Tarjuma Kara Lijiyey Taqreer Likhwa Lijiye

ترجمہ کرالیجیے‘تقریر لکھوالیجیے سودا منگوالیجیے،،،،،،،

جمعہ دسمبر

Tarjuma Kara Lijiyey Taqreer Likhwa Lijiye

ابنِ انشاء:
یہ زمانہ کمپیوٹر کا ہے ترقی یافتہ ملکوں میں ہر کام کمپیوٹر سے لیا جانے لگا ہے لوگ یہ تک کمپیوٹر سے پوچھتے ہیں کہ آج نہائیں کیا نچوڑیں کیا سنا ہے نہانا ہو تو کمپیوٹر صابن لگا لگا کر اورمل مل کر نہلا بھی دیتا ہے گھر کی بی بیاں بھی کمپیوٹر ہی سے پوچھتی ہیں کہ آج کون سی سبزی پکائی جائے بھنڈی یا کریلے آپ کو فرصت نہ ہو تو کمپیوٹر سبزی بھی لادیتا ہے پکاریندھ کے آپ کے سامنے بھی رکھ دیتا ہے جھاڑو بہارو بھی کردیتا ہے ایک طرح سے مغربی معاشرے میں اب مردوں کی سرے سے ضرورت نہیں مردان ہی کاموں کے لیے تو ہوتے ہیں۔

ہمارے ہاں فی الحال ابتدا ہے ہمارے ٹیلی فون کے محکمے والے بل خود بنانے کے بجائے کمپیوٹر سے بنواتے ہیں نتیجہ یہ کہ پہلے ہمارے بل میں صرف کالوں کا خرچا شامل ہوتا تھا اب کمپیوٹر کا خرچا بھی شامل ہوگیا ہے ایک صاحب کی تحقیق یہ ہے کہ کچھ کالیں ہم کرتے ہیں زیادہ کالیں ہمارے نمبر سے خود کمپیوٹر کرتا ہے لاہور کی ایک صاحبہ نے ایک رسالے میں ایک مضمون لکھا ہے جس سے اس کی تصدیق ہوتی ہے لکھتی ہیں کہ ہم نے بلوں سے تنگ آکر ٹیلی فون کرنا ہی چھوڑدیا۔

(جاری ہے)

پڑوس میں ایک رشتے دارخاتون رہتی ہیں اشد ضرورت کے لیے بھی ان ہی کے ہاں جاکر فون کرتے رہے لیکن بل وہی ڈھائی سو روپے تین سو روپے شکایت کرو تو جواب یہی کہ ہماری مشین غلطی تھوڑاہی کرسکتی ہے یہ انسان تھوڑا ہی ہے۔کمپیوٹر جسمانی کارہی نہیں کرتا دماغی کام بھی کرتا ہے اب تو اس قسم کے کمپیوٹر بھی ایجاد ہوگئے ہیں جن سے آپ ترجمہ کرالیجیے نظم لکھوالیجیے فلم کے لیے چربہ کہانی اور اخبار کے لیے چربہ کام تک لکھ دیتے ہیں انہیں کسی کالم نگار کا ایک کالم ایک بار سنگھادو اس کے بعد ایسے ہی فقرے ویسی ہی چھوٹی بڑی لائین ویسے ہی عنوانات لے لو کھٹ کھٹ کھٹا کھٹ اب رہا اصل اور نقل میں ذائقے کا فرق اور تاثر کا فرق سو آج کل زمانے کا مذاق یہ چل رہا ہے کہ بچے کو اصل گھی کھلاؤ تو یہ مامتا کے منافی سمجھاجاتا ہے سچ مچ کی مامتا کا ثبوت دینے کے لئے کسی نہ کسی بناسپتی گھی کی سند لاتے ہیں۔

مشہور امریکی مزاح نگار آرٹ بخوالڈ کا کہنا ہے کہ امریکہ کے صدر نکسن بھی اپنی تقریریں خود تھوڑی لکھتے ہیں کمپیوٹر سے لکھواتے ہیں پچھلے دنون کمبوڈیا میں فوجیں بھیجیں تو ضرورت پڑی کہ لوگوں کو سمجھانے کے لیے ایک مدلل بیان دینا چاہیے کمپیوٹر کو اس قسم کے بیانات کا پرانا تجربہ ہے ویت نام میں مداخلت کے وقت بیان دیے گئے کیوبا میں مداخلت کے وقت دیے گئے،ڈومینکسن ری پبلک میں مداخلت کے وقت دیے گئے پس صدر نکسن کے سیکریٹری نے کمپیوٹر کا بٹن دبایا اورجوابات رقم ہونے شروع ہوگئے،سوال کیا گیا کہ ہم امریکہ سے ہزاروں میل دور فوجیں کیوں بھیجا کرتے ہیں؟ترنت جواب آیا اپنی نظریاتی سرحدوں کی حفاظت کے لیے۔


