Taqseem

تقسیم

منگل اگست

Taqseem

ایک آدمی نے اپنے لیے لکڑی کا بڑا صندوق منتخب کیا جب اسے اٹھا نے لگا تو وہ جگہ سے ایک انچ بھی نہ ہلا ۔ایک شخص نے جسے شاید اپنے مطلب کی کوئی چیز نہ مل رہی تھی صندوق کو اٹھانے کی کوشش کرنے والے سے کہا ۔” میں تمہاری مدد کروں ؟“ صندوق اٹھانے کی کوشش کرنے والا امداد لینے پر راضی ہوگیا ۔اس شخص نے جسے اپنے مطلب کی کوئی چیز مل نہیں رہی تھی ۔

اپنے مضبوط ہاتھوں سے صندوق کو جنبش دی اور اٹھا کر اپنی پیٹھ پر دھر لیا ۔دوسرے نے سہارا دیا ۔دونوں باہر نکلے ۔صندوق بہت بوجھل تھا ۔اس کے وزن کے نیچے اٹھانے والے کی پیٹھ چٹخ رہی تھی ۔ٹانگیں دوہری ہوتی جارہی تھیں مگر انعام کی تو قع نے اس جسمانی مشقت کا احساس نیم مردہ کر دیا تھا ۔صندوق اٹھانے والے کے مقابلے میں صندوق کو منتخب کرنے والا بہت کمزور تھا ۔

(جاری ہے)

سارا راستہ وہ صرف ایک ہتھ سے سہارادے کر اپنا حق قائم رکھتا رہا ۔جب دونوں محفوظ مقام پر پہنچ گئے تو صندوق کو ایک طرف رکھ کر ساری مشقت برداشت کرنے والے نے کہا ۔” بولو “ اس صندوق کے ما ل میں سے مجھے کتنا ملے گا ۔صندوق پر پہلی نظر ڈالنے والے نے جواب دیا ۔” ایک چو تھائی “ ”بہت کم ہے “ ” کم بالکل نہیں زیادہ ہے ․․․․․ اس لیے کہ سب سے پہلے میں نے ہی اس پر ہاتھ ڈالا تھا “ ” ٹھیک ہے ‘ لیکن یہاں تک اس کمر توڑ بوجھ کو اٹھاکر لایا کون ہے ؟“ ” آدھے آدھے پر راضی ہو ؟“ ” ٹھیک ہے ․․․․․کھول صندوق “ صندوق کھولا گیا تو اس میں سے ایک آدمی باہر نکلا ۔ہاتھ میں تلوار تھی ۔باہر نکلتے ہی اس نے دونوں حصہ داروں کو چار حصوں میں تقسیم کردیا ۔

Your Thoughts and Comments