Teen Minute Main Daryaye Ravi Paar

تین منٹ میں دریائے راوی پار

پیر فروری

Teen Minute Main Daryaye Ravi Paar
حافظ مظفر محسن:
دوست: ” آپ کا شعری مجموعہ‘ کس نے چھایا۔
شاعر: جی میں نے خود چھاپا۔
دوست: کچھ بکابھی“
شاعر: کیوں نہیں ۔ میری سائیکل‘ گھڑی اور عینک بک گئی۔
دنیا میں ایک کتاب چھپتی ہے تو ہاتھوں ہاتھ بکتی ہے لوگ کتاب خریدتے ہیں اور عام طور پر پرسڑک پر بھی پڑھتے جاتے ہیں۔ یہ ان کی علم دوستی ہے اور کتاب سے تعلق کی بات ہے پھر ایک ایک کتاب کے کئی کئی ایڈیشن چھپتے ہیں اور شاعروں‘ ادیبوں کوبے حساب رائلٹی ملتی ہے۔

عزت اور شہرت اس کے علاوہ ہے۔ مگر ہمارے ہاں معاملہ بالکل مختلف ہے۔ کتاب چھپتی ہے مگر بہت کم تعداد میں بکتی ہے۔ شاعر بے چارے اس آس میں کسمپرسی میں (چند ایک کونکال کر) زندگی گزاردیتے ہیں کہ کب معاشرہ یا حکومت انہیں ان کا جائز مقام دے اور ان کے دن پھرجائیں۔

(جاری ہے)

(کچھ کااس انتظار میں دماغ پھر جاتا ہے) ۔
شاید 1985-4کی بات ہے کہ میری بچوں کیلئے نظموں کی کتاب” جاؤہواسویرا“ کے نام سے شائع ہوئی جس میں قومی نظمیں تھیں جوواقعی جذبہ حب الوطنی سے مزین تھیں اور میرے اساتذہ نے ان نظموں کی بے حدتعریف کی۔

میری اس کتاب کوراٹرزگلڈ نے ادبی انعام پانچ ہزار روپے سے نوازا جو کہ مجھے یونائیٹڈ ادبی انعام کے طور پر بنک کی طرف سے ملا۔ پاکستان کے سبھی اخبارات میں یہ خبر چھپی اور میری خاصی حوصلہ افزائی ہوئی مگر اس کے بعد شاید ایک دوبارہ میں نے ادبی کتابوں پر رائٹرز گلڈادبی ایوارڈز کی تفصیل اخبارات میں پڑھی مگر اس کے بعد یہ سلسلہ منقطع ہوگیااب بھی شاعر چھپ رہی ہے۔

نہایت معیاری اور قابل تقلیدوتعریف شاعری چھپ رہی ہے‘ گائی بھی جارہی ہے اور بہت سانیاکلام عوام میں خاصہ مقبول بھی ہے مگر حوصلہ افزائی کاسرکاری طور پر جاری کیاجانے والا یہ سلسلہ بند ہو چکا ہے۔ نہ جانے کیوں ؟ آپ کوئی انوکھی شرارت کریں ادارے موجود ہیں آپ کی حوصلہ افزائی کیلئے۔ آپ اپنی چھت سے بھی بڑی پتنگ بنائیں آپ کو بسنت کے موقع پر سونے کی پتنگ انعامم میں دی جائے گی۔

آپ ایک وقت میں تین چرغے‘ دس نان‘ بیس کباب‘ تین کھیرے‘ ایک تربوز کھائیں آپ کو انعام سے نوازا جائے گا (اگر ضرورت پڑی تومقابلہ کروانے والے علاج بھی کروائیں گے) آپ دریائے روای سردیوں میں بھاگ کرپار کریں (ویسے کان ادھرکریں۔ راز کی بات بتاؤں آپ بھی بھاگ کی تین منٹ میں دریائے راوی پارکرسکتے ہیں کیونکہ آج کل تووہ سوکھ کرنالہ بن گیا ہے) آپ کوانعاک سے نوازا جائے گا اور ایک تولیہ تحفے میں دیاجائے گا‘ تاکہ جوگرددریا بھاگ کرپار کرنے سے اڑ کرسر میں پڑے گی‘ گھر جا کر نہائیں‘ گردنکالیں اور انعام والے تولیہ سے سراور منہ وغیرہ صاف کریں۔