سوال:کمبوڈیا میں ہم نے مداخلت کیوں کی ہے؟“
جواب:جنوبی ویت نام میں جمہوری راج قائم کرنے کے لیے۔“
سوال:شمالی ویت نام نے کس چیز کی خلاف ورزی کی ہے؟
جواب:کمبوڈیا کی غیر جانبداری کی۔
امریکی عوام کو کیا کہہ کر پر چایا جائے؟“
جواب:یہ کہ یہ موقع امریکی عوام کی حب الوطنی اورعزم وہمت کے امتحان کا ہے۔


سوال:مزید کچھ ارشاد ہو؟“
جواب:”ہاں یہ اضافہ کردیجیے کہ ہم جارحیت کا ڈٹ کرمقابلہ کریں گے امریکی عوام سیسہ پلائی دیوار بن جائیں گے ہم ہر محاذ پر آگے بڑھ رہے ہیں آزادی اور جہموریت۔“کمپیوٹر کے متعلق یہ بات ہمارے قارئین کرام معلوم ہوگی کہ اس میں جو کچھ ڈالو وہی موقع محل کے لحاظ سے نکلتا ہے تقریریں لکھوانے والے کمپیوٹروں میں ہر موقع کی سیاسی تقریریں سیاسی بیانات ادبی تقریریں معاشرتی تقریریں تجارتی تقریریں وغیرہ بھری رہتی ہیں آپ کو اگر تجارتی تقریر کرنی ہے جس میں سامعین صرف بنیے اور آڑھتی ہیں اور ساڑھے چار منٹ کی تقریر چاہیے تو مطلوبہ بٹن دبادیجیے آپ کی دلی مراد کھٹ سے پوری ہوجائے گی ادبی تقریروں کا بٹن دوسرا ہے ہمیں معلوم ہوا ہے کہ اس قسم کے کمپیوٹر ہمارے ملک میں بھی آگئے ہیں اور اس کی ضرورت بھی تھی کیونکہ ہم مسلسل ترقی کررہے ہیں پچھلے مڑکر دیکھنے کی بھی مہلت نہیں قباحت صرف یہ ہے کہ،،،،،خیر ہم بات کو مثال دے کر واضح کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔

پچھلے ہفتے انجمن عرائض نویسیاں ضلع کچہری کی سالانہ کانفرس تھی ہمیں صدارت کرنے کی دعوت دی گئی ہمیں مختصر طور پر یہ تو معلوم تھا کہ ان لوگوں کے کچھ مسائل اور مطالبے ہیں لیکن ان کا حل کیا تجویز کریں یہ نہیں معلوم تھا آخر ایک صاحب نے کمپیوٹر کی سجھائی یہ کمپیوٹر تقریریں لکھوانے والا سب سے بڑا کمپیوٹر ہے آج کل جتنی بھی تقریریں آپ جلسوں میں سنتے ہیں اخباروں میں دیکھتے ہیں اسی کمپیوٹر کی لکھی ہوئی ہیں ہم نے بٹن دباکر کہا۔


میاں کمپیوٹر !السلام علیکم۔مزاج شریف؟“
جواب آیا فضول باتیں مت کیجیے سوال کیجیے۔“
ہم نے کہا عرائض نویسوں کی حالت کیسے بہتر ہوسکتی ہے۔“
جواب۔“نظریہ پاکستان کی حفاظت کیجیے۔
سوال:یہ لوگ دھوپ میں بیٹھے ہیں کچہری میں سایہ دار جگہ نہیں اس کا حل؟“
جواب:پاکستان میں کوئی ازم نہیں چلے گا۔


سوال:کارپوریشن والے عرائض نویسیوں کو تنگ رہتے ہیں ان کو روکنے کی کوئی سبیل۔“
جواب:نظریاتی سرحدوں کی حفاظت۔“
سوال:اے میاں کمپیوٹر سوال از آسمان جوان ازریسماں۔“
جواب:(قطع کلام کرتے ہوئے)میں فارسی کا کمپیوٹر نہیں ہوں اردو بولیے۔“
سوال:آخر عرائض نویس کیا کریں کہاں جائیں؟
جواب:تو شاہیں ہے بسیرا گر پہاڑوں کی چٹانوں میں۔


سوال:میاں کمپیوٹر یہ تم نے پہلی بار برمحل جواب دیا ہے۔لیکن اس سے آگے کیا لکھیں خاصی لمبی تقریر کرنی ہے ہمیں؟“
جواب:لکھیے ہم طاغوتی طاقتوں کے خلاف سردھڑ کی بازی لگادیں گے سر سے کفن باندھ کرنکلیں کشتوں کے پُش پُش پُش پُش۔“معلوم ہوا کہ کوئی اسپرنگ ٹوٹ گیا بات ادھوری رہ گئی جوش میں آنے کا نتیجہ یہ ہی ہوتا ہے۔

Your Thoughts and Comments