Tay

ت

سہیل عباس خان پیر مئی

Tay
پیارے بچو ”ت“ سے ”تو“ ہوتی ہے، جس کا مطلب ہوتا ہے ”پھر“، تو پھر یعنی مجھے کیا۔ ”ت“ سے تُو بھی ہوتی ہے، جو تُو تُو مَیں مَیں میں استعمال ہوتی ہے۔ یہ پاکستان میں عام ہوتی ہے لیکن اس کا استعمال سامنے والے کو دیکھ کر کیا جاتا ہے۔ پاکستانی قوم اس معاملے میں جاپانیوں سے زیادہ سمجھ دار ہے، جاپانی اس معاملے میں ٹھنڈے گھڑے ہیں، گھڑا پہلے گھڑی ہوتی تھی، ایک پہر میں آٹھ گھڑیاں ہوتی تھیں، اس کی وجہ سے آٹھ پہر چونسٹھ گھڑیاں مشہور ہیں۔

پاکستان میں اب صرف ایک پہر ہوتا ہے، اسے دوپہر کہتے ہیں، وہی دن کو بھی ہوتا ہے اور رات کو بھی، رات کا دوپہر پہلے عاشقوں کے لیے ہوتا تھا، اب اس میں گھر والے بھی شریک ہیں، جس طرح کی عاشق آہ و زاری کرتے تھے وہی اب پورا ملک کرتا ہے لیکن اب محبوب کا نام بجلی ہے۔

(جاری ہے)

ویسے تو بجلی تیز طرار لڑکی کو کہتے ہیں۔ ایک گرنے والی بجلی بھی ہوتی ہے، اسے برق کہتے ہیں، چمکنے والی کو صاعقہ اور آواز والی بجلی چونکہ بادل کے اندر ہوتی ہے اس لیے اسے رعد کہتے ہیں۔


”ت“ پنجابی میں ”تو“ کی جگہ استعمال ہوتا ہے یعنی ”تو پھر کیا ہوا“ کو پنجابی میں ”ت فیر کیہ ہویا“ کہتے ہیں، یہ پاکستان کا عوامی نعرہ ہے، ہم میں بڑے سے بڑا صدمہ سہنے اور بڑی سے بڑی تکلیف اُٹھانے کا حوصلہ ہے، ہم کہتے ہیں ت فیر کیہ ہویا۔
ہمارے بعض آوارہ گرد حوصلہ کو ایک چیز کے نام سے بھی یاد کرتے ہیں۔
جاپانی لوگ جسے ”ہاء کاء“ کہتے ہیں وہ ہماری آوارہ گردی ہے اور ہماری مٹر گشت آپ کی ”آروکی موار“ ہے۔

لیکن آپ کی آوارہ گردی اور ہماری آوارہ گردی میں زمین آسمان کا فرق ہے، آپ لوگ اتنے مہذب ہیں جتنا نہیں ہونا چاہیے۔
مجھے اس مہذب پن سے گھٹن کا احساس ہوتا ہے، آپ پوچھیں گے گھٹن کیا ہوتی ہے تو جب پانچ بچوں کے ساتھ بغیر بجلی کے جب وہ نہ سو رہے ہوں، ایسے میں سونے کی کوشش کو گھٹن کہتے ہیں۔
پیارے بچو!!!
ایس ایم مظاہر نامی ایک جعلی پبلشر نے بھی ہماری طرح کا قاعدہ چھاپا ہے، آپ نقالوں سے ہوشیار رہیں، اور اصلی اور پرانا قاعدہ مجھ سے جاپانی ین میں خریدیں، پاکستان سے جو بچہ طلب گار ہو اُسے ڈالر میں ادائیگی کرنا ہوگی۔


لیکن بے چارے کیا کریں، وہاں تو رکشے بھی ڈالر کی تلاش میں ہوتے ہیں، جسے منشی اعظم نے ذاتی تجوری میں ایک دور جزیرے میں اس طرح قید کیا ہے جیسے شہزادی کو جن قید کرتا ہے۔

Your Thoughts and Comments