لاہور میں ہرسال ضلعی حکومت کے زیر اہتمام بکراعید کے موقع پر” کجلابکرا“ مقابلہ خوبصورت بکروں کے درمیان کرایا جاتا ہے۔
آپ ایک ہی سانس میں سگریٹ کی ڈبیہ پھونک ڈالیں آپ کو سگریٹ کوسونے کی ڈبیعہ انعام میں ملے گی اور اس انعامی ڈبیہ پر بھی لکھا ہوگا۔ سگریٹ نوشی دل کے مریض اور کینسر کاباعث بنتی ہے۔ حکومت پاکستان انوکھے سوال انوکھے جواب اور حوصلہ افزائی کابھی انوکھاانداز۔

حالات بدلتے جارہے ہیں۔ بے چارے کمپیوٹر پر الزام لگ رہاہے کہ اس نے لوگوں کوکتاب سے دور کردیا ہے حالانکہ ہم تو کتاب سے پہلے ہی دور ہوچکے ہیں پولیس والوں نے اور پٹواریوں نے سنا کرتے تھے کہ کرائے پر ریٹائرڈ بندے رکھے ہوتے ہیں جو انہیں انگریزی میں لکھے ہوئے آنے والے خطوط پڑھ کر سناتے ہیں اور پھر انگریزی کا جواب انگریزی میں لکھواتے بھی ہیں(معاوضہ لے کر) اب تو یہ کام بہت سے دوسرے محکموں میں بھی شروع ہوچکا ہے۔

یہ سب کتاب سے دوری کے باعث ہے۔ آپ حیران ہوں گے کہ اگر پڑھنے والوں کایہ حال ہے تو پھر ڈگریاں کہاں جارہی ہیں۔ میاں حیران نہ ہوں کتاب اور ڈگری کا آپس میں وہ تعلق نہیں رہا جو پہلے تھا۔ اب جو کتابیں اٹھائے پھرتا ہے ڈگری نہیں ہے۔ جس کاکتابوں سے کوئی خاص تعلق نہیں ڈگریاں اس کے پیچھے پیچھے ہیں اور نوکریاں بھی توایسے ہی لوگوں کے پیچھے پیچھے پھرتی ہیں۔

وجہ۔ آپ خود غور کریں عقلمند وہی ہے جو اس دن اپنے نظریات بدل لے جس دن کہ حکومت بدلتی ہے۔ کیونکہ بعد میں چھترول کے ذریعے۔ خیر جیسے تیسے بھی ہے آپ نے نظریات بدل تولینے ہی ہوتے ہیں۔ ویسے بھی یہ سیاسی تربیت کا حصہ ہے کہ آدمی جماعتیں بدلے‘ نظر یات بدلے‘ لیڈربدلے‘ تھانہ بدلے۔ دن میں بدلے‘ رات میں بدلے‘ ہمیں اس سے سروکار نہیں؟
بات شروع ہوئی تھی کتاب سے۔

سنا ہے راٹرزگلڈ جیسا ادارہ ‘ اکیڈمی ادبیات جیسا ادارہ یونیورسٹی گرانٹس کمیشن جیسا (اس ادارے نے بھی میری ایک کتاب کوانعام سے نوازا تھا مگریہ 1990سے پہلے کی بات ہے) اور نیشنل بک فاؤنڈیشن جیسا ادارہ موجودہ ہے مگر شاعروں ادیبوں کے لئے کسی قسم کی منصوبہ بندی کرنے سے یہ سب ادارے گھبراتے ہیں۔ نہ جانے کیوں؟ کچھ پرائیوٹ ادارے بہت چھوٹے پیمانے پر یہ کام کررہے ہیں نئی نئی کتابیں چھپ رہی ہیں اور کمال کاادب وجود میں آرہاہے۔

