوجان نکس نے عدالت میں ان تمام ڈکشنریوں اور انسائے کلو پیڈیاز کا ڈھیر لگا دیا جن میں ٹماٹر کو پھل قرار دیا گیا تھا۔ جان نکس نے بوٹینیکل رپورٹ بھی پیش کر دی۔ نباتاتی یعنی بوٹینکلی ٹماٹر واقعی پھل تھا۔

عدالت نے یہ دلچسپ کیس سنا اور آخر میں ٹماٹر کو سبزی ڈکلیئر کر دیا۔ یہ کیس جس وقت عدالت میں زیر سماعت تھا اس وقت اٹارنی جنرل نے ٹریف ایکٹ 1883کو پوری طرح ڈیفنڈ کرنے کی کوشش کی لیکن عدالت نے ٹماٹر کو پھل کی جگہ سبزی کا سٹیٹس دے دیا ۔ آج ٹماٹر بوٹینکلی یا سائنسی لحاظ سے پھل ہے لیکن یہ آج پوری دنیا میں سبزی سمجھا جاتا ہے کیوں؟ کیونکہ عدالت نے اسے سبزی قرار دے دیا ہے ۔
یہ فیصلہ عدالت کی سپرمیسی کو ثابت کرتا ہے اور پکار پکار کر اعلان کرتا ہے پارلیمنٹ ہووزیراعظم ہو صدر ہو
یا پھر خلیفہ وقت ہو یہ سب لوگ یہ ادارے قانون اور عدالت کے سامنے کمزور ہوتے ہیں۔

Your Thoughts and Comments