یہ ادب سلپبس کی کتابوں سے دوررہتا ہے۔ بڑے ڈراور خوف سے لکھارہاہوں کہ کیا آج کاشاعر اور ادیب وہ ادب تخلیق نہیں کررہا کہ جو نصاب کی کتابوں کی زینت بن کسے؟ یاشایداب کوئی پڑھنا ہی پسند نہیں پنجے گارھ رکھے ہیں۔ کاریں قسطوں پراور نہ جانے کیاکیا کچھ قسطوں پر۔ مگر کتاب اور کتاب والوں کی حوصلہ افزائی کے سب دروازے بن ہوچکے ہیں۔ رائٹرزگلڈ ادبی انعام پانچ بڑے بینک دیا کرتے تھے اب بیس سے زائد انٹرنیشنل سطح کے بینک موجود ہیں بند ہوچکے ہیں۔

شاید ہمیشہ کیلئے قوموں کوبچانے کیلئے تربیت کاعمل جاری رہنا نہایت ضروری ہے ریڈیوپاکستان ملتانکے ایک سنیئرپروڈیوسر سے بات ہو رہی تھی۔ عابد کمالوی صاحب نے چپکے سے کہہ دیا۔ بھائی بہت صدیوں سے آپ نے ریڈیوپر کوئی مشاعرہ نہیں کرایا؟ خوب قہقہہ لگا۔ مگران پروڈیوسر نے سرد آہ بھری اور بولے۔آخری مشاعرہ میں شاعر گتھم گٹھا ہوتے ہوتے بچے تھے کیونکہ کہتا تھا میں سنیئر اور نمبر ایک ہونے کے جھگڑوں میں ایک دوسرے کی چٹیا (آج کل اداروں کی چٹیا بھی دونمبر ہوتی ہے) خوب کھینچی ہیں مگر یہ سن کرشرمندگی ہوئی کہ شاعر لوگ بھی۔

مطلب یہ ہوا کہ ایک جیسی بیماریوں ہر محکمہ ہر شعبہ اور ہر سطح پر موجود ہیں؟ ووٹ کارواج توہر شعبے میں ختم ہوتا جارہاہے حکومت کو چاہیے کہ یہاں بھی ان اداروں میں مرضی کے افراد نامزد کریں اور جو اصلی شاعر اور ادیب ہیں ان کی فلاح ان کی حوصلہ افزائی اور اچھی کتاب اور نئی پڑھی لکھی نسل کے وجو میں لانے کیلئے رائٹرزگلڈ ادبی ایواڈز جیسا مفید سلسلہ نئے سرے سے شروع کرے تاکہ بے چارے شاعر اور ادیب اپنی بائیسکل‘ عینک اور گھڑی بیچ کرکتاب نہ چھپوائیں کہ اچھی طرح سمجھ لینا چاہیے کہ اچھی تحریر لکھنے والے کے خون پسینہ ایک کرنے کے بعد ہی وجود میں آتی ہے اور اگر سرکاری سطح پراچھی شاعری‘اچھی نثر اور اچھے انسانوں کی حوصلہ افزائی ہونا مزید بندرہے گی توپھر شاید آنیو الے دنوں میں شاعر شاید پنساری کی دکان کھولناپسند کریں۔

ادیب منیاری کی دکان کھول لے اور اچھے انسان تو ویسے ہی روپوش ہوتے جارہے ہیں۔ واصف علہ واصف ‘ بانوقدسیہ‘ اشفاق احمد‘ ممتاز مفتی‘ قدرت اللہ شہاب‘ احمد ندیم قاسمی‘ منیرنیازی‘ فیض احمد فیض‘ احمد فراز۔ یہ سب لوگ کتاب کے لوگ ہیں۔ یہ لوگ نسلوں کی تربیت کرتے ہیں۔ نسلوں کو صحیح سمت بتاتے ہیں۔ یہ لوگ نئی نسلوں کو غلامی کی اتھاہ گہرائیوں سے نکلنے کے گربتاتے ہیں۔ اگرہمیں ایسے مزید عالم فاضل لوگوں کی ضرورت ہے تو پھر ہمیں کتاب کو بچانا ہوگا۔ کتاب پھر ہی بچے گی اور اگرکتاب بچیں گے۔ کتاب اور کتاب والے حکومتی سرپرستی کے بغیر نہیں بچ سکتے۔

Your Thoughts and Comments